|
الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس ہندوستان کے آئی ٹی برآمدی نظام کو مضبوط بنانے اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے میں معاون ہیں
مالی سال26-2025 میں ایس ٹی پی یونٹس کی برآمدات 7.73 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 AUG 2026 11:49AM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی جناب اشونی ویشنو نے 12 اگست 2026 کو لوک سبھا میں بتایا کہ حکومت ہند نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کےشعبے کی توسیع اور ترقی کے لیے متعدد اقدامات اور پروگرام شروع کیے ہیں اور ملک بھر میں اس شعبے کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک (ایس ٹی پی)بھی اسی مقصد کے تحت شروع کی گئی ایک اہم اسکیم ہے۔
ایس ٹی پی اسکیم ہندوستان سے سافٹ ویئر اور معلوماتی ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے سو فیصد برآمدات پر مبنی اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے تحت سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا (ایس ٹی پی آئی) ایک ہی کھڑکی کے نظام کے ذریعے قانونی اور ضابطہ جاتی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران ایس ٹی پی یونٹس سے متعلق تفصیلات ذیل میں جدول کی صورت میں دی گئی ہیں:
| |
مالی سال 24-2023
|
مالی سال25-2024
|
مالی سال 26-2025
|
|
ایس ٹی پی یونٹس کی کل تعداد
|
2059
|
2042
|
2125
|
|
ایس ٹی پی یونٹس کی طرف سے رپورٹ کردہ کل سرمایہ کاری
(کروڑ روپے میں)
|
10,709.92
|
8,870.78
|
7,362.86*
|
|
ایس ٹی پی یونٹس کے ذریعے کل درآمدات (کروڑ روپے میں)
|
9,947.47
|
9,482.27
|
9,960.26*
|
|
ایس ٹی پی یونٹس کے ذریعے کل برآمدات (کروڑ روپے میں)
|
6,36,619.87
|
6,88,194.11
|
7,73,898.97*
|
*تخمینہ
ایس ٹی پی اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ایس ٹی پی یونٹس کی ریاست وار تفصیلات ان یونٹس کی جانب سے رپورٹ کی گئی سرمایہ کاری، نیز گزشتہ تین برسوں کے دوران ان کی برآمدات اور درآمدات کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران ایس ٹی پی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ ایس ٹی پی یونٹس کی ریاست وار تعداد
|
نمبر شمار
|
ریاست کانام/مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
33
|
30
|
31
|
|
2
|
آسام
|
1
|
2
|
2
|
|
3
|
بہار
|
1
|
-
|
-
|
|
4
|
چندی گڑھ
|
20
|
13
|
13
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
11
|
11
|
10
|
|
6
|
گوا
|
5
|
5
|
5
|
|
7
|
گجرات
|
38
|
37
|
37
|
|
8
|
ہریانہ
|
78
|
83
|
87
|
|
9
|
ہماچل پردیش
|
1
|
1
|
-
|
|
10
|
جموں و کشمیر
|
4
|
4
|
4
|
|
11
|
جھارکھنڈ
|
10
|
9
|
9
|
|
12
|
کرناٹک
|
393
|
381
|
391
|
|
13
|
کیرالہ
|
73
|
68
|
69
|
|
14
|
مدھیہ پردیش
|
21
|
23
|
24
|
|
15
|
مہاراشٹر
|
347
|
352
|
367
|
|
16
|
میگھالیہ
|
4
|
4
|
4
|
|
17
|
اوڈیشہ
|
112
|
117
|
132
|
|
18
|
پڈوچیری
|
5
|
5
|
5
|
|
19
|
پنجاب
|
36
|
37
|
39
|
|
20
|
راجستھان
|
21
|
23
|
23
|
|
21
|
تمل ناڈو
|
366
|
371
|
391
|
|
22
|
تلنگانہ
|
288
|
274
|
280
|
|
23
|
قومی راجدھانی خطہ دہلی
|
17
|
21
|
22
|
|
24
|
اتر پردیش
|
104
|
99
|
107
|
|
25
|
اتراکھنڈ
|
5
|
5
|
5
|
|
26
|
مغربی بنگال
|
65
|
67
|
68
|
|
|
|
2059
|
2042
|
2125
|
گزشتہ تین برسوں کے دوران ایس ٹی پی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ ایس ٹی پی یونٹس کی جانب سے ریاست وار کی جانے والی برآمدات اور درآمدات
(رقم کروڑ روپے میں)
|
نمبر شمار
|
ریاست کانام/مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26*
|
|
|
|
درآمد
|
برآمد
|
درآمد
|
برآمد
|
درآمد
|
برآمد
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
4.56
|
2325.7
|
5.53
|
4743.61
|
3.29
|
5057.15
|
|
2
|
آسام
|
-
|
-
|
-
|
1.01
|
-
|
0.65
|
|
3
|
چندی گڑھ
|
0.02
|
519.15
|
1.74
|
491.66
|
0.3
|
414.34
|
|
4
|
چھتیس گڑھ
|
-
|
64.29
|
-
|
71.66
|
-
|
75.93
|
|
5
|
گوا
|
0.02
|
141.73
|
-
|
49.43
|
-
|
81.21
|
|
6
|
گجرات
|
4.54
|
2,242.10
|
7.70
|
2,584.11
|
0.35
|
3,150.69
|
|
7
|
ہریانہ
|
184.59
|
24,409.54
|
153.11
|
24,938.34
|
132.33
|
26,885.28
|
|
8
|
جموں و کشمیر
|
-
|
15.14
|
-
|
16.07
|
-
|
19.55
|
|
9
|
جھارکھنڈ
|
-
|
33.77
|
-
|
26.03
|
-
|
30.41
|
|
10
|
کرناٹک
|
6,553.02
|
2,86,411.68
|
6,559.73
|
3,08,909.11
|
8,145.30
|
3,50,184.78
|
|
11
|
کیرالہ
|
15.02
|
4,019.85
|
21.60
|
4,299.83
|
26.69
|
3,447.61
|
|
12
|
مدھیہ پردیش
|
0.2
|
468.51
|
-
|
464.44
|
-
|
681.63
|
|
13
|
مہاراشٹر
|
1,111.66
|
1,26,560.73
|
1,109.27
|
1,42,088.85
|
40.44
|
1,62,594.11
|
|
14
|
میگھالیہ
|
0.87
|
123.78
|
-
|
148.99
|
-
|
147.54
|
|
15
|
اوڈیشہ
|
9.02
|
3,183.43
|
12.64
|
3227.13
|
5.36
|
3,492.42
|
|
16
|
پڈوچیری
|
1.67
|
169.29
|
-
|
195.17
|
1.6
|
207.78
|
|
17
|
پنجاب
|
3.36
|
1267.34
|
0.03
|
1522.43
|
-
|
1623.02
|
|
18
|
راجستھان
|
2.71
|
1798.65
|
2.16
|
1910.9
|
2.34
|
2072.05
|
|
19
|
تمل ناڈو
|
476.14
|
50,496.25
|
617.93
|
51,536.55
|
529.39
|
60,591.28
|
|
20
|
تلنگانہ
|
922.16
|
96,269.05
|
746.43
|
1,01,570.02
|
887.81
|
1,13,101.83
|
|
21
|
قومی راجدھانی خطہ دہلی
|
-
|
894.18
|
-
|
810.88
|
1.12
|
652.08
|
|
22
|
اتر پردیش
|
148.87
|
25,823.88
|
218.82
|
28,901.73
|
159.84
|
28,442.69
|
|
23
|
اتراکھنڈ
|
-
|
48.82
|
-
|
58.07
|
-
|
56.68
|
|
24
|
مغربی بنگال
|
49.04
|
9,333.01
|
25.58
|
9,628.09
|
24.10
|
10,888.26
|
|
|
|
9,487.47
|
6,36,619.87
|
9,482.27
|
6,88,194.11
|
9,960.26
|
7,73,898.97
|
*تخمینہ
ایس ٹی پی آئی، ایس ٹی پی اسکیم کے تحت منظوریوں اور خدمات کی فراہمی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی کرتا ہے، جیسا کہ اس کے شہریوں کے منشور میں درج ہے، جو اس کی ویب سائٹhttps://stpi.in/en/citizens-charter. پر دستیاب ہے۔
سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا (ایس ٹی پی آئی)نے ایس ٹی پی یونٹس کے لیے منظوری کے عمل کو آسان بنانے اور کاروبار کرنے میں سہولت کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- قانونی اور ضابطہ جاتی خدمات کی خودکاری: آئی ٹی برآمد کنندگان کو بلاتعطل خدمات فراہم کرنے کے لیے سافٹیکس فارم جمع کرانے، اس کی منظوری اور متعلقہ فریقوں کو حتمی اطلاع دینے سمیت قانونی اور ضابطہ جاتی خدمات کو خودکار بنا دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے خدمات کی تیز رفتار فراہمی یقینی ہوئی ہے اور آئی ٹی صنعت کو بھی اس سے اطمینان حاصل ہوا ہے۔
- آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا کے برآمدی اعداد و شمار کی پروسیسنگ اور نگرانی کے نظام سے انضمام: آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے ایس ٹی پی آئی کے آن لائن نظام کو ریزرو بینک آف انڈیا کے برآمدی اعداد و شمار کی پروسیسنگ اور نگرانی کے نظام سے مربوط کیا گیا ہے۔ تاکہ برآمدی اعداد و شمار کا تبادلہ کیا جا سکے۔ اس انضمام کے ذریعے برآمدی اعلانات سے متعلق اعداد و شمار تقریباً حقیقی وقت میں الیکٹرانک طور پر ریزرو بینک آف انڈیا کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اس سے برآمدی اعداد و شمار کے تیز تر تبادلے، درستگی اور شفافیت میں اضافہ، دستی مداخلت میں کمی، برآمدی لین دین کی بہتر نگرانی اور آئی ٹی و آئی ٹی سے متعلق خدمات کے برآمد کنندگان کے لیے ضابطہ جاتی تقاضوں کو آسان بنانے میں مدد ملی ہے۔
- درآمدی طریقۂ کار کو آسان بنانا: پہلے ہر درآمد کے لیے الگ الگ اجازت حاصل کرنے کا طریقہ رائج تھا۔ جسے ختم کرکے متعلقہ مالی سال کے لیے جامع درآمدی اجازت کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
- ملکی ٹیرف علاقے میں فروخت کے لیے خود اقراری: ایس ٹی پی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ یونٹس کے لیے ملکی ٹیرف علاقے میں فروخت سے قبل پیشگی اجازت حاصل کرنے کی شرط ختم کرکے خود اقراری جمع کرانے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ تاہم آپریشن کے پہلے سال میں پیشگی ملکی ٹیرف علاقے میں فروخت اس سے مستثنیٰ ہے۔
***
ش ح ۔م ح ۔ع ن
U. No. 2082
(ریلیز آئی ڈی: 2299334)
|