سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال :بایو ای تھری پالیسی کے ماحولیاتی نتائج
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 2:06PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)اور وزیر مملکت وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمۂ جوہری توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت محکمۂ بایوٹیکنالوجی نے بایو ای تھری (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایوٹیکنالوجی) پالیسی کے تحت حیاتیاتی بنیاد پر تیار کیے جانے والے ایسے متبادل مصنوعات کی حیاتیاتی تیاری اور ان کی پیداوار میں توسیع کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے ہیں جو معدنی ایندھن پر مبنی خام مال اور مصنوعات کی جگہ لے سکیں۔ ان اہداف کا تعین پیداوار کے پیمانے، پیداواری صلاحیت اور ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔ محکمۂ بایوٹیکنالوجی نے معدنی ایندھن پر مبنی خام مال کی درآمد پر انحصار کم کرنے کے مقصد سے حیاتیاتی تیاری کے حل تیار کرنے والے منصوبوں کی بھی معاونت کی ہے۔ محکمۂ بایوٹیکنالوجی کی جانب سے شروع کیے گئے ڈیجیٹل پورٹل ’’سوجیویکا‘‘ کے ذریعے بایوٹیکنالوجی سے متعلق درآمدات کے اعداد و شمار دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ پورٹل درآمدی اعداد و شمار کی بنیاد پر مقامی طور پر تیار کیے جانے والے حیاتیاتی مصنوعات کی شناخت میں سہولت فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد ’’آتم نر بھر بھارت‘‘ کے تحت ملکی پیداوار کو فروغ دینا اور درآمد شدہ کیمیکلز، مواد اور معدنی ایندھن سے حاصل کردہ کیمیکلز، مواد اور ایندھن سمیت مختلف اشیا پر انحصار کم کرنا ہے۔
محکمۂ بایوٹیکنالوجی نے زرعی باقیات، شہری نامیاتی کچرے اور صنعتی حیاتیاتی کچرے کو صنعتی استعمال کے لیے جدید ایندھن، کیمیکلز اور مواد میں تبدیل کرنے سے متعلق تحقیقی، آزمائشی پیمانے اور عملی مظاہرے کے منصوبوں کی معاونت کی ہے۔ ان اقدامات میں مختلف اقسام کے حیاتیاتی خام مال کے مؤثر استعمال کے لیے بایوماس کی ابتدائی تیاری، حیاتیاتی محرکات، انتہائی چھوٹےجانداروں پر مبنی حیاتیاتی عمل اور مربوط حیاتیاتی ریفائنری پلیٹ فارم کے لیے مقامی ٹیکنالوجیز کی تیاری پر توجہ دی گئی ہے تاکہ حیاتیاتی تیاری کی پوری قدر کی زنجیر میں پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت نے تکنیکی ماہرین کی کمیٹیوں، موضوعاتی ماہر گروپوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ متعدد مشاورتوں کے ذریعے ایسی ممکنہ حیاتیاتی تکنیکی مداخلتوں اور ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا ہے جو ہندوستان کے کاربن اخراج میں کمی اور خالص صفر اخراج کے عزم کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
بایو ای تھری(معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایوٹیکنالوجی) پالیسی کو متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے درمیان بین الوزارتی رابطہ کاری کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ تاکہ باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دیا جا سکے۔ حکومت کے جامع اور ہمہ گیر نقطۂ نظر کو اپناتے ہوئے، محکمہ بایو ای تھری پالیسی کے دائرۂ کار میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔ اس کا مقصد حیاتیاتی معاون نظام، جیسے بایو فاؤنڈریز اور بایو اے آئی ہبز کو مربوط کرنا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر پیداوار کو ممکن بنایا جا سکے۔ بایوماس کی فراہمی کی زنجیروں کو مضبوط کیا جا سکے، ٹیکنالوجی کی ترقی اور بڑے پیمانے پر اس کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے، اعلیٰ قدر والے کیمیکلز، فعال دواسازی کے اجزاء، اینزائمس، اسمارٹ پروٹینز وغیرہ کی نشاندہی کی جا سکے اور حیاتیاتی تیاری کے شعبے میں ان کی تجارتی کاری اور ضابطہ جاتی امور کو آگے بڑھایا جا سکے۔
گھومتی معیشت اور خالص صفر اخراج کے تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق، بایو ای تھری پالیسی معدنی ایندھن پر مبنی خام مال کے متبادل کے طور پر حیاتیاتی تیاری کے آزمائشی اور قبل از تجارتی پیمانے کے حل تیار کرنے اور ان کا عملی مظاہرہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، تاکہ کم کاربن والی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ ماحولیاتی نتائج اور گردشی حیاتیاتی معیشت کی جانب پیش رفت کے اہم اشاریوں میں، دیگر امور کے علاوہ، زمین کے استعمال میں کمی لانے والے تکنیکی حل، قابلِ تجدید وسائل کے استعمال کو فروغ دینا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، کچرے کو کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنے کے حل اور حیاتیاتی تیاری کے ذریعے مقامی سطح پر تیار کردہ صاف ٹیکنالوجی کے حل شامل ہیں۔
ماحولیاتی نتائج اور گردشی معیشت کے اشاریوں سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے، محکمہ نے متعدد اہم اقدامات کی معاونت کی ہے، جن میں سندربن جیسے تباہ حال ماحولیاتی نظام کی حیاتیاتی بحالی، محفوظ علاقوں کے تحفظ کے لیے سالماتی تکنیکوں کی تیاری، ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک اور پولیمر کے متبادل تیار کرنا، سیلولوزی اور لکڑی نما حیاتیاتی مواد، صنعتی اور نامیاتی کچرے کو پائیدار ہوابازی کے ایندھن، خصوصی کیمیکلز اور حیاتیاتی مواد میں تبدیل کرنا، کچرے سے مفید مصنوعات تیار کرنے کے لیے مصنوعی طور پر تیار کردہ اینزائمس کی تیاری اور کاربن کو حاصل کرنے، اس کے استعمال اور حیاتیاتی تیاری کو یکجا کرنے والے حل شامل ہیں۔
***
ش ح ۔م ح ۔ع ن
U. No. 2080
(रिलीज़ आईडी: 2299315)
आगंतुक पटल : 5