قبائیلی امور کی وزارت
آدی کرم یوگی ابھیان کا نفاذ
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 2:00PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب جوئل اورام نے آج ایوان کے میز پر ایک بیان پیش کیا، جس میں بتایا گیا کہ قبائلی امور کی وزارت نے آدی کرم یوگی ابھیان کے نفاذ کا وزارت، ریاست اور ضلع کی سطح پر وقتاً فوقتاً نگرانی کے ذریعے مسلسل جائزہ لیا ہے۔ جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پہلے مرحلے میں قبائلی علاقوں میں آخری سطح(میل ) تک حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ملک گیر سطح پر برادری پر مبنی صلاحیت سازی کا ایک مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے۔اس پروگرام کا مقصد تقریباً ایک لاکھ قبائلی گاؤں میں جواب دہ اور عوام دوست حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے تربیت یافتہ سرکاری اہلکاروں، برادری کے رہنماؤں، خواتین کے اجتماعی گروپوں اور قبائلی نوجوانوں کا ایک باصلاحیت دستہ تیار کرنا ہے۔ یہ پروگرام ملک کی 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
اس پروگرام نے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ قبائلی برادریوں سے وابستہ نچلی سطح کے تربیت یافتہ رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد تیار کرکے قبائلی علاقوں میں مثبت تبدیلی لانے والی قیادت کو فروغ دینے کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ آدی کرم یوگی ابھیان کے پہلے مرحلے کے دوران قبائلی علاقوں میں مؤثر اور تبدیلی لانے والی قیادت کی تشکیل کے حوالے سے حاصل کی گئی کامیابیاں درج ذیل ہیں:
1۔ مرحلہ وار تربیتی نظام کے ذریعے تقریباً 15 لاکھ آدی کرم یوگیوں کو متحرک کیا گیا۔
2۔ 210 سے زائد ریاستی سطح کے ماسٹر ٹرینرز، 2,200 سے زائد ضلعی سطح کے ماسٹر ٹرینرز اور 11,000 سے زائد بلاک سطح کے ماسٹر ٹرینرز تیار کیے گئے۔
3۔ 6,79,309 آدی ساتھیوں اور 4,03,306 آدی معاونین کو متحرک کیا گیا۔
4۔ گرام سبھاؤں کے ذریعے قبائلی گاؤں کے 2030 وژن سے متعلق 62,187 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
5۔ پروگرام کے تحت 54,324 دیہی ورک بکس اور 56,422 آدی سیوا مراکز (اے ایس کے) درج کیے گئے۔
وزارت نے صلاحیت سازی، رہنمائی اور بعد ازاں مسلسل معاونت کو یقینی بنانے کے لیے آدی سیوا کیندروں (اے ایس کے) اور آدی کرم یوگی رضاکاروں (اے کے وی) کے ذریعے ایک ادارہ جاتی نظام قائم کیا ہے۔
یہ پروگرام گرام سبھاؤں اور قبائلی برادریوں کو مقامی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے مرکز میں رکھ کر برادری کی قیادت اور شراکتی ترقی کو مضبوط بناتا ہے۔ پہلے مرحلے کے دوران قبائلی برادریوں نے گھریلو سروے، علاقے کا براہ راست جائزہ(ٹرانسیکٹ واک)، مرکوز گروہی مباحثے(فوکس گروپ مباحثے) اور ترقیاتی خلا کا جائزہ لیا۔ اس کے نتیجے میں قبائلی گاؤں وژن 2030 دستاویزات اور گاؤں کے عملی منصوبےتیار کیے گئے، جن میں صحت، تعلیم، روزگار، رہائش، پینے کا پانی، رابطہ کاری، مالی شمولیت اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں کو شامل کیا گیا۔ گرام سبھاؤں نے ان منصوبوں کی باضابطہ منظوری دی، جس سے فیصلہ سازی میں عوامی شمولیت کو ادارہ جاتی شکل ملی۔
اس نظام کے تحت درج ذیل اقدامات قبائلی علاقوں میں برادری کی قیادت اور شراکتی ترقی کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں:
1۔ آدی سیوا کیندر (اے ایس کے)، گاؤں کی سطح پر یک نکاتی سہولت مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں، جہاں معلومات کی فراہمی، مستحق افراد کو ان کے حقوق اور سرکاری سہولیات دلانے میں مدد، شکایات کے ازالے میں معاونت اور متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ و ہم آہنگی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
2۔ آدی کرم یوگی رضاکار (اے کے وی)، مقامی قبائلی نوجوانوں میں سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ یہ رضاکار آدی سیوا کیندروں کے روزمرہ کاموں میں معاونت کرتے ہیں، شہریوں کو سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے، ضروری دستاویزات مکمل کرنے، شکایات درج کرانے، گرام سبھا کے امور میں شرکت، بیداری مہمات اور گاؤں کی ترقی سے متعلق ترجیحات کو وقتاً فوقتاً تازہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
3۔ اے ایس کے (آدی سیوا کیندروں) کی نقشہ سازی اوراے کے وی ( آدی کرم یوگی )رضاکاروں کا اندراج مستند ریکارڈ کی تیاری، مقام کی بنیاد پر نگرانی اور شواہد پر مبنی طریقے سے گاؤں کے اداروں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
4۔ وزارت، ریاستی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہفتہ وار نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ گاؤں کی سطح پر قائم ان انتظامی ڈھانچوں کے مؤثر نفاذ اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
***
ش ح۔ ش آ۔ت ع
U-2020
(रिलीज़ आईडी: 2298915)
आगंतुक पटल : 8