زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
جناب شیوراج سنگھ چوہان کی ماحول دوست پہل کے تحت ہریالی اماوس کے موقع پر 31 ریاستوں میں 50 ہزار سے زائد پودے لگائے گئے
وزیر اعظم نریندر مودی کی ’ ایک پیڑ ماں کے نام‘اپیل کے تحت ورکش مترا پریوار کی ملک گیر شجرکاری مہم
ہریالی اماوس کے موقع پر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے دہلی میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کی قیادت کی
ورکش مترا پریوار ملک گیر ماحول دوست (ہریالی)تحریک کا چہرہ بن کر ابھرا
شجر کاری کا مطلب مستقبل کو محفوظ بنانا ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
فطرت کا احترام آنے والی نسلوں کے تحفظ کا بہترین طریقہ ہے؛ حقیقی عزم صرف درخت لگانا نہیں، بلکہ ان کی حفاظت کرنا ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
وزیر جناب منجندر سنگھ سرسا نے کہا: دہلی نے جناب شیوراج سنگھ چوہان کی اس ماحول دوست پہل سے بہت کچھ سیکھا ہے
ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے: وزیر جناب پرویش ورما
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 4:34PM by PIB Delhi
ہریالی اماوس کے موقع پر ملک گیر شجرکاری مہم کے حصے کے طور 31 ریاستوں میں 50,000 سے زائد پودے لگائے گئے۔ اس مہم کی قیادت زراعت و کسان کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ’ ورکش متر پریوار‘کے تعاون سے کی۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ’ ایک پیڑ ماں کے نام‘پہل سے اس مہم کو مزید تقویت ملی۔اس پروگرام کا انعقادنئی دہلی میں تال کٹورا اسٹیڈیم کے قریب پی بی جی گراؤنڈ، سینٹرل رج میں منعقدکیاگیا،جس میں وزرا، اراکین پارلیمنٹ، سرکاری افسران، کسان، نوجوان اور شہریوں نے شجرکاری مہم میں شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز پودوں کو پانی دینے اور وندے ماترم کے گانے سے ہوا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی۔ملک کے مختلف حصوں کے دیہات، قصبوں، پنچایتوں اور اداروں میں بھی اسی طرح کی شجرکاری مہمات منعقد کی گئیں۔ ’ ورکش متر پریوار‘کے ارکان نے شہریوں کو متحرک کرنے اور انہیں کم از کم ایک پودا لگانے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ہریالی اماوس صرف ایک مذہبی نہیں، بلکہ فطرت کے تئیں اظہارِ تشکر کا بھی ایک موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی روایات میں انسانوں، جانوروں، پرندوں، دریاؤں، پہاڑوں اور درختوں کو قدرتی ماحولیاتی نظام کے باہم مربوط عناصر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جناب چوہان نے کہاکہ درخت لگانا محض ہریالی میں اضافہ کرنا نہیں ہے، بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پودے لگانے کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ اور باقاعدگی سے دیکھ بھال کا عہد بھی کیا جانا چاہیے۔مرکزی وزیر نے ہر شہری سے اپیل کی کہ وہ ہر سال کم از کم ایک درخت ضرور لگائے اور مزید پانچ افراد کو اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ درخت لگا کر سالگرہ، شادی کی سالگرہ، بچوں کی پیدائش اور والدین کی برسی کو ’ ورکش پَرو‘کے طور پر منایا جائے۔

جناب چوہان نے پنچایتوں، شہری مقامی اداروں اور مختلف اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ شجرکاری کے لیے مخصوص علاقوں کی نشاندہی کریں، تاکہ پودوں کا طویل مدت تک تحفظ اور دیکھ بھال یقینی بنائی جا سکے۔ ماحول کے پائیدار تحفظ اور زراعت کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ماحولیاتی تنزلی کا براہ راست اثر کاشت کاری، پانی کی دستیابی، مٹی کی صحت اور انسانی بہبود پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے بیج اور کھاد کی دستیابی جتنی اہم ہے، اتنی ہی پانی تک رسائی اور مٹی کی صحت برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشن لائف کو زیادہ سے زیادہ اپنانے، توانائی کے تحفظ اور پلاسٹک پر انحصار کم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ ’فطرت کا استحصال نہیں کیا جانا چاہیے،بلکہ اس کے وسائل کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے اور مستقبل کے لیے محفوظ رکھا جائے۔‘‘

دہلی حکومت کے کابینی وزیر جناب منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ دہلی حکومت نے جناب چوہان کی پہل سے قیمتی سبق حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو اس مہم سے جوڑا گیا ہے، جبکہ اسکولوں، کالجوں اور دیگر اداروں کو بھی شجرکاری کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ جناب سرسا نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اجتماعی حلف لینے اور شجرکاری مہم میں اپنا تعاون دینے کے لیے بڑی تعداد میں شہری آگے آرہے ہیں۔
دہلی کے کابینی وزیر جناب پرویش ورما نے کہا کہ ہم سب کو ’ ایک پیڑ ماں کے نام‘مہم کے ذریعے ماحول کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کام ضروری ہیں، لیکن اس کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ان کے مطابق، تعمیرات اور ہریالی کے درمیان توازن قائم کرکے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے۔

اس پروگرام میں ممبر پارلیمنٹ جناب درشن سنگھ چودھری، مختلف اداروں کے نمائندوں، زرعی یونیورسٹیوں کے افسران،ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر)، ڈی اے آر ای اور کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) کے اہلکاروں اور ورکش مترا پریوار سے بڑی تعداد میں ارکان نے شرکت کی۔ ملک گیر مہم کو صرف شجرکاری کی سرگرمی کے طور پر ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی تحفظ میں عوام کی مستقل شمولیت کو فروغ دینے کی ایک کوشش کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔مہم میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پودا لگانا صرف پہلا قدم ہے، جبکہ اس کی بقا اور نشوونما کو یقینی بنانا بھی اتنی ہی اہم ذمہ داری ہے۔ ورکش مترا پریوار کے ارکان ملک گیر پیمانے پر برادریوں تک یہ پیغام پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

***
) ش ح – ش آ-ت ع)
U.No. 2008
(रिलीज़ आईडी: 2298843)
आगंतुक पटल : 6