وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: یونیورسٹیوں میں خالی اسامیاں

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 4:53PM by PIB Delhi

تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست میں شامل موضوع ہونے کے سبب ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں اور اسکولوں کی ذمہ داری مرکز کے ساتھ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی بھی ہے۔

وزارت تعلیم کے تحت مرکزی اعلیٰ تعلیمی ادارے، جن میں مرکزی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں، پارلیمنٹ کے متعلقہ مرکزی قوانین کے تحت قائم قانونی طور پر خودمختار ادارے ہیں۔ ان کا انتظام متعلقہ قوانین، ضوابط، آرڈیننس اور ریگولیشنز کے تحت ہوتا ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بھرتی خودمختار ادارے ہونے کے لحاظ سے متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق خود ادارے کرتے ہیں۔ بھرتی کے اختیارات متعلقہ بورڈ آف گورنرز، ایگزیکٹو کمیٹی یا بورڈ آف مینجمنٹ کے پاس ہوتے ہیں۔

ریاستی یونیورسٹیاں متعلقہ ریاستی قوانین کے تحت قائم کی جاتی ہیں اور ان میں خالی اسامیوں کو متعلقہ ریاستی حکومتیں یا یونیورسٹیاں خود پُر کرتی ہیں۔ ریاستی یونیورسٹیوں کی خالی اسامیوں کی تفصیلات مرکزی سطح پر مرتب نہیں کی جاتی ہیں۔

کسی ادارے کو یونیورسٹی سمجھا جانے والا ادارہ قرار مرکزی حکومت یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے مشورے پر یو جی سی ایکٹ 1956 کی دفعہ 3 کے تحت دیتی ہے۔ ایسے اداروں کو یو جی سی (انسٹی ٹیوشنز ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹیز) ریگولیشنز 2023 کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔ ان ضوابط کے مطابق ادارے کی ایگزیکٹو کونسل سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر یو جی سی کے مقررہ اہلیتی معیار اور دیگر ضوابط کے مطابق تدریسی عملے اور دیگر عہدوں پر تقرری کرتی ہے۔

حکومت نے بتایا کہ خالی اسامیوں کا پیدا ہونا اور انہیں پُر کرنا ایک مسلسل عمل ہے۔ ترقیاں، ریٹائرمنٹ، استعفیٰ، وفات، نئے اداروں کا قیام، نئی اسکیموں یا منصوبوں کا آغاز، طلبہ کی تعداد میں اضافے اور موجودہ اداروں کی گنجائش بڑھانے کی وجہ سے وقتاً فوقتاً خالی اسامیاں پیدا ہوتی ہیں۔

مرکزی مالی اعانت سے چلنے والے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیاری اساتذہ کو راغب کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں سال بھر کھلے اشتہارات، سرچ کم سلیکشن طریقہ ٔکار کے ذریعے بھرتی، خصوصی بھرتی مہم، مشن موڈ میں بھرتی اور سابق طلبہ، سائنس دانوں اور اساتذہ کو مواقع فراہم کرنا شامل ہے۔مرکزی اعلیٰ تعلیمی ادارے شفاف طریقے سے درخواستیں طلب کرتے ہوئے کثیر سطحی اور جامع جانچ کے عمل کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کرتے ہیں۔ مختلف اداروں کے قوانین اور ضوابط میں سلیکشن کمیٹیوں کی تشکیل، مختلف سطحوں کے اساتذہ کی بھرتی کے ذمہ دار حکام، آزاد موضوعاتی ماہرین اور وزیٹر کے نامزد نمائندوں کی شمولیت کی دفعات موجود ہیں، تاکہ بھرتی کے عمل میں شفافیت اور تعلیمی معیار برقرار رہے۔یو جی سی نے اساتذہ کی بھرتی کے لیے ’سی یو-چَیَن‘ نامی مشترکہ پورٹل بھی شروع کیا ہے، جس پر تمام مرکزی یونیورسٹیوں میں خالی اسامیوں، اشتہارات اور ملازمتوں کی تفصیلات دستیاب ہوتی ہیں۔ اس سے بھرتی کا پورا عمل مزید شفاف اور قابل رسائی بن گیا ہے۔

قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت کثیر شعبہ جاتی تعلیم کے فروغ، تنقیدی اور تجزیاتی صلاحیتوں کی نشوونما، تحقیق و اختراع کی حوصلہ افزائی، بنیادی ڈھانچے کے معیار میں بہتری اور اساتذہ کی مؤثر و معیاری تربیت سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔

تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مرکزی مالی اعانت سے چلنے والے اداروں میں متعدد اقدامات کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔ حکومت ہند اعلیٰ تعلیم میں بہتری کے لیے راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان (روسَا) اور پردھان منتری اُچّتر شکشا ابھیان (پی ایم اُشَا) کے تحت ریاستی حکومتوں کو مالی مدد فراہم کرتی ہے۔

حکومت نے 2023 میں ملک بھر میں ’مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ پروگرام‘ (ایم ایم ٹی ٹی پی) بھی شروع کیا، جس کا مقصد تدریس کے معیار کو بہتر بنانا، ادارہ جاتی کارکردگی مضبوط کرنا اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بہتر تعلیمی نتائج کو فروغ دینا ہے۔ یہ پروگرام 151 مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ مراکز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے اور اب تک ملک بھر میں چار لاکھ سے زیادہ اساتذہ کو تربیت دی جاچکی ہے۔

اگست 2021 میں وزارت تعلیم نے اپنے تحت تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے مشن موڈ میں بیک لاگ خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کو کہا تھا۔ ان اداروں نے درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سمیت خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے خصوصی بھرتی مہم چلائی۔

ستمبر 2022 میں وزارت تعلیم نے تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی اداروں پر مشن موڈ میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے پر زور دیا۔ اکتوبر 2025 میں بھی تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بیک لاگ سمیت تمام خالی اسامیوں کو مشن موڈ میں پُر کرنے کے لیے کہا گیا۔

ستمبر 2022 سے تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی اداروں، بشمول مرکزی یونیورسٹیوں، نے خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے مشن موڈ میں بھرتی مہم چلائی ہے۔ 23 مئی 2026 تک، یعنی آخری روزگار میلے کی تاریخ تک، تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی اداروں نے مشن موڈ کے تحت مجموعی طور پر 32,114 عہدوں کو پُر کیا، جن میں اساتذہ کی 18,757 آسامیاں بھی شامل ہیں۔

یہ معلومات وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانتا مجمدار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

*****

ش ح ۔   م د  ۔  م  ص

(U :1962  )


(रिलीज़ आईडी: 2298618) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu