امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جعلی ای-چالان بھیج کر بینک کھاتوں کو خالی کرنے والے سائبر فراڈ کرنے والے  مجرم

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 4:47PM by PIB Delhi

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) اپنی اشاعت ”کرائم اِن انڈیا“ میں جرائم سے متعلق شماریاتی ڈیٹا مرتب اور شائع کرتا ہے۔ تازہ ترین شائع شدہ رپورٹ سال 2024 کے لیے ہے۔ جعلی ای-چالان میں درج کیے گئے مقدمات، حل کیے گئے مقدمات اور دھوکہ دہی کی رقم سے متعلق ڈیٹا این سی آر بی کے ذریعے برقرار نہیں رکھا جاتا ہے۔

انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی 4 سی) کے تحت ’سٹیزن فنانشل سائبر فراڈ رپورٹنگ اینڈ مینجمنٹ سسٹم‘ (سی ایف سی ایف آر ایم ایس) کو سال 2021 میں مالیاتی فراڈ کی فوری اطلاع دینے اور دھوکہ بازوں کے ذریعے فنڈز کی چوری کو روکنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ آئی 4 سی کے ذریعے چلائے جانے والے سی ایف سی ایف آر ایم ایس کے مطابق، 30.06.2026 تک، 32.80 لاکھ سے زیادہ شکایات میں 11,158 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالی رقم بچائی گئی ہے۔

آئی ٹی ایکٹ، 2000 کی دفعہ 79 کی ذیلی دفعہ (3) کے شق (ب) کے تحت مناسب بھارت سرکار یا اس کی ایجنسی کے ذریعے آئی ٹی ثالثوں کو نوٹس بھیجنے کے عمل کو مہمیز کرنے کے لیے ’سہیوگ‘ پورٹل شروع کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی معلومات، ڈیٹا یا مواصلاتی لنک تک رسائی کو ہٹانے یا غیر فعال کرنے میں سہولت فراہم کی جا سکے جو غیر قانونی عمل کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ آئی 4 سی نے سہیوگ پورٹل اور متعلقہ آئی ٹی ثالثوں کو مطلع کرکے فعال کارروائی کے ذریعے مختلف پلیٹ فارمز پر 2,77,053 سے زیادہ غیر قانونی اور دھوکہ دہی والی ایپس/مواد/ویب سائٹس/ای-میل اکاؤنٹس/یو آر ایل/لنکس کو بلاک کیا ہے۔

’پولیس‘ اور ’عوامی نظم و نسق‘ بھارت کے آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت ریاستی موضوعات ہیں۔ اس کے مطابق، ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے (یو ٹیز) سائبر کرائم کی روک تھام، پتہ لگانے، تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کے لیے بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں۔ مرکزی حکومت، وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) کے ذریعے، سائبر کرائم کے انتظام اور نفاذ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پالیسی رہ نمائی، تکنیکی مدد، صلاحیت سازی کی امداد اور مالی وسائل فراہم کرکے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششوں کی تکمیل کرتی ہے۔

بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسز (ایم او او سی) پلیٹ فارم، یعنی ’سائی ٹرین‘ پورٹل کو آئی 4 سی کے تحت تیار کیا گیا ہے، تاکہ سائبر کرائم کی تحقیقات، فارنسک، قانونی چارہ جوئی وغیرہ کے اہم پہلوؤں پر آن لائن کورس کے ذریعے پولیس افسران/عدالتی افسران کی صلاحیت سازی کی جا سکے۔ 30.06.2026 تک، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 1,63,344 سے زیادہ پولیس افسران/عدالتی افسران رجسٹر شدہ ہیں اور پورٹل کے ذریعے 1,61,957 سے زیادہ سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔

سائبر کمانڈو پروگرام کا اِفتتاح محترم وزیرِ داخلہ نے 10.09.2024 کو ملک میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی تربیت سے لیس سائبر کمانڈوز کے ایک خصوصی ونگ کے قیام کے لیے کیا تھا۔ یہ پروگرام ایک وقف، ہنر مند افرادی قوت کی تشکیل کا تصور کرتا ہے جو اہم معلومات کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے اور قومی سائبر سیکیورٹی کی کوششوں کی حمایت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 281 سائبر کمانڈوز نے کام یابی سے تربیت مکمل کی۔

آئی 4 سی، وزارتِ داخلہ بہترین طور طریقوں کو شیئر کرنے، صلاحیت سازی کو بڑھانے وغیرہ کے لیے باقاعدگی سے ’اسٹیٹ کنیکٹ‘، ’تھانہ کنیکٹ‘، ’بینک کنیکٹ‘ اور ہم مرتبہ سیکھنے کے سیشن کا اہتمام کر رہی ہے۔

جدید ترین نیشنل-ڈیجیٹل انویسٹی گیشن سپورٹ سینٹر (جو پہلے نیشنل سائبر فارنسک لیبارٹری (انویسٹی گیشن) {این سی ایف ایل (آئی)} کے نام سے جانا جاتا تھا) کو آئی 4 سی کے حصے کے طور پر نئی دہلی (18.02.2019 کو) اور آسام (29.08.2025 کو) میں قائم کیا گیا ہے تاکہ ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پولیس کے تفتیشی افسران (آئی اوز) کو ابتدائی مرحلے میں سائبر فارنسک مدد فراہم کی جا سکے۔ 30.06.2026 تک، نیشنل-ڈیجیٹل انویسٹی گیشن سپورٹ سینٹر، نئی دہلی نے سائبر جرائم سے متعلق 14,064 سے زیادہ مقدمات میں ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اپنی خدمات فراہم کی ہیں۔

آپریشنل کارکردگی کو مزید مضبوط بنانے اور سائبر کرائم کی شکایات کو سنبھالنے میں یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے، وزارت نے این سی آر پی-سی ایف سی ایف آر ایم ایس کے لیے ایک جامع معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیا ہے۔ ایس او پی شکایت کی پروسیسنگ، بینک کوآرڈینیشن، شکایات کے ازالے، لین مارکنگ کو ہٹانے، اور این سی آر پی کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر دھوکہ دہی کے شکار فنڈز کو حقیقی دعویداروں کو بحال کرنے کے لیے ایک معیاری فریم ورک پیش کرتا ہے۔ متاثرین کو دھوکہ دہی کی رقم کی فوری بحالی کے لیے منی ریسٹوریشن ماڈیول اور بینک کھاتوں کو منجمد کرنے اور رقم کی لین مارکنگ سے متعلق شکایات کو بروقت حل کرنے کے لیے گریوینس ریڈریسل ماڈیول اپریل 2026 سے فعال کر دیے گئے ہیں۔

یہ معلومات وزارتِ داخلہ میں وزیرِ مملکت جناب بنڈی سنجے کمار نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 1970


(रिलीज़ आईडी: 2298600) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Assamese , Tamil