امور داخلہ کی وزارت
اے آئی سے کی مدد سے انجام دیے جانے والے سائبر کرائم کی روک تھام اور ڈیجیٹل شناخت کا تحفظ
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 4:50PM by PIB Delhi
’پولیس‘ اور ’عوامی نظم و نسق‘ بھارت کے آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت ریاستی موضوعات ہیں۔ اس کے مطابق، ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے (یو ٹیز) بنیادی طور پر سائبر کرائم کی روک تھام، پتہ لگانے، تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذمہ دار ہیں۔ مرکزی حکومت، وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) کے ذریعے، پالیسی رہ نمائی، تکنیکی مدد، صلاحیت سازی میں معاونت اور مالی وسائل فراہم کر کے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششوں کی تکمیل کرتی ہے تاکہ سائبر کرائم کے انتظام اور نفاذ کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا سکے۔
سائبر کرائمز، بشمول اے آئی سے کی مدد سے انجام دیے جانے والے سائبر جرائم سے جامع اور مربوط طریقے سے نمٹنے کے طریقہ کار کو مضبوط کرنے اور سائبر لچک کو مستحکم کرنے کے لیے، مرکزی حکومت نے اقدامات کیے ہیں، جن میں دیگر باتوں کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں:
-
وزارتِ داخلہ نے ملک میں ہر قسم کے سائبر جرائم سے مربوط اور جامع طریقے سے نمٹنے کے لیے ’انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر‘ (آئی 4 سی) کو ایک منسلک دفتر کے طور پر قائم کیا ہے۔
-
’نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل‘ (این سی آر پی) (https://cybercrime.gov.in) کو آئی 4 سی کے ایک حصے کے طور پر شروع کیا گیا ہے، تاکہ عوام کو ہر قسم کے سائبر کرائمز سے متعلق واقعات کی اطلاع دینے کے قابل بنایا جا سکے، جس میں خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر کرائمز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
-
آئی 4 سی کے تحت ’سٹیزن فنانشل سائبر فراڈ رپورٹنگ اینڈ مینجمنٹ سسٹم‘ (سی ایف سی ایف آر ایم ایس) کو سال 2021 میں مالیاتی دھوکہ دہی کی فوری اطلاع دینے اور دھوکہ بازوں کے ذریعے فنڈز کی چوری کو روکنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ آئی 4 سی کے ذریعے چلائے جانے والے سی ایف سی ایف آر ایم ایس کے مطابق، 30.06.2026 تک، 32.80 لاکھ سے زیادہ شکایات میں 11,158 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالی رقم بچائی گئی ہے۔ آن لائن سائبر شکایات درج کرنے میں مدد حاصل کرنے کے لیے ایک ٹول فری ہیلپ لائن نمبر ’1930‘ کو فعال کیا گیا ہے۔
-
میسیو اوپن آن لائن کورسز (ایم او او سی) پلیٹ فارم، یعنی ’سائی ٹرین‘ پورٹل کو آئی 4 سی کے تحت تیار کیا گیا ہے، تاکہ سائبر کرائم کی تفتیش، فارنسک، قانونی کارروائی وغیرہ کے اہم پہلوؤں پر آن لائن کورس کے ذریعے پولیس افسران/عدالتی افسران کی صلاحیت سازی کی جا سکے۔ 30.06.2026 تک، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 1,63,344 سے زیادہ پولیس افسران/عدالتی افسران رجسٹر شدہ ہیں اور پورٹل کے ذریعے 1,61,957 سے زیادہ سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔
-
ملک میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی تربیت سے لیس سائبر کمانڈوز کا ایک خصوصی ونگ قائم کرنے کے لیے محترم وزیرِ داخلہ نے سائبر کمانڈو پروگرام کا اِفتتاح کیا۔ یہ پروگرام ایک وقف، ہنر مند افرادی قوت کی تشکیل کا تصور کرتا ہے جو اہم معلومات کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے اور قومی سائبر سیکیورٹی کی کوششوں کی حمایت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 281 سائبر کمانڈوز نے کام یابی سے تربیت مکمل کی۔
-
آئی 4 سی، وزارتِ داخلہ بہترین طور طریقوں کا تبادلہ کرنے، صلاحیت سازی کو بڑھانے وغیرہ کے لیے باقاعدگی سے ’اسٹیٹ کنیکٹ‘، ’تھانہ کنیکٹ‘، ’بینک کنیکٹ‘ اور ہم مرتبہ سیکھنے کے سیشنز کا انعقاد کر رہی ہے۔
-
آئی 4 سی میں ایک جدید ترین، سائبر فراڈ مِٹیگیشن سینٹر (سی ایف ایم سی) قائم کیا گیا ہے جہاں بڑے بینکوں، مالیاتی ثالثوں، ادائیگی جمع کرنے والوں، ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والوں، آئی ٹی ثالثوں اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کے نمائندے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی اور ہم وار تعاون کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
-
سائبر کرائم ہاٹ اسپاٹس/کثیر دائرہ اختیار والے مسائل والے علاقوں کی بنیاد پر پورے ملک کا احاطہ کرتے ہوئے، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان تال میل کے فریم ورک کو بڑھانے کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شامل کرکے آئی 4 سی کے تحت میوات، جامتاڑا، احمد آباد، حیدرآباد، چنڈی گڑھ، وشاکھاپٹنم اور گوہاٹی کے لیے سات مشترکہ سائبر کوآرڈینیشن ٹیمیں (جے سی سی ٹی) تشکیل دی گئی ہیں۔
-
سائبر مجرموں کی شناخت کے لیے ایک مشتبہ رجسٹری آئی 4 سی نے بینکوں/مالیاتی اداروں کے تعاون سے شروع کی ہے۔ 30.06.2026 تک، بینکوں سے موصول ہونے والے 30.48 لاکھ سے زیادہ مشتبہ شناختی ڈیٹا اور 32.08 لاکھ لیئر 1 میول اکاؤنٹس کو مشتبہ رجسٹری کے شریک اداروں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے اور 25,698 کروڑ روپے کے لین دین کو مسترد کیا گیا ہے۔
-
سمنویا پلیٹ فارم کو ایک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) پلیٹ فارم، ڈیٹا ریپوزٹری اور سائبر کرائم ڈیٹا شیئرنگ اور تجزیات کے لیے ایل ای اے کے لیے ایک کوآرڈینیشن پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنے کے لیے فعال کیا گیا ہے۔ یہ مختلف ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سائبر کرائم کی شکایات میں ملوث جرائم اور مجرموں کے بین ریاستی روابط پر مبنی تجزیات فراہم کرتا ہے۔ ’پرتِبمب‘ ماڈیول مجرموں اور جرائم کے بنیادی ڈھانچے کے مقامات کو نقشے پر ظاہر کرتا ہے تاکہ دائرہ اختیار والے افسران کو مرئیت فراہم کی جا سکے۔ یہ ماڈیول قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو آئی 4 سی اور دیگر ایس ایم ایز سے تکنیکی-قانونی مدد حاصل کرنے اور وصول کرنے میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں 29,837 سے زیادہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور 2,33,593 سے زیادہ سائبر تحقیقاتی امداد کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
-
آئی ٹی ایکٹ 2000 کی دفعہ 79 کی ذیلی دفعہ (3) کے شق (ب) کے تحت مناسب حکومت یا اس کی ایجنسی کے ذریعے آئی ٹی ثالثوں کو نوٹس بھیجنے کے عمل کو مہمیز کرنے کے لیے ’سہیوگ‘ پورٹل شروع کیا گیا ہے تاکہ کسی غیر قانونی فعل کو انجام دینے کے لیے استعمال ہونے والی کسی بھی معلومات، ڈیٹا یا مواصلاتی لنک تک رسائی کو ہٹانے یا غیر فعال کرنے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
-
وزارتِ داخلہ نے 22.01.2025 کو سائبر سیکیورٹی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے مقصد سے ایم اے سی (ملٹی ایجنسی سینٹر) پلیٹ فارم کے تحت سی وائی ایم اے سی (سائبر ملٹی ایجنسی سینٹر) قائم کیا ہے۔
قومی سلامتی کے خلاف خطرات، سائبر جاسوسی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال اور اسی طرح کے خدشات۔
-
سرٹ-اِن (CERT-In) مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرتے ہوئے بدنیتی پر مبنی حملوں سمیت تازہ ترین سائبر خطرات/خامیوں اور کمپیوٹروں، نیٹ ورکس اور ڈیٹا کو مسلسل محفوظ رکھنے کے لیے جوابی اقدامات کے بارے میں الرٹس اور مشورے جاری کرتا ہے۔
-
نیشنل سائبر کوآرڈینیشن سینٹر (این سی سی سی) جسے سی ای آر ٹی-اِن نے نافذ کیا ہے، سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا پتہ لگانے کے لیے سائبر اسپیس کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ متعلقہ ریاستی حکومتوں، مختلف شعبوں میں تنظیموں اور اسٹیک ہولڈر ایجنسیوں کے ساتھ کارروائی کرنے کے لیے معلومات کا تبادلہ کرتا ہے۔
-
سرٹ-اِن (CERT-In) کے ذریعے بدنیتی پر مبنی ڈومینز اور فشنگ سرگرمیوں کا پتہ لگانے اور ضروری تخفیف کے لیے اے آئی سے کی مدد سے انجام دیے جانے والے حالات سے آگاہی کے نظام تعینات کیے گئے ہیں۔
-
سی ای آر ٹی-اِن ریاستی حکومتوں اور مختلف شعبوں میں تنظیموں کے ساتھ فعال طور پر سائبر خطرے سے نمٹنے کے اقدامات کے لیے خودکار سائبر خطرے کے تبادلے کا پلیٹ فارم چلاتا ہے تاکہ ان کے ساتھ حسب ضرورت الرٹس کو فعال طور پر جمع کیا جا سکے، ان کا تجزیہ کیا جا سکے اور انھیں شیئر کیا جا سکے۔
-
سائبر سوچھتا کیندر (سی ایس کے) سرٹ-اِن (CERT-In) کے ذریعے فراہم کی جانے والی ایک خدمت ہے، جو سوچھ بھارت کے وژن کو سائبر اسپیس تک وسعت دیتی ہے۔ سائبر سوچھتا کیندر بدنیتی پر مبنی پروگراموں اور کم زور خدمات کا پتہ لگانے میں مدد کرتا ہے
خدمات اور ریاستوں اور شعبوں میں تنظیموں کو اصلاحی اقدامات فراہم کرتا ہے۔
-
سرٹ-اِن (CERT-In) نے اطلاعاتی تحفظ کے بہترین طور طریقوں کے نفاذ کی حمایت اور آڈٹ کرنے کے لیے 237 سیکیورٹی آڈیٹنگ تنظیموں کو شامل کیا ہے۔
-
سائبر سیکیورٹی کی صورت حال اور حکومت (مرکزی اور ریاستی) اور اہم شعبوں میں تنظیموں کی تیاری کا جائزہ لینے کے لیے سائبر سیکیورٹی موک ڈرلز باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں۔ سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں ہم آہنگی اور اطلاعات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ان ڈرلز کے ساتھ ریاستوں میں ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں۔
-
سائبر کرائم کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے، مرکزی حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن میں دیگر کے علاوہ؛ کالر ٹیون مہم، ایس ایم ایس کے ذریعے پیغامات کی ترسیل، آئی 4 سی (I4C) سوشل میڈیا اکاؤنٹ یعنی ایکس (@CyberDost)، فیس بک (CyberDostI4C)، انسٹاگرام (CyberDostI4C)، ٹیلی گرام (cyberdosti4c)، ایس ایم ایس مہم، ٹی وی مہم، ریڈیو مہم، اسکول مہم، سنیما ہالوں میں اشتہارات، مشہور شخصیات کی توثیق، آئی پی ایل (IPL) مہم، متعدد میڈیمز میں تشہیر کے لیے مائی گوو (MyGov) کو شامل کرنا، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون سے سائبر سیفٹی اور سیکیورٹی بیداری ہفتوں کا اہتمام، میٹرو اسٹیشنوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر ڈیجیٹل ڈسپلے وغیرہ شامل ہیں۔
یہ معلومات وزارتِ داخلہ میں وزیرِ مملکت بنڈی سنجے کمار نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 1975
(रिलीज़ आईडी: 2298590)
आगंतुक पटल : 5