امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پرہار

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 4:48PM by PIB Delhi

داخلی امور کی وزارت نے 23 فروری 2026 کو ’پرہار‘ کو بھارت کی انسدادِ دہشت گردی کی پہلی جامع قومی پالیسی اور حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیاہے۔ یہ پالیسی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور انتہا پسندی کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کا ایک قومی نظام فراہم کرتی ہے، جس کے تحت ’حکومت کی مکمل شمولیت‘ اور ’پورے معاشرے کی شمولیت‘ کے مربوط طریقۂ کار اختیار کیے گئے ہیں۔ ’پرہار‘ کی حکمتِ عملی اور پالیسی درج ذیل ستونوں پر مبنی ہے:

  1. بھارتی شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام؛
  2. لاحق خطرات کے مطابق فوری اور متناسب ردِعمل؛
  3. حکومت کی مکمل شمولیت پر مبنی طریقۂ کار کے تحت ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے داخلی صلاحیتوں کو یکجا کرنا؛
  4. خطرات کو کم کرنے کے لیے انسانی حقوق اور ’قانون کی حکمرانی‘ پر مبنی طریقۂ کار اختیار کرنا؛
  5. دہشت گردی کے لیے سازگار حالات بشمول انتہا پسندی کو کم کرنا؛
  6. دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو ہم آہنگ اور مؤثر سمت دینا؛
  7. پورے معاشرے کی شمولیت پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے بحالی اور لچک پیدا کرنا۔

’پرہار‘ سات ستونوں پر مبنی ایک جامع حکمتِ عملی کے ذریعے انٹیلی جنس کی بنیاد پر فعال نظام کے تحت انسدادِ دہشت گردی کے تمام مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ یہ پالیسی بھارت کو ردِعمل پر مبنی سلامتی کے طریقۂ کار سے فعال حکمتِ عملی کی جانب لے جاتی ہے۔ اس کے تحت ملٹی ایجنسی سینٹر (ایم اے سی) کے ذریعے حقیقی وقت میں انٹیلی جنس کے تبادلے کو باقاعدہ بنایا گیا ہے، اہم بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنایا گیا ہے اور ریاستی اداروں،پولیس اور نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) جیسے خصوصی مرکزی دستوں کے درمیان فوری اور مربوط کمانڈ کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کو مربوط کیا گیا ہے، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی سختی سے پاسداری کی گئی ہے اور دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کے لیے کمیونٹی کے تعاون پر مبنی انتہا پسندی کے خلاف اقدامات کے ماڈیول نافذ کیے گئے ہیں۔

یہ کرپٹو والیٹس کا سراغ لگانے، ڈارک ویب کے ذریعے اجتماعی طور پر فنڈ جمع کرنے کے عمل کو روکنے اور مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے اثاثے ضبط کرنے کے اقدامات کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت کا بھی مقابلہ کرتی ہے۔ یہ مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے معیارات سے ہم آہنگ ہے اور سرحد پار سرکار کی شہہ پر ہونے والی دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کو روکنے کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کا استعمال کرتی ہے۔

حکومتِ ہند ’پرہار‘ حکمتِ عملی کو مرحلہ وار اور بتدریج نافذ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس طریقۂ کار میں فوری طور پر ادارہ جاتی اور نظامی انضمام کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ نگرانی کے متعدد سطح کے طریقۂ کار کے ذریعے کارکردگی کے نتائج کا جامع جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔

باقاعدہ نگرانی اور جائزوں کے علاوہ، اس سلسلے کا ایک اہم طریقۂ کار وزارتِ داخلہ کی نگرانی میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے سالانہ ’انسدادِ دہشت گردی کانفرنس (اے ٹی سی)‘ کا انعقاد ہے۔ یہ کانفرنس قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس تنظیموں، سکیورٹی فورسز، پالیسی سازوں اور قانونی ماہرین کے اعلیٰ عہدیداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے اور اسے مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کانفرنس متعلقہ فریقوں کو موجودہ انسدادِ دہشت گردی اقدامات کی مؤثریت کا جائزہ لینے، عملی اور انتظامی خامیوں اور تیاری کی سطح کی نشاندہی کرنے، پالیسی، قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی سفارش کرنے، اور تعاون، صلاحیت سازی اور قومی سطح پر مربوط ردِعمل کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتی ہے، تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے پیش نظر بھارت کے انسدادِ دہشت گردی نظام کو مزید مضبوط اور مسلسل بہتر بنایا جا سکے۔

یہ معلومات وزارتِ داخلہ میں وزیرِ مملکت جناب نتیا نند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دیں۔

******

(ش ح ۔ م م ع۔م ا(

UR.No-1933


(रिलीज़ आईडी: 2298490) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil