کامرس اور صنعت کی وزارتہ
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے قانونی تجارتی طریقوں کو اپنانے اور ‘میک اِن انڈیا’ کو مقامی سطح سے عالمی سطح تک لے جانے پر زور دیا
نو آزاد تجارتی معاہدوں سے ہندوستانی صنعت اور کاروباری اداروں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پیدا ہوئے ہیں: جناب گوئل
سال 2047 تک ہندوستان کو 30 کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کا وژن کاروباری اداروں کے لیے بڑے مواقع پیش کرتا ہے: جناب گوئل
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 2:26PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے ہندوستانی کاروباری اداروں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ قانونی تجارتی طریقے اپنائیں، اشیا کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے اور دوبارہ استعمال کو فروغ دیں، اور ماحول دوست معیشت کو فروغ دیتے ہوئے ہندوستانی مصنوعات اور خدمات کو عالمی منڈیوں تک پہنچائیں۔
نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بھارتیہ ویاپار مہوتسو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے عالمی معیشت میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو اجاگر کیا اور بتایا کہ نو آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے ہندوستانی صنعت اور کاروباری اداروں کے لیے نئی منڈیاں کھولی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بین الاقوامی تجارت ہندوستان کو ترجیحی رسائی فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے ہندوستانی بہت چھوٹی،چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتوں، ملازمین، ماہی گیروں، کسانوں، کاروباری افراد اور خدمات کے شعبے کی ہندوستانی مصنوعات اور خدمات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں اہم شراکت کو بھی اجاگر کیا۔
جناب گوئل نے میک اِن انڈیا برانڈ کو مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا اور کہا کہ ہندوستان کے معیار، ڈیزائن کی صلاحیتوں اور برانڈ کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ تقریباً 4 کھرب ڈالر کی معیشت ملک کے لیے ایک بڑا موقع پیش کرتی ہے، کیونکہ ہندوستان 2047 تک 30 کھرب ڈالر کی معیشت بننے کے وژن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کی خواہاں ہے اور اتنے بڑے ترقیاتی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاروباری اداروں، کاروباری افراد اور شہریوں کی اجتماعی شرکت ضروری ہے۔
وزیر موصوف نے ہندوستان کی برآمدات میں ہونے والی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال اشیا اور خدمات کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جن میں 442 ارب ڈالر کی اشیا کی برآمدات اور 421 ارب ڈالر کی خدمات کی برآمدات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران برآمدات میں تقریباً 73 فیصد اضافہ ہوا ہے اور موجودہ سال کے لیے برآمدات کا ہدف ایک کھرب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ سال میں اپریل سے جولائی کے دوران پہلے چار ماہ میں برآمدات میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جناب گوئل نے زور دیا کہ خود انحصاری اور قومی ترقی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو خود تبدیلی کا حصہ بننا چاہیے اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر آگے لے جانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے 2014 سے شروع کیے گئے مختلف اقدامات، جن میں ڈیجیٹل انڈیا، اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے صنعت اور کاروبار کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘سودیشی‘ سے مراد وہ مصنوعات ہیں جو ہندوستانی شہریوں کی محنت، پسینے اور قربانیوں سے ہندوستان میں تیار ہوتی ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ محدود منڈیوں تک اپنی سرگرمیاں محدود نہ رکھیں بلکہ مقامی مصنوعات اور خدمات کو عالمی منڈیوں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی صارفین کی جانب سے ہندوستانی مصنوعات کے زیادہ استعمال سے نئے مواقع پیدا ہوں گے، پیداوار اور تجارت میں اضافہ ہوگا، بڑے پیمانے پر پیداوار کے فوائد حاصل ہوں گے اور ہندوستانی کاروباری اداروں کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کرکے مزید مضبوط بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مسافروں، بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں، اسٹارٹ اَپس، کسانوں، ماہی گیروں، مزدوروں اور کاروباری افراد کی اجتماعی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہی طاقت ہندوستانی مصنوعات اور خدمات کو دنیا تک پہنچانے میں مدد دے گی۔
ملک کی ترقی کے سفر میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی اپیل کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ اصلاحات کے عمل میں بہتری، تبدیلی اور کارکردگی شامل ہیں، اور تمام متعلقہ فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور اپنے کام کے ذریعے ہندوستان کو دنیا تک پہنچائیں۔
جناب گوئل نے کاروباری اداروں اور کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ اپنے کاروبار کو ڈیجیٹل بنائیں، بہتر پیداواری طریقے اپنائیں اور قانونی تجارتی طریقوں پر عمل کریں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پائیداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اشیا کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے، دوبارہ استعمال اور ماحول دوست معیشت پر زیادہ توجہ دینے کی اپیل کی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کے سفر کا مقصد صرف میک اِن انڈیا کا لیبل لگانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہندوستانی مصنوعات کے معیار، ڈیزائن کی صلاحیتوں اور برانڈ کے لیے عالمی سطح پر احترام پیدا کرنا بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں ہندوستانی مصنوعات اور قدرتی وسائل کو دنیا بھر میں قابلِ اعتماد حیثیت حاصل ہوگی۔
جناب گوئل نے یہ بھی کہا کہ مجموعی گھریلو پیداوار میں اضافہ فطری طور پر پیداوار میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے یا ہنرمندی کے مراکز کے ذریعے نئی مہارتیں حاصل کرنے کے بعد ہندوستان واپس آنے والے نوجوان ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے حل لے کر آئیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہندوستانی کاروباری اداروں، کاروباری افراد، بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں، کسانوں، ماہی گیروں اور مزدوروں کی اجتماعی کوششیں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی اور ہندوستان کو عالمی معیشت میں ایک زیادہ مضبوط شراکت دار کے طور پر ابھرنے میں مدد دیں گی۔
******
(ش ح۔ع ح۔م ذ)
U.R .1922
(रिलीज़ आईडी: 2298404)
आगंतुक पटल : 12