زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کالا نمک چاول کی کاشت

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 5:43PM by PIB Delhi

حالیہ عرصے میں کالا نمک چاول کی کاشت کے رقبے اور پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اتر پردیش کے سدھارتھ نگر ضلع میں 2018 سے 2025 کے دوران کالا نمک چاول کی پیداوار پانچ گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کالا نمک چاول کی فروخت کی قیمت بھی 2018 میں 40 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 2026 میں 150 روپے فی کلوگرام ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں عام چاول کے مقابلے میں منافع تین گنا سے زیادہ بڑھا ہے اور کالا نمک دھان کی کاشت کرنے والے کسانوں کی تعداد 2018 میں 2,915 سے بڑھ کر 2024 میں 23,000 ہو گئی ہے۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے کالا نمک چاول کے کسانوں کو مالی، تکنیکی اور مارکیٹنگ سے متعلق مدد فراہم کی ہے۔ پردھان منتری مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز کی باضابطہ تشکیل (پی ایم ایف ایم ای) اور ایک ضلع ایک مصنوعات (او ڈی او پی) کے تحت مارجن منی اسکیم (ریاستی حکومت کی مالی اعانت) کے ذریعے کالا نمک چاول کی پروسیسنگ یا ملنگ یونٹ قائم کرنے والے انفرادی چھوٹے کاروباری یونٹوں اور کسان پروڈیوسر تنظیموں کو قرض سے منسلک سرمایہ کاری پر 35 فیصد تک، زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے، کی سبسڈی دی جاتی ہے۔حکومت کالا نمک مہوتسو منعقد کرکے کالا نمک چاول کے برانڈ کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ ایک ضلع ایک مصنوعات (او ڈی او پی) اسکیم کے تحت سدھارتھ نگر میں کالا نمک چاول کے لیے مشترکہ سہولت مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں مقامی کسانوں کو جدید پروسیسنگ، پیکنگ اور برآمدی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ریاستی حکومت نے کالا نمک چاول کی تشہیر، پیداوار اور پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے خصوصی طور پر منصوبہ جاتی فنڈز بھی مختص کیے ہیں۔

آئی سی اے آر کے زیرِ نگرانی قومی زرعی تحقیقی نظام کالا نمک چاول کی نئی اقسام تیار کرنے اور اس کی بڑی تعداد میں مقامی روایتی اقسام کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔ کالا نمک کی روایتی اقسام کے علاوہ چھ بہتر اقسام، یعنی کالا نمک کے این 3، بونا کالا نمک 101، بونا کالا نمک 102، کالا نمک کرن، پُوسا نریندر کالا نمک 1 اور پُوسا سی آر ڈی کالا نمک 2 تیار کرکے ان کی منظوری اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔کالا نمک کی آخری دو بونی اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی اوسط پیداوار 4.5 ٹن فی ہیکٹیئر ہے، جبکہ روایتی اقسام کی اوسط پیداوار 2.5 ٹن فی ہیکٹیئر ہے۔ ریاستی حکومت نے کالا نمک کے جغرافیائی شناختی (جی آئی) علاقے میں واقع کرشی وگیان کیندروں کو بھی نئی زیادہ پیداوار دینے والی اور بدلتے ہوئے موسم کے مطابق بہتر اقسام کی مختلف مقامات پرتجربے کے لیے نامزد کیا ہے، تاکہ ان کی منظوری اور کاشت کے لیے سفارش کی جا سکے۔آئی سی اے آر کے ادارے اور کرشی وگیان کیندر کسانوں کو پودوں کی اقسام اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ادارے کے پاس کالا نمک چاول کی روایتی اقسام کے اندراج اور تحفظ میں بھی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس کوشش کے نتیجے میں چاول کی 1700 سے زیادہ مقامی اور روایتی اقسام کا اندراج کیا جا چکا ہے۔

 

کالا نمک چاول کے زیرِ کاشت رقبے میں مزید اضافہ کرنے کے لیے بریڈر سیڈ پروگرام کے تحت بیج کی اضافی طلب کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ ہر سال تقریباً 15 سے 20 کوئنٹل بریڈر بیج تیار کیا جاتا ہے، جسے متعلقہ ادارے آگے بڑھا کر بنیادی اور تصدیق شدہ بیج تیار کرتے ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں، یعنی 22-2021 سے 26-2025 کے دوران، کالا نمک دھان کی معیاری اقسام کا مجموعی طور پر 389.6 کوئنٹل معیاری بیج تیار کرکے کسانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

حکومت زرعی اور تیار شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدات کی ترقی سے متعلق ادارے (اے پی ای ڈی اے) کے ذریعے کالا نمک چاول کی برآمد کو فروغ دے رہی ہے اور بین الاقوامی منڈیوں تک اس کی رسائی آسان بنا رہی ہے۔ اس کے تحت علاقائی زرعی پیداوار سے متعلق تنظیموں کو براہِ راست بین الاقوامی خریداروں سے جوڑا جا رہا ہے اور سنگاپور اور نیپال جیسی منڈیوں میں چاول کی برآمد کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔کالا نمک چاول کو ’’بدھ رائس‘‘ کے نام سے برانڈ کرکے بدھ مت کے پیروکار ممالک میں اس کی ثقافتی وراثت کو اجاگر کیا جا رہا ہے، تاکہ جاپان، تھائی لینڈ، ویت نام، سنگاپور اور میانمار جیسی اعلیٰ قدر والی منڈیوں میں اس کی مانگ بڑھائی جا سکے۔سدھارتھ نگر اور اس کے آس پاس کے ترائی اضلاع کو خصوصی چاول کے لیے اے پی ای ڈی اے کے زرعی برآمدی زون کے نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے برآمدی پیکنگ، باقیات کی جانچ اور قرنطینہ سے متعلق ضوابط کی تکمیل کے لیے ترجیحی مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

وزیر مملکت برائے زراعت و کسان بہبود جناب بھاگیرتھ چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔   ع و۔ع ن)

U. No. 1886


(रिलीज़ आईडी: 2298086) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu