پنچایتی راج کی وزارت
گرام سبھا کی میٹنگوں میں کم شرکت
प्रविष्टि तिथि:
11 AUG 2026 2:56PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے 11 اگست 2026 کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ پنچایتی راج کی وزارت نے 30 جون 2026 کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گرام سبھا کی میٹنگوں میں کم شرکت سے متعلق ایک قومی مطالعاتی رپورٹ جاری کی ہے، جسے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایتی راج (این آئی آر ڈی پی آر) نے تیار کیا ہے۔
جائزے میں گرام پنچایتوں میں کم اور غیر مستقل شرکت کی کئی وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں روزگار اور پیشہ ورانہ مصروفیات، بیداری کی کمی اور مواصلاتی نظام کی ناکافی سہولیات، شکایات کے ازالے کے لیے کمزور ردعمل، متعلقہ محکموں کے افسران کی عدم موجودگی، حکمرانی کے عمل میں شفافیت کی کمی، میٹنگوں میں اٹھائے گئے مسائل پر مناسب کارروائی نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ خواتین کی شرکت کے حوالے سے بھی رپورٹ میں گھریلو ذمہ داریوں، سماجی جھجھک، بات چیت میں مردوں کا غلبہ اور مؤثر شرکت کے محدود مواقع جیسی مسلسل رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
’’پنچایت‘‘ چونکہ ’’مقامی حکومت‘‘ کا حصہ ہے،لہٰذایہ ریاستی موضوع ہے اور بھارتی آئین کے ساتویں شیڈول کی ریاستی فہرست میں شامل ہے۔ پنچایتیں متعلقہ ریاستوں کے پنچایتی راج قوانین کے تحت قائم کی جاتی ہیں اور چلائی جاتی ہیں۔ ریاستوں نے بھارتی آئین کی دفعات کے تحت اپنے اپنے پنچایتی راج قوانین وضع کیے ہیں۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 243 (بی) کے مطابق گرام سبھا ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں خواتین، نوجوان، درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات کے افراد بھی شامل ہیں، جن کے نام متعلقہ گاؤں کے انتخابی فہرست میں درج ہوں۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 243 اے کہتا ہے کہ گرام سبھا گاؤں کی سطح پر وہ اختیارات استعمال اور وہ فرائض انجام دے سکتی ہے جو کسی ریاست کی مقننہ ،قانون کے ذریعے مقرر کرے۔ اس سے دیہی جمہوریت، مقامی ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل، پنچایتوں کی سماجی نگرانی اور جواب دہی وغیرہ کو یقینی بنانے میں مدد حاصل ہوتی ہے۔
پنچایتی راج کی وزارت نے گرام سبھا کو زیادہ شراکتی اور جواب دہ ادارہ بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ گرام سبھا کے ادارے کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔ ان اقدامات میں گرام سبھا کی میٹنگوں میں حکومت کی اہم فلاحی اسکیموں کی بنیادی تفصیلات پیش کرنا، گرام سبھاکی میٹنگوں کی تعداد میں اضافہ، ریاستی پنچایتی راج قانون کے مطابق کم از کم نصابِ حاضری یقینی بنانا، گرام سبھا کے لیے مستقل ایجنڈا تیار کرنا، گرام سبھا کے اجلاس سے قبل الگ وارڈ سبھا اور خواتین کی سبھا کے اجلاس منعقد کرنے میں سہولت فراہم کرنا، گرام سبھا میں زیادہ سے زیادہ حاضری یقینی بنانا اور گرام سبھا کی مستقل ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل و فعالیت وغیرہ شامل ہیں۔
مذکورہ وزارت مالی سال 2022-23 سے مرکز کے زیر اہتمام نظرثانی شدہ راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے) نامی مرکزکی امدادیافتہ اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ اس کا مقصد منتخب نمائندوں(ای آرایس) اور دیگر متعلقہ فریقوں کو تربیت دے کر پنچایتی راج اداروں(پی آر آئیز) کی معاونت کرنا اور ان میں قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے، تاکہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گرام پنچایتیں مؤثر طریقے سے کام کر سکیں۔ اس اسکیم کے تحت پنچایتوں کے منتخب نمائندوں، عہدیداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں، بشمول خواتین، نوجوانوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور معاشرے کے دیگر پسماندہ طبقات کو مختلف زمروں کے تحت صلاحیت سازی میں تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ ان میں بنیادی تعارفی اور تجدیدی تربیتی پروگرام، موضوعاتی اقدامات، خصوصی تربیت اور پنچایت ترقیاتی منصوبے سے متعلق پروگرام وغیرہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ،مذکورہ وزارت نے ’’ششکت پنچایت نیتری ابھیان‘‘ کے ایک حصے کے طور پر پنچایتی راج اداروں کی خواتین منتخب نمائندوں کی صلاحیت سازی کے لیے ایک خصوصی تربیتی ماڈیول شروع کیا ہے۔ اس تربیتی ماڈیول کا مقصد دیہی حکمرانی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق منتخب خواتین نمائندوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور منتخب نمائندوں کی حیثیت سے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے ان کے علم اور عملی مہارتوں میں اضافہ کرنا ہے، جس سے خواتین کی قیادت میں حکمرانی کو فروغ حاصل ہو گا۔
مذکورہ وزارت نے ماڈل یوتھ گرام سبھا (ایم وائی جی ایس) بھی شروع کی ہے، جو اسکولوں میں نچلی سطح کی جمہوریت کی عملی مشق پر مبنی ایک سرگرمی ہے۔ اس کے تحت اسکول طلبہ کی شرکت سے فرضی گرام سبھا کے اجلاس منعقد کرتے ہیں، جن میں ایجنڈا طے کرنا، غور و خوض، بجٹ سازی اور قراردادیں منظور کرنا شامل ہے اور یہ سرگرمیاں حقیقی گرام سبھا کے طریقۂ کار سے قریب تر ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ وزارت پیپلز پلان مہم (پی پی سی) بھی چلاتی ہے، جو عموماً 2 اکتوبر سے 31 جنوری تک جاری رہتی ہے۔ اس کے ذریعے شہریوں کی سرگرم شرکت، بالخصوص گرام سبھا کے ذریعے، ایک مقررہ نظام الاوقات کے تحت صورتِ حال کے تجزیے، شراکتی منصوبہ بندی اور گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پی) کو حتمی شکل دینے کے ذریعے گرام پنچایتوں کو جامع، شمولیتی اور ضروریات پر مبنی ترقیاتی منصوبے تیار کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ پنچایتی راج کی وزارت نے پنچایتی راج اداروں میں شفافیت اور شہری مرکزیت پر مبنی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ای-پنچایت مشن موڈ پروجیکٹ (ای-ایم ایم پی) کے تحت مختلف ڈیجیٹل ایپلی کیشنز بھی تیار کی ہیں۔ ای- گرام سوراج پورٹل شراکتی منصوبہ بندی کے عمل کے ذریعے گرام سبھا کی شمولیت سے گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پیز)کی تیاری اور نگرانی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح پنچایت نِرنَے (این آئی آر این اے وائی)ایک ڈیجیٹل ایپلی کیشن ہے، جو گرام سبھا کی میٹنگوں کے مکمل انتظام میں سہولت فراہم کرتی ہے، جس میں میٹنگ کا وقت مقرر کرنا، ایجنڈا پیشگی طور پر عام کرنا، کارروائی اور فیصلوں کا اندراج وغیرہ شامل ہیں۔
******
ش ح ۔ ش م ۔ م ا
Urdu No-1812
(रिलीज़ आईडी: 2297636)
आगंतुक पटल : 9