ادویات سازی کا محکمہ
ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں کا تعین اور ضابطہ کاری
प्रविष्टि तिथि:
11 AUG 2026 3:10PM by PIB Delhi
ادویات کی قیمتیں ڈرگس (پرائس کنٹرول)حکم نامہ 2013 کی دفعات کے مطابق کیا جاتا ہے، جو نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ پالیسی2012 کے اصولوں کی بنیاد پر نافذ کیا گیا ہے۔محکمہ ادویات کے تحت نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی(این پی پی اے)، ادویات (قیمتوں کا کنٹرول) حکم نامہ 2013 کے شیڈول اوّل میں شامل ادویات کی زیادہ سے زیادہ مقررہ قیمت اور حکم نامہ 2013 کی شق 2(1)(یو) میں بیان کردہ نئی دوا کی خوردہ قیمت، مارکیٹ سے حاصل شدہ اعداد و شمار اور حکم نامہ 2013 کی دفعات کے مطابق مقرر کرتی ہے۔شیڈول میں شامل ادویات کی مقررہ زیادہ سے زیادہ قیمت تمام دوا ساز کمپنیوں پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ نئی ادویات کے لیے مقرر کردہ خوردہ قیمت درخواست گزار دوا ساز کمپنی اور مارکیٹنگ کرنے والی کمپنی پر لاگو ہوتی ہے۔ انہیں این پی پی اے کی جانب سے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت یا خوردہ قیمت (قابل اطلاق جی ایس ٹی سمیت) سے زیادہ قیمت پر ادویات فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔تاہم، دوا ساز کمپنیاں مارکیٹ کی صورت حال کے مطابق شیڈول میں شامل ادویات کی مقررہ زیادہ سے زیادہ قیمت اور نئی دوا کی مقررہ خوردہ قیمت سے کم قیمت پر ادویات فروخت کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
ایک ہی دوا کے لیے مختلف برانڈ ناموں کے تحت مختلف قیمتیں مقرر کرنے پر دوا ساز کمپنیوں کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے، بشرطیکہ یہ قیمتیں این پی پی اے کی جانب سے اس دوا کے لیے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے کم ہوں۔ غیر مقررہ ادویات کی صورت میں دوا ساز کمپنی کو دوا کی قیمت مقرر کرنے کی اجازت ہے، تاہم وہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت کے مقابلے میں اس دوا کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کر سکتی۔قیمتوں کے اس ضابطے کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے صحت کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے مختلف دیگر اقدامات کے نتیجے میں مجموعی صحت اخراجات میں لوگوں کی اپنی جیب سے کیے جانے والے اخراجات کا حصہ 2014-15 میں 62.6 فیصد سے کم ہو کر 2022-23 میں 43.4 فیصد رہ گیا ہے۔
این پی پی اے، ڈی پی سی او 2013 کی دفعات کی پابندی کی نگرانی کرتی ہے اور مقررہ قیمت سے زیادہ وصولی اور دیگر خلاف ورزیوں کی صورت میں اسی حکم نامے کی دفعات کے مطابق مناسب کارروائی کرتی ہے۔ یہ کارروائی مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جن میں ریاستوں میں قائم قیمت نگرانی اور وسائل کے مراکز، ریاستی ادویات کنٹرولر، کھلی مارکیٹ سے خریدے گئے ادویات کے نمونے، مارکیٹ کے اعداد و شمار سے حاصل ہونے والی رپورٹوں اور مختلف شکایتی ذرائع کے ذریعے درج کرائی گئی شکایات شامل ہیں۔اس کے علاوہ ،ڈی پی سی او 2013 کے تحت ہر دوا ساز کمپنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی دوا کی پیکنگ کے لیبل پر اس کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت درج کرے۔ کسی بھی شخص کو کسی صارف کو ایسی دوا اس قیمت سے زیادہ پر فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے جو موجودہ قیمت فہرست میں درج ہو یا دوا کے ڈبے یا پیک پر درج ہو، ان دونوں میں سے جو قیمت کم ہو، اسی قیمت پر دوا فروخت کی جائے گی۔
ڈی پی سی او ، 2013 کے تحت ادویات کی قیمتوں کو منظم کرنے کے علاوہ ، حکومت کی طرف سے عام آدمی کو سستی قیمتوں پر ادویات کی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف دیگر اقدامات کیے گئے ہیں جن میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ درج ذیل شامل ہیں:
1. پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا اسکیم کے تحت 20,000 سے زائد جن اوشدھی مراکز کے ذریعے معیاری سستی ادویات فراہم کی جاتی ہیں، جن کی قیمتیں عموماً برانڈڈ ادویات کے مقابلے میں 50 سے 80 فیصد تک کم ہوتی ہیں۔
2. محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت ہر خاندان کو ثانوی یا ثالثی درجے کے اسپتال میں داخلے کے لیے، ادویات سمیت، سالانہ 5 لاکھ روپے تک کا صحت بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔
3. نیشنل ہیلتھ اسکیم کے مفت ادویات خدمات اقدام کے تحت بھارتی عوامی صحت کے معیارات کے مطابق تجویز کردہ ضروری ادویات ملک بھر میں بنیادی صحت مراکز (پرائمری ہیلتھ سینٹر ۔پی ایچ سی )سے لے کر ضلعی اسپتالوں تک تمام سرکاری صحت مراکز میں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
4. محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے امرت اقدام کے تحت کینسر، قلبی امراض اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے سستی ادویات، طبی آلات، جراحی کے لیے درکار قابل استعمال اشیا اور دیگر ضروری سامان وغیرہ، مختلف اسپتالوں اور صحت کی دیکھ بھال کے اداروں میں قائم امرت دواخانوں کے ذریعے بازار کی قیمتوں کے مقابلے میں اوسطاً 50 فیصد تک رعایت پر فراہم کیے جاتے ہیں۔
5. غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے غریب مریضوں کو، جو کینسر سمیت جان لیوا بڑی بیماریوں میں مبتلا ہوں، راشٹریہ آروگیہ ندھی اور وزیر صحت کے صوابدیدی امدادی فنڈ کے تحت مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
یہ معلومات کیمیکلز اور کھادوں کی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
ش ح۔ ش آ ۔ ن ع
U. No-1816
(रिलीज़ आईडी: 2297634)
आगंतुक पटल : 11