سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اسمائل اسکیم کے تحت 2824 بچوں کی شناخت کی گئی، انہیں بچایا گیا اور ان کی بازآبادکاری کی گئی


1549 بچوں کو ان کے والدین/ کنبوں سے دوبارہ ملایا گیا؛ 676 کو اسکولوں میں اور 309 کو آنگن واڑی مراکز میں داخل کرایا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 AUG 2026 6:57PM by PIB Delhi

حکومت نے لوک سبھا کو مطلع کیا ہے کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت23  اکتوبر 2023 سے 33 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے 216 بڑے شہروں اور قصبوں میں ایک مرکزی سیکٹر اسکیم، "سپورٹ فار مارجنلائزڈ انڈیویجولز فار لائیولی ہوڈ اینڈ انٹرپرائز" (اسمائل) - بھیک مانگنے کے عمل میں ملوث افراد کی جامع بحالی، نافذ کر رہی ہے۔

یہ معلومات سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کے وزیرِ مملکت جناب بی ایل ورما نے لوک سبھا میں ڈاکٹر محمد جاوید کے ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

اس اسکیم کے تحت، بھیک مانگنے کے عمل میں ملوث پائے جانے والے افراد—بشمول بچوں—سے متعلق ڈیٹا (معلومات)، نافذ کرنے والے حکام کی طرف سے کیے جانے والے سروے اور بچاؤ مہم کے دوران جمع کیا جاتا ہے۔

جناب ورما نے کہا کہ یہ اسکیم بھیک مانگنے کے عمل میں ملوث پائے جانے والے بچوں پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔ ایسے بچوں کو، جہاں تک ممکن ہو، ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملایا جاتا ہے، یا آنگن واڑی مراکز اور اسکولوں کے ذریعے مناسب مدد فراہم کی جاتی ہے۔ وزیر موصوف نے ایوان میں مزید بتایا کہ جن بچوں کو ادارہ جاتی دیکھ بھال (انٹیٹیوشنل کیئر) کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ، 2015 کے تحت چائلڈ کیئر اداروں (سی سی آئی) سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔

30 جون 2026 تک، اس اسکیم کے تحت کل 2,824 بچوں کی شناخت، بچاؤ اور بحالی کا کام کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے، 1,549 بچوں کو ان کے والدین یا خاندانوں سے دوبارہ ملایا گیا ہے، 309 بچوں کو آنگن واڑی مراکز میں داخل کیا گیا ہے، 290 بچوں کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا ہے، اور 676 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001HYIL.jpg

حکومت نے بتایا ہے کہ اس اسکیم کے تحت شناخت کیے گئے بچوں کا عمر کے لحاظ سے اور جنس کے لحاظ سے ڈیٹا الگ سے برقرار نہیں رکھا جاتا ہے۔

حکومت بھیک مانگنے کے عمل میں ملوث بچوں کے لیے خاص طور پر کوئی علاحدہ اسکیم نافذ نہیں کر رہی ہے۔ تاہم، "اسمائل - بھیک مانگنے کے عمل میں ملوث افراد کی جامع بحالی" اسکیم میں بھیک مانگنے والے بچوں کی شناخت، بچاؤ، بحالی اور انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے مخصوص دفعات شامل ہیں؛ جن کے تحت، جہاں بھی ضرورت ہو، بچوں کو خاندانوں سے دوبارہ ملایا جاتا ہے، اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں داخل کرایا جاتا ہے، یا چائلڈ ویلفیئر کمیٹیوں اور چائلڈ کیئر اداروں کے ذریعے ادارہ جاتی دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے۔

اس اسکیم میں بھیک مانگنے میں ملوث بچوں کی بحالی کے لیے مخصوص اور توجہ مرکوز (فوکسڈ) دفعات شامل ہیں۔ اس کا فریم ورک بھیک مانگنے کے عمل سے سروے شدہ، پروفائل شدہ اور بچائے گئے بچوں کی 100 فیصد بحالی اور انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

حکومت نے مزید بتایا ہے کہ چونکہ جاری "اسمائل" اسکیم میں بھیک مانگنے کے عمل سے بچائے گئے بچوں کی بحالی اور انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے پر خاص توجہ دی گئی ہے، اس لیے اس مقصد کے لیے کسی علاحدہ اسکیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ریاست وار تفصیلات کے مطابق، اتر پردیش میں سب سے زیادہ 927 بچوں کی شناخت اور بازآبادکاری ریکارڈ کی گئی ہے، اس کے بعد چندی گڑھ میں 313، دہلی میں 233، مہاراشٹر میں 208 اور آندھرا پردیش میں 191 بچوں کی بازآبادکاری کی گئی۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:1779


(ریلیز آئی ڈی: 2297407) وزیٹر کاؤنٹر : 47