وزارتِ تعلیم
طلبہ میں خودکشی کے واقعات پر قومی سطح کا مطالعہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 AUG 2026 4:19PM by PIB Delhi
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) پولیس میں درج خودکشی کے معاملات کی بنیاد پر خودکشی سے متعلق اعداد و شمار جمع کرتا ہے۔ ملک میں حادثاتی اموات اور خودکشیوں سے متعلق جامع تجزیہ این سی آر بی کی بھارت میں حادثاتی اموات اور خودکشی کے معاملات’’ایکسیڈینٹل ڈیتھس اینڈ سوسائڈز اِن انڈیا‘‘ (اے ڈی ایس آئی) سالانہ رپورٹ میں شائع کیا جاتا ہے۔ ان رپورٹوں میں طلبہ کی خودکشی کے سالانہ، ریاستی، صنفی اور عمر کے اعتبار سے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خودکشی کے مختلف اسباب میں پیشہ ورانہ اور کیریئر سے متعلق مسائل، تنہائی کا احساس، بدسلوکی، تشدد، خاندانی مسائل، ذہنی عوارض، شراب کی لت، مالی نقصان اور دائمی درد وغیرہ شامل ہیں۔
خودکشی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت مختلف سطحوں پر اقدامات کر رہی ہے اور طلبہ، اساتذہ اور خاندانوں کو ذہنی و جذباتی صحت بہتر بنانے کے لیے نفسیاتی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔
وزارت تعلیم کی جانب سے ’منودرپن‘ اقدام کے تحت طلبہ، اساتذہ اور خاندانوں کی ذہنی و جذباتی صحت کے لیے مختلف سرگرمیاں چلائی جارہی ہیں۔ ان میں تربیت یافتہ کونسلرز کے ذریعے رہنمائی فراہم کرنے والی قومی ٹول فری ہیلپ لائن، باقاعدگی سے منعقد ہونے والے براہ راست انٹرایکٹو سیشن ’سہیوگ‘ اور ویبینار ’پری چرچا‘ شامل ہیں۔ یہ پروگرام پی ایم ای-ودیا چینلز پر نشر کیے جاتے ہیں اور ’این سی ای آر ٹی آفیشل‘ یوٹیوب چینل پر بھی دستیاب ہیں۔
مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) نے اپنے الحاقی ضوابط کے تحت اس سے وابستہ ہر سیکنڈری اور سینئر سیکنڈری اسکول میں کونسلر اور ویلنیس ٹیچر کی تقرری لازمی قرار دی ہے۔ نوودیہ ودیالیہ سمیتی میں ہر جواہر نوودیہ ودیالیہ میں ایک مرد اور ایک خاتون، دو کونسلرز کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر رکھنے کی سہولت ہے۔ فروری 2026 تک ملک بھر کے جے این وی میں مجموعی طور پر 830 کونسلرز کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام کیندریہ ودیالیوں کو بھی فی الحال کنٹریکٹ کی بنیاد پر کونسلرز مقرر کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے جنوری 2023 میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے تیار کردہ خودکشی سے بچاؤ کی قومی حکمت عملی سے متعلق ایڈوائزری جاری کی۔ یو جی سی نے 13 اپریل 2023 کو رہنما خطوط بھی جاری کیے، جن میں طلبہ کے لیے جسمانی فٹنس اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے، تعلیمی اور ہم جماعتوں کے دباؤ، رویوں سے متعلق مسائل، تناؤ، کیریئر سے متعلق تشویش، ڈپریشن اور ذہنی صحت سے متعلق دیگر مسائل سے تحفظ کے انتظامات، مثبت سوچ اور جذبات کو فروغ دینے اور طلبہ کے لیے مثبت و معاون نیٹ ورک قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
یو جی سی نے اپنے تمام سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جن میں ایکس، انسٹاگرام، فیس بک، لنکڈ اِن، واٹس ایپ اور یوٹیوب شامل ہیں، پر اینٹی ریگنگ سے متعلق وسیع مہم بھی شروع کی ہے۔ ان مہمات میں 21 زبانوں میں مختصر ویڈیوز، بینرز اور دیگر مواد کے ذریعے آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ریگنگ کی روک تھام سے متعلق یو جی سی ضوابط 2009 کے تحت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں 24 گھنٹے قومی اینٹی ریگنگ ہیلپ لائن، اینٹی ریگنگ ورکشاپس اور سیمینار، اداروں کے پراسپیکٹس میں ریگنگ کے سنگین نتائج کی لازمی وضاحت، ہر تعلیمی سال طلبہ اور والدین کی جانب سے آن لائن حلف نامہ اور اداروں میں نمایاں مقامات پر اینٹی ریگنگ پوسٹرز کی نمائش شامل ہیں۔
وزارت تعلیم نے جولائی 2023 میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی جذباتی اور ذہنی بہبود سے متعلق رہنما فریم ورک جاری کیا، جس میں اداروں سے فعال اقدامات کرنے اور طلبہ میں اعتماد کا احساس پیدا کرنے کی اپیل کی گئی۔ رہنما خطوط میں کونسلنگ خدمات، ذہنی دباؤ کی ابتدائی شناخت، خودکشی سے بچاؤ کے معیاری طریقہ کار، طلبہ کے معاون نیٹ ورک، شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط بنانے اور ادارہ جاتی سطح پر باقاعدہ جائزے پر زور دیا گیا ہے۔
وزارت تعلیم نے جنوری 2024 میں کوچنگ مراکز کے ضابطے سے متعلق رہنما خطوط بھی جاری کیے، جن میں طلبہ کی معاونت اور تحفظ کے لیے کونسلنگ سہولیات، شفاف فیس ڈھانچہ، طلبہ کو الگ الگ بیچوں میں تقسیم کرنے پر پابندی اور تعلیمی دباؤ بڑھانے والے طریقوں سے تحفظ جیسے اقدامات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ پروگرام کے تحت مثبت ذہنی صحت، ذہنی مضبوطی اور بہبود کو فروغ دینے کے لیے مربوط طریقہ کار تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کے فیکلٹی ارکان کے لیے ہر دو ہفتے میں دو سیشن منعقد کیے جارہے ہیں، تاکہ انہیں طلبہ کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی ابتدائی شناخت اور مداخلت کے لیے بااختیار بنایا جاسکے۔
نومبر 2024 میں آئی آئی ٹی حیدرآباد اور نومبر 2025 میں آئی آئی ٹی بمبئی میں سالانہ قومی ویل بینگ کانکلیو منعقد کیے گئے۔ 12 اور 13 جولائی 2026 کو آئی آئی ٹی مدراس میں ذہنی صحت سے متعلق علاقائی ورکشاپ بھی منعقد ہوئی، جس میں اداروں کے سربراہان، فیکلٹی ارکان، طلبہ اور ذہنی صحت کے ماہرین نے شرکت کی۔
ادارہ جاتی سطح پر بھی متعدد اعلیٰ تعلیمی ادارے فعال اور کثیر سطحی ماڈل نافذ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آئی آئی ٹی کھڑگپور نے ’سیٹو‘ (سپورٹ، ایمپیتھی، ٹرانسفارمیشن اینڈ اپ لفٹمنٹ) فریم ورک نافذ کیا ہے، جس کے تحت فوری ردعمل پر مبنی نگہداشت سے آگے بڑھ کر 24 گھنٹے احتیاطی اور معاون خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ وزارت کی رہنما ہدایات کے مطابق آئی آئی ٹی مدراس، آئی آئی ٹی دہلی، آئی آئی ٹی گوہاٹی، آئی آئی ٹی گاندھی نگر اور آئی آئی ٹی روڑکی نے ذہنی بہبود اور تناؤ کے انتظام سے متعلق ورکشاپس منعقد کی ہیں۔
تمام آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، این آئی ٹی اور آئی آئی آئی ٹی نے اپنے کیمپس میں ذہنی صحت یا کونسلنگ مراکز قائم کیے ہیں، جہاں کل وقتی یا وزٹنگ پروفیشنل کونسلرز، کلینیکل سائیکالوجسٹس اور بعض صورتوں میں ماہر نفسیات خدمات فراہم کرتے ہیں۔ متعدد اداروں میں ذہنی صحت سے متعلق تربیتی سیشن بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد آگاہی پیدا کرنا، ذہنی صحت سے متعلق بدنامی کم کرنا اور طلبہ کو تناؤ سے نمٹنے، مسائل کا سامنا کرنے اور ذہنی صحت کے مسائل کی علامات پہچاننے کے طریقوں سے واقف کرانا ہے۔
ذہنی صحت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزارت صحت و خاندانی بہبود ملک میں قومی ذہنی صحت پروگرام بھی نافذ کر رہی ہے۔ اس کے تحت کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز کی سطح پر او پی ڈی خدمات، تشخیص، کونسلنگ، نفسیاتی و سماجی خدمات، شدید ذہنی عوارض میں مبتلا افراد کے لیے مسلسل نگہداشت و معاونت، ادویات، پہنچ اور ایمبولینس خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
حکومت نے بنیادی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک لاکھ 81 ہزار سے زیادہ ذیلی صحت مراکز اور پرائمری ہیلتھ مراکز کو آیوشمان آروگیہ مندروں میں اپ گریڈ کیا ہے۔ ان مراکز میں جامع بنیادی صحت خدمات کے پیکیج کے تحت ذہنی صحت کی خدمات بھی شامل کی گئی ہیں۔
قومی ٹیلی مینٹل ہیلتھ پروگرام 2022 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں معیاری ذہنی صحت کی کونسلنگ اور نگہداشت تک رسائی بہتر بنانا ہے۔ 6 اگست 2026 تک 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 53 ٹیلی مینٹل ہیلتھ اسسٹنس اینڈ نیٹ ورکنگ ایکروس اسٹیٹس (ٹیلی مانس) سیل قائم کیے جاچکے ہیں اور ہیلپ لائن نمبر پر 43 لاکھ 25 ہزار سے زیادہ کالز کے ذریعے خدمات دی جاچکی ہیں۔
حکومت نے ’ٹیلی مانس‘ موبائل ایپلی کیشن بھی شروع کی ہے، جو ذہنی بہبود سے لے کر ذہنی عوارض تک مختلف مسائل کے لیے معاونت فراہم کرنے والا جامع موبائل پلیٹ فارم ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ آڈیو کالنگ سروس کو مزید بہتر بناتے ہوئے ٹیلی مانس کے تحت ویڈیو کونسلنگ کی سہولت بھی شروع کی گئی ہے۔
یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانت مجمدار نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
s(U : 1758)
(ریلیز آئی ڈی: 2297374)
وزیٹر کاؤنٹر : 29