وزارتِ تعلیم
اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قومی تعلیمی پالیسی کا نفاذ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 AUG 2026 4:19PM by PIB Delhi
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے اعلان کے بعد اس کے نفاذ کے لیے اسکولی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں متعدد اہم اور تبدیلی لانے والے اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانت مجمدار نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
اسکولی تعلیم کے شعبے میں پی ایم شری (پردھان منتری اسکولز فار رائزنگ انڈیا) کے تحت اسکولوں کو بہتر بنانے، سمگر شکشا کے ذریعے تمام بچوں کے لیے معیاری، جامع اور مساوی تعلیمی ماحول فراہم کرنے، جماعت سوم تک بنیادی خواندگی اور عددی صلاحیت یقینی بنانے کے لیے نپن بھارت، تین ماہ کے کھیل پر مبنی اسکولی تیاری کے ماڈیول ’ودیا پرویش‘ اور ڈیجیٹل، آن لائن و آن ایئر تعلیم کو یکجا کرنے کے لیے پی ایم ای-ودیا جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ بنیادی تعلیمی مرحلے کے لیے قومی نصابی فریم ورک (این سی ایف ایف ایس) اور 3 سے 8 سال کی عمر کے بچوں کے لیے کھیل پر مبنی تدریسی مواد ’جادوئی پٹارا‘ متعارف کرایا گیا ہے۔ اساتذہ اور اسکول سربراہان کی جامع ترقی کے لیے نِشٹھا 1.0، 2.0 اور 3.0، ودیا سمیکشا کیندر، مربوط اساتذہ تعلیم پروگرام اور قومی ڈیجیٹل تعلیمی فن تعمیر (این ڈی ای اے آر) بھی نافذ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام غیر خواندہ افراد کو ہدف بنا کر ’نیو انڈیا لٹریسی پروگرام‘ یا ’اُلّاس‘ شروع کیا گیا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف)، نیشنل ہائر ایجوکیشن کوالیفیکیشن فریم ورک (این ایچ ای کیو ایف)، انڈر گریجویٹ پروگرام کے لیے نصاب اور کریڈٹ فریم ورک، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں متعدد داخلہ و اخراج کے مواقع اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کثیر الشعبہ جاتی اداروں میں تبدیل کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
طلبہ کو بیک وقت دو تعلیمی پروگرام کرنے کی اجازت، ’آٹومیٹڈ پرمننٹ اکیڈمک اکاؤنٹ رجسٹری‘ (اے پی اے اے آر آئی ڈی) اور پی ایم ودیالکشمی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اے پی اے اے آر آئی ڈی طلبہ کی پری پرائمری سے اعلیٰ تعلیم تک تعلیمی پیش رفت اور کامیابیوں کو ٹریک کرنے کے لیے مستقل شناخت کے طور پر کام کرے گی، جبکہ پی ایم ودیالکشمی اسکیم کے تحت مستحق طلبہ کو آسان، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل عمل کے ذریعے بغیر ضمانت اور بغیر ضامن قرض کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
اوپن اور فاصلاتی تعلیم اور آن لائن تعلیم کے ضوابط میں ترمیم، مالویہ مشن اساتذہ تربیتی پروگرام کی ازسرنو تشکیل، سویم پلیٹ فارم کے ذریعے باقاعدہ کورسز میں 40 فیصد تک کریڈٹ حاصل کرنے کی اجازت اور مہارتوں کو بہتر بنانے اور نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے سویم پلس پورٹل کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔
اعلیٰ تعلیمی اداروں کے انتظامی امور میں داخلے سے لے کر ڈگری جاری ہونے تک ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ’سامرتھ‘ پلیٹ فارم نافذ کیا گیا ہے۔ صنعت کے ماہرین کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ’پروفیسر آف پریکٹس‘ کے طور پر شامل کرنے، بیرون ملک طلبہ کے لیے اضافی نشستیں مختص کرنے، بھارتی اور غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان ٹوئننگ، مشترکہ اور دوہری ڈگری پروگرام شروع کرنے اور غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ہندوستان میں کیمپس قائم کرنے کی اجازت دینے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
تعلیم مشترکہ فہرست کا موضوع ہے اور مرکزی و ریاستی حکومتیں تعلیم کے مجموعی معیار اور ترقی کو بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون سے کام کرتی ہیں۔ این ای پی 2020 میں اس کے نفاذ کے لیے مختلف مدت، اصول اور طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں۔ اسی کے مطابق وزارت تعلیم، ریاستی حکومتوں، متعلقہ وزارتوں اور اسکولی و اعلیٰ تعلیم کے ریگولیٹری اور نفاذی اداروں نے پالیسی پر عمل درآمد کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔
حکومت این ای پی 2020 کے مقاصد کے مطابق سمگر شکشا کے تحت مختلف اقدامات کے ذریعے اسکولی تعلیم میں ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دے رہی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سالانہ ورک پلان اور بجٹ کی بنیاد پر آئی سی ٹی لیبز اور اسمارٹ کلاسوں سمیت ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔
’دکشا‘ (ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فار نالج شیئرنگ) اسکولی تعلیم کے لیے ’ایک ملک، ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم‘ کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں تمام جماعتوں کے لیے معیاری ڈیجیٹل تعلیمی مواد اور کیو آر کوڈ والے نصابی کتب دستیاب ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر آن لائن اور آف لائن دونوں سہولیات موجود ہیں، جس سے طلبہ انٹرنیٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی تعلیمی مواد ڈاؤن لوڈ کرکے تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔
مرکزی بجٹ 2025 میں دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بھارت نیٹ پروجیکٹ کے تحت دیہی علاقوں کے تمام سرکاری ثانوی اسکولوں کو بی ایس این ایل کے ذریعے براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں سویم، سویم پربھا، ای-پی جی پاٹھ شالا اور یو جی سی ای-ریسورس پورٹل جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم طلبہ کو معیاری تعلیمی مواد تک رسائی فراہم کر رہے ہیں۔ یو جی سی ای-ریسورس پورٹل کو ڈیجیٹل سیوا پورٹل سے جوڑنے کے بعد دیہی علاقوں میں کامن سروس سینٹرز کے ذریعے بھی رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ منتخب تعلیمی مواد علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب ہے۔
لچکدار تعلیمی مواقع کو وسعت دینے کے لیے 126 اعلیٰ تعلیمی ادارے تقریباً 802 آن لائن پروگرام پیش کر رہے ہیں، جبکہ 121 ادارے تقریباً 1,699 اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ پروگرام چلا رہے ہیں۔
این ای پی 2020 میں روزگار کے مواقع، کاروباری صلاحیت اور زندگی بھر سیکھنے کو فروغ دینے کے لیے ہنرمندی کی ترقی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو اعلیٰ تعلیم کے مرکزی دھارے سے جوڑنے پر زور دیا گیا ہے۔
اسکولی سطح پر سمگر شکشا کے تحت ہنرمندی کی تعلیم کو باقاعدہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ جماعت نہم سے بارہویں تک طلبہ کو این ایس کیو ایف سے ہم آہنگ ہنرمندی کے کورسز کرائے جاتے ہیں، جن میں ابلاغی مہارت، خود انتظامی صلاحیت، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، کاروباری صلاحیت اور سبز ہنرمندی شامل ہیں۔
این ای پی 2020 کے مطابق جماعت ششم سے ہشتم کے طلبہ کو ’بیگ لیس ڈیز‘، مقامی پیشہ ورانہ ماہرین کے ساتھ انٹرن شپ اور تجرباتی تعلیم کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں سے ابتدائی واقفیت کرائی جاتی ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں یو جی سی نے قومی اعلٰی تعلیم کوالیفیکیشن فریم ورک کو نیشنل کریڈٹ فریم ورک کے مطابق نافذ کیا ہے، تاکہ عمومی، پیشہ ورانہ اور تجرباتی تعلیم کو مربوط کیا جاسکے۔ نیشنل کریڈٹ فریم ورک تعلیمی، پیشہ ورانہ اور ہنرمندی پر مبنی تعلیم کے درمیان کریڈٹ جمع کرنے اور منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ اکیڈمک بینک آف کریڈٹس تعلیمی نقل و حرکت کو آسان بناتا ہے۔
یو جی سی نے انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام کے لیے رہنما خطوط بھی جاری کیے ہیں، جن کے تحت انڈر گریجویٹ طلبہ اپنی ڈگری کے ساتھ منظم انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ کے ذریعے صنعت سے متعلق مہارتیں حاصل کرسکتے ہیں۔
اے آئی سی ٹی ای تکنیکی تعلیم میں ہنرمندی کی ترقی کو مربوط کرنے کے لیے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ طلبہ کے لیے نصاب سے ہم آہنگ آن لائن ہنرمندی کے کورسز، لازمی انٹرن شپ اور پیشہ ورانہ ڈگری پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ اے آئی سی ٹی ای نے انٹرن شپ، ہنرمندی کی ترقی اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مختلف معروف صنعتوں اور اداروں کے ساتھ مفاہمت نامے بھی کیے ہیں، جن کے ذریعے طلبہ اور اساتذہ کو انڈسٹری 4.0 ٹیکنالوجیز کا عملی تجربہ فراہم کیا جارہا ہے۔
نصاب میں ملازمتوں کے رولز اور سویم کورسز کے حصے کے طور پر روزگار سے متعلق مہارتوں کا ماڈیول بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں ابلاغی مہارت، خود انتظامی صلاحیت، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، کاروباری مہارت اور سبز ہنرمندی شامل ہیں۔
ہنرمندی کی ترقی کے لیے ’سویم پلس‘ پورٹل بھی شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد افرادی قوت کی موجودہ مہارتوں کو بہتر بنانا اور نئی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ 17 شعبوں میں 89 صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے 500 سے زائد کورسز تیار کیے گئے ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے تجزیے جیسے ابھرتے ہوئے شعبے شامل ہیں۔ اب تک 6 لاکھ سے زیادہ طلبہ نے اس پلیٹ فارم پر اپنا رجسٹریشن کرایا ہے۔
نیشنل اپرنٹس شپ ٹریننگ اسکیم (این اے ٹی ایس) گریجویٹس اور ڈپلومہ ہولڈرز کو صنعت میں عملی تربیت فراہم کرکے روایتی تعلیم اور صنعت کی ضروریات کے درمیان خلا کو پُر کرتی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام، مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں اپرنٹس شپ اور تعلیمی کریڈٹ کو مربوط کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزارت ہنرمندی کے فروغ اور انٹرپرینیورشپ نے بھی مختلف اسکیموں اور اقدامات کے ذریعے ہنرمندی کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ وزارت کی اہم اسکیموں میں پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)، جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) اور نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) شامل ہیں۔ ڈی جی ٹی کے تحت 13,856 سے زائد آئی ٹی آئی کے نیٹ ورک کے ذریعے کاریگر تربیتی اسکیم (سی ٹی ایس) اور کرافٹ انسٹرکٹر ٹریننگ اسکیم (سی آئی ٹی ایس) کے تحت طویل مدتی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی سمگر شکشا اسکیم نافذ کر رہا ہے، جو پری اسکول سے بارہویں جماعت تک اسکولی تعلیم کے لیے مربوط مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے۔ اس کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اسکول کی عمارتوں، اضافی کلاس رومز، لیبارٹریوں، لائبریریوں، ہاسٹلز، رہائشی اسکولوں، پینے کے پانی، صفائی ستھرائی، بجلی، اسمارٹ کلاس رومز، آئی سی ٹی لیبز اور ڈیجیٹل تعلیمی وسائل سمیت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے محکمہ کی جانب سے راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان (روسّا) نافذ کیا جارہا ہے، جس کا مقصد مخصوص ریاستی یونیورسٹیوں اور کالجوں کو مالی مدد فراہم کرکے مقررہ معیار اور اصولوں کے مطابق ان کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ جون 2023 میں روسّا کے تیسرے مرحلے کو پردھان منتری اُچّتر شکشا ابھیان (پی ایم اُشا) کی شکل میں شروع کیا گیا، جس کے لیے 12,926.10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس میں روسّا کے سابقہ مراحل کی واجب الادا رقم بھی شامل ہے۔
پی ایم اُوشا کے تحت تعلیمی طور پر محروم اور کم سہولت والے علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہاسٹلز، تعلیمی و انتظامی عمارتوں، لیبارٹریوں اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی و معیار بہتر بنانے کے لیے درکار دیگر سہولیات کی تعمیر سمیت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد دی جاتی ہے۔
این ای پی 2020 کے مقاصد کے مطابق طلبہ کے لیے ہندوستانی زبانوں میں معیاری تعلیمی مواد دستیاب کرانے کے لیے مرکزی بجٹ 2025-26 میں بھارتیہ بھاشا پستک اسکیم (بی بی پی ایس) کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت اسکولی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ہندوستانی زبانوں میں ڈیجیٹل شکل میں کتابیں فراہم کی جائیں گی۔ بی بی پی ایس کے تحت تعلیمی مواد 22 ہندوستانی زبانوں میں دستیاب کرانے کا منصوبہ ہے۔
مرکزی بجٹ 2026-27 میں لڑکیوں کے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم) اداروں اور کورسز میں داخلے کی حوصلہ افزائی کے لیے قابل عملیت کے فرق کی مالی معاونت یا سرمایہ جاتی تعاون کے ذریعے ہر ضلع میں ایک گرلز ہاسٹل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانت مجمدار نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
***********
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1757 )
(ریلیز آئی ڈی: 2297369)
وزیٹر کاؤنٹر : 41