سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے پر زور دیا


حکومت عالمی سطح پر مسابقتی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کا مضبوط نظام تشکیل دینے کے لیے کوششیں تیز کر رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مقامی حیاتیاتی ٹیکنالوجی مصنوعات کے فروغ اور سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے صنعتوں تک مؤثر رسائی بڑھانے پر زور دیا

بی آئی آر اے سی-آر ڈی آئی ایف مقامی حیاتیاتی ٹیکنالوجی اختراعات کو تجارتی شکل دینے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے 5200 کروڑ روپے کی معاونت فراہم کرے گا

بی آئی آر اے سی لائف سائنسز جی سی سی، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی شراکت داری اور اسٹارٹ اپ-انوسٹر کنیکٹ کے ذریعے صنعت کے ساتھ روابط مضبوط کرے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 AUG 2026 4:10PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور حیاتیاتی علوم کے شعبے میں مقامی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے صنعتوں تک رسائی کو مضبوط بنانے اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنے پر زور دیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کی مقامی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں، صنعت اور سرمایہ کاروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ امید افزا اختراعات کو تحقیق و ترقی کے مرحلے سے تیزی سے تجارتی سطح تک پہنچایا جاسکے۔

وزیر موصوف نے یہ بات نئی دہلی میں بائیو ٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی) کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران کہی، جس میں بھارت کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام میں سرمایہ کاری، صنعت کی شمولیت اور منڈی کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے متعدد اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

میٹنگ میں بی آئی آر اے سی ریسرچ ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن فنڈ (بی آئی آر اے سی-آر ڈی آئی ایف) کے نفاذ، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں صنعت کی شمولیت کو مضبوط بنانے، لائف سائنسز کے عالمی صلاحیتی مراکز (جی سی سی) کو ملک کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام کے ساتھ مربوط کرنے، حیاتیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کے لیے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) سے فائدہ اٹھانے، بی آئی آر اے سی کی رسائی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی شناخت کو بڑھانے، نیز حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے وابستہ اسٹارٹ اپس اور اداروں کے لیے سرمایہ کاروں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔میٹنگ میں بی آئی آر اے سی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے سینئر مشیر/سائنس دان ’ایچ‘ڈی بی ٹی؛ ڈاکٹر دھننجے تیواری، بی آئی آر اے سی-آر ڈی آئی ایف کے گروپ جنرل منیجر اور سربراہ ڈاکٹر منیش دیوان،  کارپوریٹ و قانونی امور کی جنرل منیجر اور سربراہ سی ایس کویتا آنندانی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران موجود تھے۔

بی آئی آر اے سی-آر ڈی آئی ایف، حکومت ہند کے ایک لاکھ کروڑ روپے کے تحقیق، ترقی اور اختراع فنڈ کا ایک اہم جزو ہے، جس کا مقصد ’وکست بھارت 2047‘ کے تصور کے تحت ڈیپ ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات اور اعلیٰ اثرات رکھنے والی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔ معزز وزیر اعظم نے 3 نومبر 2025 کو اس تحقیق، ترقی اور اختراع فنڈ کا آغاز کیا تھا۔ اس فنڈ کا انتظام انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) اور محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کرتے ہیں، جبکہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے بی آئی آر اے سی کو ثانوی سطح کے فنڈ منیجر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

بی آئی آر اے سی-آر ڈی آئی ایف کو مقامی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی اختراعات کی ترقی اور تجارتی سطح پر فراہمی میں معاونت کے لیے وضع کیا گیا ہے، خصوصاً ایسے اعلیٰ خطرے اور ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کے لیے جو ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح 4 سے 9 تک کے مراحل پر ہوں۔ اہل ٹیکنالوجی اداروں، جن میں اسٹارٹ اپس اور صنعتی ادارے شامل ہیں، کو 5 کروڑ روپے سے 200 کروڑ روپے تک کی مالی معاونت فراہم کی جاسکتی ہے، جو منصوبے کی مجموعی لاگت کے 50 فیصد تک ہوسکتی ہے۔ اس فنڈ کے تحت بغیر کسی ضمانتی اثاثے کے طویل مدتی قرضے، ایکویٹی اور ہائبرڈ ذرائع کے ذریعے معاونت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ نجی شعبے کی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری کا ایک حکمت عملی پر مبنی نظام وضع کیا گیا ہے۔

بی آئی آر اے سی نے فنڈ کے مختص دائرۂ کار میں مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایک علیٰحدہ بی آئی آر اے سی-آر ڈی آئی ایف ڈویژن قائم کیا ہے۔ تجاویز طلب کرنے کے لیے پہلا قومی اعلان 13 فروری 2026 کو جاری کیا گیا، جس کے ساتھ بی آئی آر اے سی-آر ڈی آئی ایف کی ویب سائٹ اور اہل اسٹارٹ اپس اور صنعتی اداروں سے درخواستیں وصول کرنے کے لیے ایک مربوط برقی پورٹل بھی شروع کیا گیا۔ مجموعی طور پر 198 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان کی اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق جانچ کی جارہی ہے۔ پہلی 50 درخواستوں کی ابتدائی جانچ اور تشخیص مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ بیرونی ماہرین پر مشتمل سرمایہ کاری کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر اب تک آٹھ اہل ٹیکنالوجی اداروں کا انتخاب کیا جاچکا ہے۔ یہ ادارے فی الحال قرض یا ایکویٹی معاہدوں میں داخل ہونے سے قبل تفصیلی جانچ پڑتال کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

میٹنگ میں لائف سائنسز کے عالمی صلاحیتی مرکز (جی سی سی) کے بڑھتے ہوئے نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں صنعت کی شمولیت کو مزید گہرا کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ بھارت میں اس وقت 1,700 سے زیادہ عالمی صلاحیتی مراکز قائم ہیں، جن میں تقریباً 19 لاکھ ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ لائف سائنسز اور صحت کے شعبے سے متعلق عالمی صلاحیتی مراکز حیاتیاتی ادویات، طبی آلات اور ڈیجیٹل صحت سمیت مختلف شعبوں میں تحقیق و ترقی کے اہم مراکز کے طور پر ابھرے ہیں۔ بی آئی آر اے سی بنیادی ڈھانچے، آزمائشی پیمانے پر پیداوار اور تحقیق و ترقی سے متعلق ان کی ضروریات کا جائزہ لے کر اور انہیں بھارت کی بایو ای تھری بایو فاؤنڈریز، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے انکیوبیٹرز اور اسٹارٹ اپس سے جوڑ کر، موجودہ اور آئندہ قائم ہونے والے عالمی صلاحیتی مراکز کو ملک کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام کے ساتھ زیادہ مؤثر طور پر مربوط کرنے میں سہولت فراہم کرے گا۔

میٹنگ کے دوران حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام کو وسعت دینے میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے کردار پر بھی غور کیا گیا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں سی ایس آر کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور صحت کا شعبہ سی ایس آر سرمایہ کاری کا ایک اہم حصہ حاصل کرتا ہے۔ بی آئی آر اے سی اپنی سائنسی جانچ پڑتال کی صلاحیت، ملک گیر نیٹ ورک اور شفاف گرانٹ انتظامی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سی ایس آر سرمایہ کاری کو حیاتیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی سماجی اختراعات کی جانب منتقل کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے۔ اس ضمن میں جن شعبوں کی نشان دہی کی گئی ہے، ان میں کم لاگت والی صحت کی سہولیات، تشخیص، ماں اور بچے کی صحت، غذائیت، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت اور ہنرمندی کی ترقی شامل ہیں۔ بی آئی آر اے سی کے پاس پہلے ہی سی ایس آر پر عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کا ایک نظام موجود ہے اور وہ کارپوریٹ سی ایس آر کے تحت آزمائشی اقدامات بھی کرچکا ہے، جو ایسی شراکت داریوں کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

بی آئی آر اے سی کی رسائی اور تشہیر کو مضبوط بنانا بھی میٹنگ کے اہم موضوعات میں شامل تھا۔ بی آئی آر اے سی نے جموں اور وڈودرا کے ہوائی اڈوں پر تشہیری اقدامات کی تجویز پیش کی ہے، تاکہ محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور بی آئی آر اے سی کی کامیابیوں کو اجاگر کیا جاسکے اور کارپوریٹ اداروں، سرمایہ کاروں اور عالمی شراکت داروں میں بھارت کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام کے ساتھ تعاون کے مواقع کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کی جاسکے۔ جموں حیاتیاتی ٹیکنالوجی، صحت اور زرعی اختراعات کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ وڈودرا میں ادویہ سازی، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار کا ایک مستحکم نظام موجود ہے۔

میٹنگ میں بھارت کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نظام کو مضبوط بنانے، بالخصوص ترقی کے مرحلے میں موجود اداروں کے لیے سرمایہ تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں بی آئی آر اے سی نے ’بی آئی آر اے سی اسٹارٹ اپ انویسٹر کنیکٹ‘ کے نام سے ایک مخصوص پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جو سرمایہ کاری کے لیے تیار حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لائے گا۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں زیادہ بیداری پیدا کرنا، تزویراتی شراکت داریوں کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا اور اختراعی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے تجارتی سطح تک پہنچانے میں مدد دینا ہے۔

میٹنگ کے دوران زیرِ بحث آنے والے اقدامات کا مقصد بھارت کی سائنسی صلاحیتوں، مقامی حیاتیاتی ٹیکنالوجی مصنوعات، صنعت اور سرمایہ کاری کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور سرکاری و نجی شعبے کی شمولیت کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد بھارتی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی اختراعات کو تجربہ گاہ میں توثیق کے مرحلے سے تجارتی سطح تک پہنچانے کے عمل کو تیز کرنا اور ’وکست بھارت 2047‘ کے تصور سے ہم آہنگ عالمی سطح پر مسابقتی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام کی مضبوط بنیاد قائم کرنا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00155A4.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002AOQ1.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003PLP6.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004L5KE.jpg

***

ش ح۔م م    ۔ ع د

U-No. 1742


(ریلیز آئی ڈی: 2297235) وزیٹر کاؤنٹر : 33