وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

کیرالہ کی روایتی ماہی گیر برادری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 JUL 2026 4:02PM by PIB Delhi

ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں  بتایا کہ  حکومت  ہند کا محکمۂ ماہی گیری، کیرالہ سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ماہی گیری کے شعبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کر رہا ہے۔ ان میں نیلی انقلاب اسکیم (16-2015  تا 20-2019)، ماہی گیروں کو(2018 سے2019) کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی)کی سہولت فراہم کرنا، ماہی گیری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فنڈ ( ایف آئی ڈی ایف) (19-2018 تا 26-2025)، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم- ایم ایس وائی)(21-2020 تا 27-2026) اور نئی مرکزی شعبہ جاتی ذیلی اسکیم  یعنی پردھان منتری  متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم- ایم کے ایس ایس و ائی) (24-2023 تا 27-2026) شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد مچھلی کی پیداوار میں اضافہ، آبی وسائل کا پائیدار استعمال یقینی بنانا، پیداوار سے منڈی تک کی پورے چین کو مضبوط کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، ماہی گیروں کی حفاظت اور سلامتی یقینی بنانا اور ماہی گیروں و مچھلی پالنے والوں کی سماجی و معاشی خوش حالی کو فروغ دینا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں اور موجودہ مالی سال 27-2026 کے دوران پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت بھارت حکومت کے محکمۂ ماہی گیری نے کیرالہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ماہی گیری کے شعبے کی ترقی سے متعلق منصوبوں کے لیے1,413.91 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ منظور شدہ سرگرمیوں میں ماہی گیری پر پابندی کے عرصے کے دوران ماہی گیروں کو روزگار کے ذرائع فراہم کرنے کے لیے مالی مدد، روایتی ماہی گیروں کو کشتیوں اور جالوں کی خریداری کے لیے معاونت، مربوط جدید ساحلی ماہی گیر بستیوں کا قیام، آب و ہوا کی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ ساحلی ماہی گیر بستیوں کا قیام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متبادل اور اضافی روزگار کے ذرائع کے طور پر دوصدفی جانداروں کی پرورش، پنجرہ جاتی مچھلی پروری، آرائشی مچھلیوں کی پرورش، مچھلی منڈیوں اور فروخت مراکز کا قیام، سرد خانہ و ترسیل کی سہولت، زندہ مچھلی فروخت مراکز، ضرورت کے مطابق تربیت اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگرام، نیز ماہی گیری کی بندرگاہوں اور مچھلیوں کی فروخت و ترسیل کی سہولیات کی ترقی بھی شامل ہے۔

مرکزی حکومت اعلیٰ معیار کے مٹی کے تیل کی سہ ماہی بنیاد پر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مختص کرتی ہے، تاہم عوامی تقسیم کے نظام کے تحت کسی ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں اس کی تقسیم مکمل طور پر متعلقہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس، جو اس معاملے کی مرکزی وزارت ہے، نے بتایا ہے کہ چونکہ مٹی کا تیل آلودگی پھیلانے والا ایندھن ہے اور صحت عامہ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، اس لیے 11-2010 سے کیرالہ سمیت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے عوامی تقسیم کے نظام کے تحت مٹی کے تیل کے کوٹے کو مرحلہ وار کم کیا جا رہا ہے۔ اب تک 21 ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے عوامی تقسیم کے نظام کے تحت مٹی کے تیل سے مکمل طور پر پاک ہو چکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے متعلقہ فریقوں، بشمول کیرالہ حکومت، سے مشاورت کے بعد 26-2025 سے 28-2027 کی مدت کے لیے نئی ‘‘عوامی تقسیم کے نظام کے تحت مٹی کے تیل کی تخصیص کی پالیسی’’  وضع کی ہے۔ اس پالیسی کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو کھانا پکانے اور روشنی کے لیے، نیز خصوصی ضروریات کے لیے سہ ماہی بنیاد پر ایک ہی زمرے ‘‘عوامی تقسیم کے نظام کا مٹی کا تیل’’ کے تحت کوٹہ مختص کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ریاستی حکومتوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق اس کوٹے کو کھانا پکانے اور روشنی یا خصوصی ضروریات، مثلاً ماہی گیری، میلوں، نمائشوں، وبائی صورتِ حال اور قدرتی آفات وغیرہ کے لیے تقسیم کر سکتی ہیں۔ ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں عوامی تقسیم کے نظام کے ذریعے مٹی کے تیل کی تقسیم متعلقہ حکومت ہی کرتی ہے۔ چنانچہ اس کی مقدار اور تقسیم کے معیار کا تعین بھی متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی حکومت کرتی ہے۔

وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے مزید بتایا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت سال 26-2025 میں کیرالہ حکومت کے لیے عوامی تقسیم کے نظام کے تحت 22,704 کلو لیٹر مٹی کا تیل مختص کیا گیا، جبکہ سال 25-2024 میں یہ مقدار 4,368 کلو لیٹر تھی۔ اس طرح مختص مقدار میں419.78 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 26-2025 کے دوران مختص کردہ 22,704 کلو لیٹر میں سے ریاست نے 17,724 کلو لیٹر مٹی کا تیل حاصل کیا، جبکہ 4,980 کلو لیٹر مقدار استعمال میں نہیں لائی جا سکی۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال کے پیشِ نظر وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے 12 مارچ 2026 کے مراسلہ کے ذریعے کیرالہ کو کھانا پکانے اور روشنی کے لیے 1,716 کلو لیٹر عوامی تقسیم کے نظام کا مٹی کا تیل اضافی طور پر مختص کیا تھا، جسے 30 جون 2026 تک حاصل کیا جا سکتا تھا۔ مختص مقدار میں سے ریاست نے صرف 1,512 کلو لیٹر حاصل کیا، جبکہ 204 کلو لیٹر مقدار استعمال میں نہیں لائی جا سکی۔ اس کے علاوہ ، مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون 2026) اور دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2026) کے لیے کیرالہ کو 4,068 کلو لیٹر فی سہ ماہی مٹی کا تیل مختص کیا گیا ہے۔

***

 ش ح ۔ا ک۔ش ت

UNO-1732


(ریلیز آئی ڈی: 2297146) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Malayalam