وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
آندھرا پردیش میں سمندری وساحلی معیشت کے منصوبے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2026 4:02PM by PIB Delhi
حکومتِ ہندکے تحت ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے تحت محکمۂ ماہی پروری، پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) نافذ کر رہا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد بھارت میں ماہی گیری کے شعبے کی پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کے ذریعے نیلگو انقلاب برپا کرنا ہے۔ یہ اسکیم 2020-21 سے آندھرا پردیش سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں نافذ ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت آندھرا پردیش میں ماہی گیری اور اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے ریاستی حکومت کی 2,328.89 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت کی تجاویز منظور کی ہیں، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 681.38 کروڑ روپے ہے۔ ریاست کی جانب سے فنڈز کے استعمال کی بنیاد پر 445.05 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت گزشتہ چھ برسوں کے دوران منظور کیے گئے منصوبوں، منظور شدہ اور جاری کردہ فنڈز کی سال بہ سال تفصیلات ضمیمہ اول میں دی گئی ہیں۔
آندھرا پردیش میں ماہی گیری کے فروغ کے لیے پی ایم ایم ایس وائی کے تحت منظور کیے گئے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں 5 مچھلی کی خوراک تیار کرنے والے کارخانے، 16 کولڈ اسٹوریج اور برف بنانے کے کارخانے، 6 جدید مچھلی پالنے کے مراکز، 3 جدید ماہی گیری بندرگاہیں، وشاکھاپٹنم کی ماہی گیری بندرگاہ کی جدید کاری اور ایک مربوط آبی زراعت پارک کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ 15 موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ ساحلی ماہی گیروں کے گاؤں اور ایک مچھلی افزائشی ذخیرہ مرکز بھی منظور کیا گیا ہے۔
حکومت متعلقہ فریقوں اور برآمدات کے فروغ سے متعلق اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے عالمی تجارتی ماحول سمیت جغرافیائی و سیاسی حالات، میں ہونے والی پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ مغربی ایشیا کے تنازع کے آندھرا پردیش سے ہونے والی سمندری خوراک کی برآمدات پر اثرات کا ریاستی سطح پر الگ سے جائزہ نہیں لیا گیا ہے، تاہم حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے تجارت سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں اپریل 2026 میں نئی دہلی میں سمندری خوراک کے برآمد کنندگان کی میٹنگ اور جون 2026 میں آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں سمندری خوراک کی برآمدات سے متعلق قومی ورکشاپ شامل ہیں۔ ان اجلاسوں میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ منڈیوں میں تنوع، آزاد تجارتی معاہدوں، غیر محصولاتی رکاوٹوں، اشیا کی نقل و حرکت کا سراغ رکھنے کے نظام، رسد اور برآمدی مسابقت جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عالمی سطح پر جاری جغرافیائی و سیاسی اور تجارتی چیلنجز کے باوجود حکومتِ ہند کی جانب سے کیے گئے مختلف اقدامات کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے دوران بھارت کی سمندری خوراک کی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح 19.72 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں، جن کی مالیت 73,890.46 کروڑ روپے (8.46 ارب امریکی ڈالر) رہی۔
ضمیمہ اول
آندھرا پردیش میں سمندری وساحلی معیشت کے منصوبوں سے متعلق تفصیل
(رقم لاکھ روپے میں)
|
نمبر شمار
|
سال
|
پروجیکٹ کی کل لاگت
|
مرکزی حصہ
|
جاری کیاگیافنڈ
|
|
1
|
21-2020
|
27560.00
|
7957.00
|
7957.00
|
|
2
|
22-2021
|
41400.97
|
15806.02
|
14452.00
|
|
3
|
2022-23
|
148828.20
|
38,514.40
|
19258.00
|
|
4
|
2023-24
|
7145.00
|
2748.00
|
687.00
|
|
5
|
2024-25
|
6815.00
|
2457.00
|
641.00
|
|
6
|
2025-26
|
1139.99
|
655.65
|
1509.85
|
|
|
کل
|
232889.16
|
68,138.07
|
44504.85
|
یہ جانکاری ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں دی۔
******
( ش ح ۔ ع ح ۔ م ا )
Urdu.No-1730
(ریلیز آئی ڈی: 2297111)
وزیٹر کاؤنٹر : 14