کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

 ہندوستا ن  نے 2026 میں برکس کی صدارت کے تحت جے پور میں 16ویں برکس وزرائے تجارت اجلاس کامیابی سے مکمل کیا


اجلاس میں چیئر کا اعلامیہ اور چار ضمیموں پر مشتمل نتائج کی دستاویز جاری کی گئی

برکس رکن ممالک نے برکس اقتصادی شراکت داری کی حکمت عملی - 2030 کو حتمی شکل دینے کی سمت پیش رفت کے لیے  ہندوستان  کی قیادت کو سراہا

حکومت نے کثیر الجہتی تجارتی نظام میں جس کے مرکز میں عالمی تجارتی تنظیم ہے،ہندوستانی کسانوں کے مفادات کے تحفظ، غذائی اور معاشی روزگار کے تحفظ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے خصوصی اور امتیازی سلوک کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا

جے پور اتفاق رائے اور چھوٹے و درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں کے لیے قرض کی رہنما اصولوں پر اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد تجارتی مالیات کے خلا کو پر کرنا اور چھوٹے کاروباری اداروں کی عالمی منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینا ہے

 ہندوستان نےبرکس ممالک کے درمیان متوازن اور وسیع تر تجارت، خدمات کے شعبہ میں زیادہ تجارت اور مضبوط و متنوع عالمی قدر کی چین کو فروغ دینے کی بھرپور حمایت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 AUG 2026 8:41PM by PIB Delhi

 سال  - 2026 میں  ہندوستان  کی برکس صدارت کے تحت16ویں برکس وزرائے تجارت کے اجلاس کا آج راجستھان کے جے پور میں کامیابی کے ساتھ اختتام ہوا۔ اجلاس کی صدارت مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے کی۔ اجلاس میں مرکزی وزیر مملکت برائے تجارت و صنعت جناب جتن پرسادا اور تجارت کے سکریٹری جناب راجیش اگروال نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا  کلیدی موضوع ‘‘لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر’’ تھا۔ اس اجلاس سے قبل 3 اور 4 اگست -  2026 کو نئی دہلی میں برکس اقتصادی و تجارتی امور کے رابطہ گروپ (سی جی ای ٹی آئی) کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں برکس رکن ممالک کے وزرائے تجارت، نائب وزرائے تجارت، وفود کے سربراہان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے معزز غیر ملکی مندوبین میں برازیل کے ترقی، صنعت، تجارت اور خدمات کے وزیر مملکت جناب مارسیو فرنینڈو ایلیاس روزا؛ چین کے بین الاقوامی تجارتی نمائندے اور نائب وزیر تجارت جناب لی چینگ گانگ؛ مصر کے سرمایہ کاری اور غیر ملکی تجارت کے وزیر ڈاکٹر محمد فرید صالح؛ ایتھوپیا کے سفیر جناب مولالگن اسفاؤ آیانا؛ انڈونیشیا کے وزیر تجارت ڈاکٹر بودی سانتوسو؛ ایران کے تجارت و صنعت کے نائب اول وزیر ڈاکٹر محمد صادق مفتح؛ روس کے اقتصادی ترقی کے نائب وزیر جناب ولادیمیر یوگینی وچ ایلی چیف؛ جنوبی افریقہ کے تجارت، صنعت اور مسابقت کے وزیر جناب پارکس فرینکلن ایمفو تاؤ اور متحدہ عرب امارات کے غیر ملکی تجارت کے وزیر ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی شامل تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-08-07at8.53.31PMRRVM.jpeg

اسی روز قبل از اجلاس، دورہ کرنے والے وزرا اور مندوبین نے جے پور کے تاریخی سٹی پیلس کا دورہ کیا اور  ہندوستان  کے مالا مال ورثے اور راجستھان کی جاندار دستکاری کی روایات کو سراہا۔

وزارتی اجلاس کا آغاز تجارت کے سکریٹری کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جس کے بعد وزیر مملکت برائے تجارت و صنعت نے استقبالیہ خطاب کیا اور مرکزی وزیر تجارت و صنعت نے کلیدی خطاب پیش کیا۔  ہندوستان  کے معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن کی رہنمائی میں مرکزی وزیر تجارت و صنعت نے  ہندوستانی کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور غذائی و معاشی روزگار کے تحفظ پر واضح طور پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیشت میں برکس ممالک کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور یہ گروپ لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ایک ایسے اصلاح شدہ، ترقی پر مبنی، رکن ممالک کی قیادت میں چلنے والے اور اتفاقِ رائے پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کے لیے  ہندوستان  کے ویژن کا اعادہ کیا، جس کے مرکز میں عالمی تجارتی تنظیم ہو، ترقی پذیر ممالک کے لیےخصوصی اور امتیازی سلوک برقرار رکھا جائے اور تنازعات کے حل کے مکمل طور پر فعال، دو سطحی اور پابند نظام کو بحال کیا جائے۔ مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ سب سے زیادہ ترجیحی قوم کا اصول، خصوصی اور امتیازی سلوک کے ساتھ، ایک منصفانہ، جامع، غیر امتیازی اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کی بنیاد ہے۔ اصلاحات کا مقصد اس بنیادی ستون کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔انہوں نے بھارت کی برکس صدارت کی ترجیحات بھی واضح کیں، جن میں کثیرالجہتی تجارتی نظام کو مضبوط بنانا، مضبوط اور متنوع عالمی قدر کی زنجیریں تشکیل دینا، چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دینا اور انہیں تجارتی مالیات تک رسائی فراہم کرنا، نیز سرحدوں کے پار ڈجیٹل طور پر فراہم کی جانے والی خدمات کے بلا رکاوٹ بہاؤ کو یقینی بنانا شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002CWRD.jpg

استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے تجارت و صنعت نے‘‘پدھارو مارے دیش’’ کے جذبے کے ساتھ وزرا اور مندوبین کو جے پور آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ‘‘انسانیت اولین’’ کے ویژن کی رہنمائی میں برکس تعاون میں عوام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارت کا حقیقی مقصد انسانی بہبود ہے، جس کی کامیابی کا انحصار مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی خوش حالی، خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباروں اور ترقی پذیر معیشتوں کے نوجوانوں کی توانائی پر ہے۔

رکن ممالک کے وزرائے تجارت نے اپنے اپنے ممالک کے نقطۂ نظر پیش کیے اور عالمی تجارت کو آگے بڑھانے میں برکس کے مزید مؤثر کردار پر زور دیا۔ اجلاس کا اختتام  ہندوستانی صدارت کی جانب سے تجارت کے سکریٹری کے خلاصۂ اجلاس اور مرکزی وزیر تجارت و صنعت کے اختتامی کلمات کے ساتھ ہوا۔ وزرائے تجارت نے  ہندوستانی کی میزبانی اور 2026 میں برکس کی قیادت کے لیے  ہندوستان کا شکریہ ادا کیا۔

ضمیمہ اول میں عالمی تجارتی تنظیم کو مرکز میں رکھتے ہوئے کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے، جس میں ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ اس میں ترقی پذیر ممالک کے لیےخصوصی اور امتیازی سلوک برقرار رکھنے، مکمل طور پر فعال، دو سطحی اور پابند تنازعات کے حل کے نظام کی بحالی، نیز ترقی پذیر معیشتوں کو اپنی غذائی اور معاشی روزگار کی سلامتی کے تحفظ کے لیے درکار پالیسی اختیار برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

اجلاس میں چھوٹے کاروباری افراد اور کاروباری اداروں کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے۔ وزرا نے جے پور اتفاقِ رائے جاری کرتے ہوئے برکس انوائس ڈسکاؤنٹنگ میکانزم کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا اور برآمدات پر مبنی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے قرض کی جانچ کے نظام سے متعلق رہنما اصول منظور کیے، تاکہ کسی ادارے کی مالی حیثیت کا اندازہ اس کے اثاثوں اور ضمانتی املاک کے بجائے اس کےنقد بہاؤ کی بنیاد پر کیا جا سکے۔ یہ اقدامات تقریباً 2.5 ٹریلین امریکی ڈالر کے عالمی تجارتی مالیاتی خلا سے براہ راست نمٹنے کے لیے کیے گئے ہیں، جو چھوٹے کاروباری اداروں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ اسی لیے انہیں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بین الاقوامی بنانے کے لیے مرتب کیے گئے لائحۂ عمل کا حصہ بنایا گیا ہے، جسے ضمیمہ دوم میں شامل کیا گیا ہے۔

وزرا نے برکس رکن ممالک کے درمیان منڈیوں کو مزید کھولنے اور اقتصادی تنوع کو فروغ دینے کی جانب بھی پیش رفت کی۔عالمی قدر کی زنجیروں سے متعلق برکس کی مشترکہ مفاہمت کے لائحۂ عمل کو ضمیمہ سوم میں شامل کیا گیا ہے، جس میں 2026 سے 2030 تک عالمی قدر کی  چین سے متعلق عملی منصوبہ شامل ہے۔ اس کے تحت برکس تکنیکی کونسل، برکس کنیکٹ، برکس عالمی قدر کی  چینز سے متعلق مشترکہ مطالعہ اور حکمت عملی پر مبنی رسد کی زنجیروں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پلیٹ فارم کے قیام کے امکانات شامل ہیں، جن میں ادویہ سازی کے شعبے اور غذائی سلامتی سمیت دیگر شعبہ بھی شامل ہیں۔

ضمیمہ چہارم کے طور پر منظور کیے گئے سرحدوں کے پار ڈجیٹل طور پر فراہم کی جانے والی خدمات کو سہولت دینے سے متعلق برکس کے اصول محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈجیٹل خدمات کی فراہمی میں باہمی تعاون کو فروغ دیں گے۔ رکن ممالک کے درمیان متوازن اور وسیع تر تجارت کو فروغ دینے کی کوششوں کے ساتھ یہ نتائج برکس تعاون کی آئندہ دہائی میں خدمات اور عالمی قدر کی زنجیروں کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔

ایک اور اہم پیش رفت برکس اقتصادی شراکت داری کی حکمتِ عملی - 2030 کو حتمی شکل دینے کی جانب پیش رفت تھی۔ اس حکمت عملی میں کثیرالجہتی تجارتی نظام، خدمات کی تجارت، ڈجیٹل معیشت، صنعت، جدت اور ٹیکنالوجی، تجارت و سرمایہ کاری، مالیاتی تعاون اور پائیدار ترقی جیسے شعبہ شامل ہیں۔ وزرا نے اتفاق کیا کہ حکمت عملی اور اس کی ترجیحات کو برکس سربراہان کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

16ویں برکس وزرائے تجارت کا اجلاس  ہندوستان  کی برکس صدارت کے تحت ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور عالمی تجارتی تنظیم کو مرکز میں رکھتے ہوئے ایک کھلے، جامع، شفاف، منصفانہ اور قواعد پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کے لیے  ہندوستان  کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔ اجلاس کے نتائج جو کسانوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کے مفادات کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں، وکست بھارت- 2047 کے بھارت کے وژن اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان مشترکہ خوش حالی کے مستقبل کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003J079.jpg

 

******

ش ح -ظ ا- ش ب ن

UR NO. 1697


(ریلیز آئی ڈی: 2296970) وزیٹر کاؤنٹر : 35