راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
azadi ka amrit mahotsav

عملہ، عوامی شکایات، قانون اور انصاف سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 165ویں رپورٹ کے حوالہ سے پریس ریلیز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 AUG 2026 7:36PM by PIB Delhi

ایوان بالا-راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ جناب برج لال کی صدارت میں عملہ، عوامی شکایات، قانون اور انصاف سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے‘‘متبادل تنازعات کے حل کے نظام کی معاونت کے لیے ادارہ جاتی طریق کار کی تشکیل اور ترقی’’ کے موضوع پر اپنی 165ویں رپورٹ 7 اگست-  2026 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی۔

کمیٹی نے اس موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ فریقوں کے ساتھ تفصیلی غور و خوض کیا اور 10 دسمبر- 2024 کو وزارت قانون و انصاف کے محکمۂ قانونی امور کے سکریٹری کا مؤقف سنا۔ کمیٹی نے 24 اپریل - 2026 کو وزارت قانون و انصاف کے محکمۂ انصاف کے سکریٹری، وزارت کارپوریٹ امور کے سکریٹری اور دہلی بین الاقوامی ثالثی مرکز کے جوائنٹ رجسٹرار کے خیالات بھی سنے۔

کمیٹی نے 5 اگست 2026 کو رپورٹ پر غور کیا اور اسے منظور کیا۔ کمیٹی کی جانب سے اس رپورٹ میں کی گئی سفارشات/مشاہدات منسلک ہیں۔ حوالہ کے مقصد سے ہر سفارش/مشاہدے کے آخر میں رپورٹ کے متعلقہ پیراگراف نمبر بھی درج کیے گئے ہیں۔ مکمل رپورٹ پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

‘‘متبادل تنازعات کے حل کے نظام کی معاونت کے لیے ادارہ جاتی طریق کار کی تشکیل اور ترقی’’ کے موضوع پر 165ویں رپورٹ میں کی گئی سفارشات/مشاہدات

 ہندوستان  بین الاقوامی ثالثی مرکز

  1.  مرکز کے قیام، بنیادی ڈھانچے اور مسلسل اخراجات پر عوامی خزانے سے خاطر خواہ رقم خرچ کی گئی ہے، اس لیے کمیٹی کا خیال ہے کہ اس کی کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہے، جس میں نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد اور مقدمات کے بوجھ میں اضافے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، اگرچہ اسے سنگاپور بین الاقوامی ثالثی مرکز، ہانگ کانگ بین الاقوامی ثالثی مرکز اور لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن جیسے عالمی اداروں کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا، تاہم اس کی محدود شناخت اور کم استعمال کے پیش نظر تشہیر، رسائی اور عملی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ آیا اس کے فیس ڈھانچے، قواعد اور مقررہ مدت کے حوالے سے کسی خلا کی نشاندہی کی گئی ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے کردار کو مضبوط بنانے اور اس پر کی گئی سرکاری سرمایہ کاری کو جائز ثابت کرنے کے لیے کون سے اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ  ہندوستان  بین الاقوامی ثالثی مرکز کو اپنے مقدمات کی تعداد میں اضافہ اور عالمی سطح پر مسابقتی حیثیت بہتر بنانے کے لیے ہدفی تشہیری اقدامات، متعلقہ فریقوں کے ساتھ مؤثر رابطے اور ادارہ جاتی اصلاحات عمل میں لانی چاہئیں۔

 (پیرا 2.5)

  1.  کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ  ہندوستان  بین الاقوامی ثالثی مرکز کے کام کاج کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ ثالثوں کے پینل کو وسعت دے اور اسے مزید متنوع بنائے، جس میں زیادہ تعداد میں بین الاقوامی ماہرین کو شامل کیا جائے۔ عالمی بہترین طریق کار سے ہم آہنگ رہنے کے لیے ثالثی کے قواعد کا مسلسل جائزہ لے کر انہیں وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جائے۔اس کے علاوہ کارکردگی کے واضح پیمانے مقرر کرنے، باقاعدہ جائزے کا مؤثر نظام وضع کرنے اور مقررہ مدت کی سخت نگرانی کے ذریعے طریق کار میں ہونے والی تاخیر کو کم کرنے پر بھی غور کیا جائے، تاکہ جواب دہی یقینی بنائی جا سکے اور عوامی وسائل کا بہترین استعمال ہو۔

 (پیرا 2.6)

دہلی بین الاقوامی ثالثی مرکز

  1.  کمیٹی کا خیال ہے کہ عمارت اور دیگر بنیادی سہولتوں کی کمی، محدود انتظامی صلاحیت اور ثالثی کے لیے مخصوص اور بامقصد طور پر تعمیر شدہ مراکز کی عدم موجودگی اس کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں وسعت دینے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مالی وسائل اور تشہیری سرگرمیوں کی محدودیت بھی ادارہ جاتی ثالثی کو مضبوط بنانے اور اس کی رسائی کو وسیع کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ ان صلاحیتوں سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کرے۔ ان اقدامات میں بڑھتی ہوئی ضرورت کے مطابق بنیادی ڈھانچے اور انتظامی افرادی قوت میں اضافہ، مخصوص ثالثی مراکز کا قیام، مالی منصوبہ بندی کو بہتر بنانا اور تشہیری و رابطہ کاری کی سرگرمیوں کو فروغ دینا شامل ہونا چاہیے، تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

 (پیرا 2.8)

دہلی بین الاقوامی ثالثی مرکز

  1.  اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ کاروباری اور قانونی شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد میں ادارہ جاتی ثالثی کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرے۔ اس مقصد کے لیے ہدفی سطح پر بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اور مقامی دونوں سطحوں پر متبادل تنازعات کے حل کے طریق کار کو بہتر طور پر سمجھنے اور اسے وسیع پیمانے پر اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ کمیٹی یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں میں متبادل تنازعات کے حل کے تصورات کو شامل کیا جائے، تاکہ متعلقہ فریق ان طریقوں سے بہتر طور پر واقف ہوں اور عملی طور پر انہیں اختیار کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوں۔

 (پیرا 2.9)

 

  1.  کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ متبادل تنازعات کے حل کے ادارے اپنے کام کاج کا جائزہ لینے اور بنیادی ڈھانچے، عملے اور مہارت سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے باقاعدہ جائزے کا نظام وضع کریں۔ کمیٹی کا مزید خیال ہے کہ ماہر اور تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کا مضبوط حلقہ تیار کرنے کے لیے تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ موجودہ اور مستقبل میں بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سہولتوں اور انتظامی معاونت کے نظام میں منصوبہ بند توسیع بھی کی جانی چاہیے۔

 (پیرا 2.10)

  1.  کمیٹی کا خیال ہے کہ  ہندوستان  بین الاقوامی ثالثی مرکز کو مرکزی حکومت کی وزارتوں، سرکاری شعبے کے اداروں اور بڑی کارپوریٹ کمپنیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک ہدفی رابطہ مہم شروع کرنی چاہیے، تاکہ انہیں اپنے معاہداتی تنازعات اس مرکز کے ذریعے حل کرانے کی ترغیب دی جا سکے۔ مرکز کو یہ بھی چاہیے کہ وہ صنعتی شعبے کی معروف تنظیموں، مثلاً کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری، فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا کے ساتھ ادارہ جاتی مفاہمتی معاہدے کرے، تاکہ  ہندوستان  بین الاقوامی ثالثی مرکز کو ترجیحی ثالثی فورم کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔ مزید برآں، معیاری تجارتی معاہدوں میں  ہندوستان بین الاقوامی ثالثی مرکز کو نامزد فورم کے طور پر شامل کرنا قابلِ اعتماد اور مؤثر تنازعات کے حل کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

 (پیرا 2.11)

7-  کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کارروائی اور ادارہ جاتی کام کاج، دونوں میں اعلیٰ معیار برقرار رکھتے ہوئے  ہندوستان  کو ایک قابلِ اعتماد ثالثی مرکز کے طور پر متعارف کرانے کے لیے بھرپور توجہ مرکوز کی جائے۔ کمیٹی یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ معروف بین الاقوامی ثالثی مراکز کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے جائیں۔ اس سے عالمی فورمز میں ہندوستان  کی شرکت بڑھانے، عالمی سطح پر رائج بہترین طریق کار اختیار کرنے اور  ہندوستان  کی شناخت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی ہدفی رابطہ مہم کے ذریعے  ہندوستان  کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے اور بین الاقوامی صارفین کے لیے ثالثی کا عمل آسان اور ہموار بنایا جائے۔

 (پیرا 2.13)

  1.  کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ثالثی سے متعلق معاملات میں عدالتی مداخلت کے دائرۂ کار اور حدود کا تعین کرنے کے لیے واضح رہنما اصول وضع کیے جائیں، تاکہ غیر ضروری تاخیر کو کم کیا جا سکے۔ کمیٹی یہ بھی تجویزپیش  کرتی ہے کہ ادارہ جاتی  ضابطوں  اور داخلی طریق کار کو مضبوط بنایا جائے، تاکہ معمول کے انتظامی اور طریق کار سے متعلق معاملات کو بار بار عدالتوں سے رجوع کیے بغیر نمٹایا جا سکے۔ اس کے ساتھ متعلقہ فریقوں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے تربیتی اقدامات بھی کیے جائیں، تاکہ زیادہ یکساں اور معاون طریق کار کو فروغ دیا جا سکے۔
  2. (پیرا 2.15)

9-کمیٹی متبادل تنازعات کے حل کے پورے نظام میں ٹیکنالوجی کے زیادہ یکساں استعمال پر زور دیتی ہے، جس کے لیے واضح رہنما اصول اور کم از کم ڈجیٹل معیارات مقرر کیے جائیں۔ کمیٹی نے خاص طور پر غیر شہری علاقوں میں ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ آسان اور صارف دوست پلیٹ فارم تیار کرنے کے ساتھ متعلقہ فریقوں کو بنیادی ڈجیٹل تربیت فراہم کرنے سے آن لائن تنازعات کے حل کے ذرائع کے زیادہ ہموار اور مؤثر استعمال میں مدد ملے گی۔

 (پیرا 2.16)

ثالثی اور مصالحت

10-ثالثی ایکٹ- 2023 کا نفاذ  ہندوستان میں ثالثی کو تنازعات کے حل کے ایک باقاعدہ اور اہم طریق کار کے طور پر رائج کرنے کی جانب ایک جامع قانون سازی کا قدم ہے۔ اس قانون میں مقدمہ دائر کرنے سے قبل ثالثی، آن لائن ثالثی اور برادری کی سطح پر ثالثی سمیت مختلف اقسام کی ثالثی کے لیے ایک یکساں قانونی ڈھانچہ فراہم کیا گیا ہے، جبکہ سمجھوتے کے معاہدوں کو قانونی حیثیت اور قابلِ نفاذ ہونے کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ اس قانون میں  ہندوستا ن کی ثالثی کونسل کے قیام اور مختلف ثالثی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو تسلیم کرنے کی بھی گنجائش ہے، جس سے ادارہ جاتی صلاحیت، یکسانیت اور پیشہ ورانہ تربیت میں بہتری متوقع ہے۔ اس سلسلے میں کمیٹی کا خیال ہے کہ یہ اقدامات تنازعات کے بروقت، کم خرچ اور باہمی رضامندی سے حل کو فروغ دیں گے اور عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

 (پیرا 3.3)

11-کمیٹی نے یہ جائزہ لینے کی تجویز دی کہ آیا فریقین کی بدنیتی پر مبنی شرکت کی حوصلہ شکنی کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات موجود ہیں، تاکہ فریقین اس سہولت کو محض قانونی کارروائی کی تکمیل کے رسمی طریقے کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں۔ کمیٹی نے اس سہولت کے کم استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اس کی بنیادی وجوہات کا گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا، جن میں بیداری کا فقدان، ادارہ جاتی صلاحیت کی کمی اور متعلقہ فریقوں کا اعتماد شامل ہیں۔

لہٰذا، کمیٹی نے سفارش کی کہ ‘مقدمہ دائر کرنے سے قبل ادارہ جاتی ثالثی کو لازمی قرار دیا جائے’ اور ایسے فریقوں پر اخراجات کا جرمانہ عائد کرنے کے لیے قانونی دفعات متعارف کرائی جائیں جو بلاجواز طور پر مقدمہ دائر کرنے سے قبل ادارہ جاتی ثالثی میں شرکت سے انکار کریں یا اسے محض رسمی کارروائی سمجھیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ طریق کار حقیقی معنوں میں مقدمہ دائر ہونے سے پہلے تنازعات کے تصفیہ کے ذریعے عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے اپنے مقصد کو مؤثر طور پر پورا کرے۔

 (پیرا 3.5)

12- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ  ہندوستان  کی ثالثی کونسل کے قیام کے عمل کو تیز کرنے، مقررہ مدت کے اندر ضروری ضوابط کو حتمی شکل دینے اور باقی ماندہ دفعات، بشمول دفعہ 63، کو جلد از جلد نافذ کرنے کے لیے بھرپور اور مربوط کوششیں کی جائیں۔ اس سے قانونی ڈھانچوں میں یکسانیت پیدا کرنے اور ثالثی کے نظام کے مؤثر نفاذ میں ہونے والی تاخیر سے بچنے میں مدد ملے گی۔

(پیرا 3.8)

13- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ مناسب نگرانی اور جائزے کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ان اصلاحات کی مؤثریت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جا سکے اور مختلف دائرہ ہائے اختیار میں ان کے یکساں نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

(پیرا 3.9)

14-کمیٹی کا خیال ہے کہ متبادل تنازعات کے حل کے طریق کار کو مجموعی تنازعات کے حل کے نظام میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کیا جانا چاہیے، خصوصاً عدالتوں پر بڑھتے ہوئے مقدمات کے بوجھ کے پیش نظر ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں کے لیے مخصوص طریق کار وضع کرنے سے، بالخصوص تجارتی اور ضابطہ جاتی معاملات میں، ان طریق کار کی مؤثریت اور فوری ردِعمل کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ کمیٹی نے متبادل تنازعات کے حل کے عمل کی جانچ کے لیے واضح معیارات اور قابلِ پیمائش کارکردگی کے اشاریہ مقرر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ متبادل تنازعات کے حل کے طریق کار کی ساکھ برقرار رکھنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ان کے ذریعے منصفانہ، قابلِ اعتماد اور قابلِ نفاذ نتائج حاصل ہوں، باقاعدہ نگرانی اور جواب دہی کا نظام ناگزیر ہے۔

(پیرا 3.13)

15-کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ متبادل تنازعات کے حل کو ایک منظم پیشہ ورانہ شعبے کے طور پر فروغ دینے کے لیے تصدیق و منظوری کے نظام، معیاری تربیت، تسلیم شدہ پیشہ ورانہ اسناد اور واضح پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع وضع کیے جائیں۔ مزید برآں، قانونی تعلیم میں متبادل تنازعات کے حل کو شامل کرنے، عملی تربیت کے مواقع بڑھانے اور اس شعبے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے سے نوجوان پیشہ ور افراد کو اس جانب راغب کرنے اور ان کے لیے طویل مدتی پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

(پیرا 3.14)

لوک عدالتیں

16-کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ مقدمات کے انتخاب اور تنازعات کے تصفیے کے لیے واضح اور آسان رہنما اصول وضع کیے جائیں، تاکہ مختلف علاقوں میں ہونے والے فیصلوں اور تصفیوں میں یکسانیت برقرار رہے۔ کمیٹی یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ تصفیہ کیے گئے مقدمات کے اعداد و شمار کی بہتر انداز میں ریکارڈنگ اور نگرانی کا نظام متعارف کرایا جائے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نوعیت کے مقدمات حل کیے جا رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ان تصفیوں کی مؤثریت کس حد تک برقرار رہتی ہے۔ اس سے لوک عدالتوں کے مجموعی کام کاج کو زیادہ متوازن اور بامعنی انداز میں بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

(پیرا 4.8)

17-محکمے کی جانب سے پیش کیے گئے حقائق کے پیش نظر کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت قومی قانونی خدمات اتھارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ اس مقصد کے لیے افرادی قوت میں اضافہ، خالی آسامیوں کو بروقت پُر کرنا اور متوقع ضروریات کے مطابق مناسب بجٹ فراہم کرنا یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے بنیادی ڈھانچے اور ملازمین سے متعلق سہولیات سمیت ادارہ جاتی خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاکہ قومی قانونی خدمات اتھارٹی ملک بھر میں قانونی امداد فراہم کرنے اور انصاف تک رسائی کو فروغ دینے کے اپنے فرائض مؤثر طور پر انجام دے سکے۔

(پیرا 4.10)

خلاصہ

18- اختتاماً، کمیٹی کا خیال ہے کہ  ہندوستان  میں تنازعات کے حل کا نظام بتدریج ایک زیادہ مؤثر اور عملی ڈھانچے کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کے طریق کار زیادہ وسیع اور بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس منتقلی کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ یہ نظام واضح، قابلِ اعتماد اور کاروباری اداروں اور عام افراد کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

(پیرا 5.1)

19- کمیٹی کا ماننا ہے کہ متبادل تنازعات کے حل کا ایک مضبوط نظام صرف مؤثر قوانین پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے فعال اور مؤثر ادارے، ماہر پیشہ ور افراد اور قوانین و ضوابط کا یکساں نفاذ بھی ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ناگزیر ہے کہ فریقین کو اس طریق کار پر اعتماد ہو، بالخصوص اس کی منصفانہ نوعیت، غیر جانب داری اور بروقت نتائج کے حوالے سے۔

(پیرا 5.2)

20-مستقبل کے پیش نظر کمیٹی ایک متوازن اور دور اندیش طریق کار اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے، جس میں مجموعی نظام میں یکسانیت برقرار رکھتے ہوئے پالیسیوں کو بدلتے حالات کے مطابق لچکدار رکھا جائے۔ اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ و تعاون، نیز باقاعدہ جائزہ اور بہتری، اس امر کو یقینی بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں کہ متبادل تنازعات کے حل کے طریق کار مؤثر اور حالات سے ہم آہنگ رہیں۔

(پیرا 5.3)

***

ش ح -ظ ا- ش ب ن

UNO. 1696


(ریلیز آئی ڈی: 2296943) وزیٹر کاؤنٹر : 22
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil