سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت آئندہ صنعتی انقلاب میں ایک اہم کردار ادا کرے گا جو بائیوٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی ہوگا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس بائیوٹیکنالوجی کی مخصوص پالیسی BiOE3 کے ساتھ ساتھ نیشنل کوانٹم مشن اور انڈیا اے آئی مشن ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت ٹیکنالوجی فالوور والے ملک سے اب ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں عالمی رہنما بن چکا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت کی خلائی معیشت 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، اگلے 8 سے 9 سال میں اس کے 40 سے 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 AUG 2026 2:35PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس اور وزیرِ مملکت برائے وزیراعظم دفتر ، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت آئندہ صنعتی انقلاب میں ایک اہم کردار نبھائے گا جو بائیوٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی ہوگا۔ یہ پچھلے صنعتی انقلاب کے برعکس ہوگا جو آئی ٹی پر مبنی تھا اور جس کا حصہ بننے میں بھارت نے تاخیر کر دی تھی۔
وزیر موصوف نے ایک میڈیا کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب دنیا کے ان چند اولین ممالک میں شامل ہے جن کے پاس بائیوٹیکنالوجی کے لیے ایک مخصوص پالیسی، یعنی BiOE3 موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس نیشنل کوانٹم مشن اور انڈیا اے آئی مشن بھی ہیں اور ہم نے خلا اور دیگر فرنٹئیر شعبوں میں تیز رفتار ترقی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی خلائی معیشت ، جو پہلے تقریبا نہ کے برابر تھی، اب بڑھ کر تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر ہو چکی ہے اور تیزی سے پھیل رہی ہے اور آئندہ آٹھ نو برسوں میں اس کے 45 40-ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس کانکلیو میں میڈیا کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیا، جہاں ٹیکنالوجی تیار کرنے والے، صنعتی رہنما اور دیگر اسٹیک ہولڈرز موجود تھے۔ اس گفتگو کا محور بھارت کا ایک عالمی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر ابھرنا، ٹیکنالوجی کی تبدیلی کی تیز رفتار، جدت طرازی، نجی شعبے کی شمولیت اور فرنٹیئر شعبوں میں ابھرنے والے مواقع تھے۔ وزیر موصوف نے ڈیجیٹل اپلائنس ایوارڈز کے فاتحین کو مبارکباد بھی دی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کے ٹیکنالوجی کے سفر میں ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب ملک متعدد شعبوں میں عالمی معیارات کے مطابق کام کر رہا ہے۔ خلائی شعبے میں بھارت کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے چندریان مشن کے ذریعے چاند پر پانی کے ذرات کی دریافت کی مثال دی، جو کہ عالمی سائنسی علم میں ملک کا ایک بڑا تعاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں کبھی بھی انسانی صلاحیت یا سائنسی قابلیت کی کمی نہیں تھی، بلکہ ضرورت ایک سازگار پالیسی ماحول کی تھی جو ان صلاحیتوں کو عملی نتائج میں بدل سکے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ عالمی معیشت اب روایتی مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ بائیوٹیکنالوجی، مرغولاتی معیشت ، ری سائیکلنگ اور دیگر ٹیکنالوجی پر مبنی ابھرتے ہوئے شعبوں کی طرف بتدریج منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی تبدیلی کا اگلا مرحلہ بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت اور بائیوٹیکنالوجی پر مبنی ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے ہی اس منتقلی کا حصہ ہے اور ان چند ممالک میں شامل ہے جن کی بائیوٹیکنالوجی کی اپنی مخصوص پالیسی ہے۔ حکومت کا 'BioE3'اقدام ، بائیوٹیکنالوجی برائے معیشت، روزگار اور ماحول کا مقصد بائیوٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی آنے والے وقت میں طبی سائنس، زراعت اور غذائی پیداوار پر گہرے اثرات مرتب کرے گی اور معاشی ترقی و روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
سال 2020 میں خلائی شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھولنے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس فیصلے نے ملک کے اندر صلاحیتوں کو تیار کرنے کے لئے ایک سازگار پالیسی فریم ورک کی صلاحیت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خلائی معیشت ، جو پہلے تقریبا نہ کے برابر تھی، اب بڑھ کر تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر ہو چکی ہے اور تیزی سے پھیل رہی ہے اور آئندہ آٹھ نو برسوں میں اس کے 45 40-ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
وزیر موصوف نے اس تبدیلی کی مثال کے طور پر بھارتی خلائی اسٹارٹ اپ کے ابھرنے کا ذکر کیا، جن میں وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے راکٹ تیار کیے اور چند ہی سالوں میں یونیکورن کا درجہ حاصل کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس ٹیلنٹ اور قابلیت تو موجود تھی، لیکن اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے جس سازگار ماحول کی ضرورت تھی، وہ اب پیدا کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت اب نجی شعبے کو ان شعبوں میں شامل کر رہی ہے جو پہلے نجی ادارے کے دائرے سے کافی حد تک باہر تھے۔ نیوکلیائی شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، لیکن اس کے لیے صنعت کو خود کو تیار کرنے اور ضروری صلاحیتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت کے پاس 2047 کے وژن سے منسلک مواقع کی تیاری کے لیے محدود وقت ہے۔ اگر ملک کو عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنی ہے تو ہر شعبے کو آگے بڑھنا ہوگا اور نجی شعبے کو نئے میدانوں میں حصہ لینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ حکومت اس منتقلی کے لیے سازگار حالات پیدا کر رہی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے تعلیم اور مواقع تک رسائی کو بھی یکسر بدل دیا ہے، خاص طور پر بڑے میٹروپولیٹن شہروں سے باہر رہنے والے نوجوانوں کے لیے۔ انہوں نے مالی طور پر کمزور خاندان کے ایک طالب علم کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کیا جس نے ڈیجیٹل لرننگ وسائل کا استعمال کرتے ہوئے آئی آئی ٹی اور جے ای ای کا امتحان پاس کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے تعلیمی مواقع تک رسائی کو جمہوری بنا دیا ہے جو پہلے حاصل کرنا مشکل تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی ترقی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اختراع اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا ، بلکہ بہت سے نوجوان کاروباری افراد چھوٹے شہروں اور قصبوں سے ابھر رہے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے فرسودہ قوانین اور طریقہ کار کو ختم کرنے کی حکومتی کوششوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 2,000 فرسودہ قوانین کو ختم کر دیا گیا ہے، جن میں وہ دفعات بھی شامل تھیں جو معاشرے اور طرزِ حکمرانی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باوجود پرانے دور سے چلی آ رہی تھیں۔
وزیر موصوف نے ان اصلاحات کا حوالہ دیا جن کا تعلق غیرشادی شدہ بیٹیوں کے لیے فیملی پنشن کے حقوق، خواتین سرکاری ملازمین کے لیے نامزدگی کے حقوق اور ان ملازمین کے کنبوں کے لیے پنشن کی دفعات سے ہے جن کا انتقال دس سال کی سروس مکمل کرنے سے پہلے ہو جاتا ہے۔ انہوں نے دستاویزی تصدیق کے لیے کسی گزیٹڈ آفیسر کے دستخط کی شرط کو ختم کرنے کے فیصلے کو بھی یاد کیا اور کہا کہ یہ اصلاحات شہریوں اور نوجوانوں پر زیادہ سے زیادہ اعتماد کا اظہار ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 2047 کے لیے بھارت کے عزم کا تقاضا ہے کہ ملک فالوور کے کردار سے آگے بڑھے اور ایک ایسے ملک کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرے جس کی صلاحیتوں اور اختراعات کو دوسرے لوگ اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔
عوامی اور نجی شعبوں کے درمیان وسیع شراکت داری پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان ماضی کے شکوک و شبہات کو ختم کر کے باہمی سیکھنے اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ حکومت اور صنعت کو ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے ، موثر طریقوں کو اپنانا چاہئے اور زیادہ ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آخر میں کہا کہ بھارت کو اپنے بڑے ترقیاتی، تکنیکی اور معاشی عزائم کو حاصل کرنے کے لئے ’’ مکمل حکومت کے ساتھ ساتھ مکمل ملک ‘ کا طریقہ کار اپنانا ناگزیر ہوگا۔




(ش ح- ن ا)
U.N:1682
(ریلیز آئی ڈی: 2296853)
وزیٹر کاؤنٹر : 61