سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لکھنؤ میں سی ایس آئی آر-این بی آر آئی کے ذریعہ تیار کردہ اپنی نوعیت کے پہلے ’ماحولیاتی تعلیمی مرکز‘ کو ملک کے نام وقف کیا
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ٹیکنالوجی اور کامیابیوں کی وسیع پیمانے پر تشہیر کے ذریعے سائنس کو معاشرے کے مزید قریب لانے پر زور دیا
سائنس و ٹیکنالوجی کے اداروں کو تحقیق کو روزگار اور معاشرتی ضروریات سے جوڑنا چاہیے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
معاشرے پر زیادہ سے زیادہ مثبت اثرات مرتب کرنے کے واسطے مختلف محکموں اور وزارتوں کے درمیان سائنسی کوششوں کو مربوط کیا جانا چاہیے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
سی ایس آئی آر-این بی آر آئی نے ٹیکنالوجی کی منتقلی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور عملی تجرباتی تعلیم کے ذریعے سائنس اور معاشرے کے درمیان مضبوط ربط کی مثال پیش کی
प्रविष्टि तिथि:
08 AUG 2026 4:54PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، نیز وزیر مملکت برائے دفتر وزیر اعظم ، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور اور سی ایس آئی آر کے نائب صدر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج سائنسی اداروں کی ٹیکنالوجی، کامیابیوں اور معاشرے کے لیے ان کے عملی استعمال کو منظم انداز میں اجاگر کرتے ہوئے ان کے کاموں کو عوام کے مزید قریب لانے پر زور دیا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لکھنؤ کے بانتھرا میں واقع مہارشی پراشار بایو ریسورس سینٹر (ایم پی بی سی) میں سی ایس آئی آر-نیشنل بوٹینیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر-این بی آر آئی) کے ذریعہ ملک میں تیار کردہ اپنی نوعیت کے پہلے ’ماحولیاتی تعلیمی مرکز‘ ’پراکرتی گیان دھام‘ کو قوم کے نام وقف کرتے ہوئے یہ اظہار خیال کیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سائنسی اداروں کی سرگرمیوں کا دائرہ صرف تجربہ گاہوں اور ادارہ جاتی احاطوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ کامیاب ٹیکنالوجی اور اقدامات کو عوام تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس سے کسانوں، کاروباری افراد، طلبہ، صنعتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو سائنسی حل اور روزگار کے مواقع تک آسان رسائی حاصل ہوسکے گی۔انہوں نے مختلف محکموں اور وزارتوں کے درمیان یکساں نوعیت کے اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے منصوبوں کو مزید مربوط کرنے پر بھی زور دیا، تاکہ ادارے باہمی تال میل سے کام کرسکیں اور معاشرے پر سائنسی تحقیق و اختراع کے زیادہ سے زیادہ مثبت اثرات مرتب ہوں۔
اس پروگرام میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے مشیر (صحت) ڈاکٹر جی این سنگھ، سینٹرل یونیورسٹی آف اڈیشہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر اجیت کمار شاسانی، سی ایس آئی آر-این بی آر آئی اور سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم جموں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر احمد، سینئر سائنس دانوں، محققین، سی ایس آئی آر فلوریکلچر مشن سے مستفید ہونے والے کسانوں اور دیگر مدعو مہمانوں نے شرکت کی۔
ماحولیاتی -تعلیمی مرکز سائنسی تحقیق، ماحولیاتی تعلیم، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، نباتاتی وراثت اور ثقافتی تشریح کے امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔ اپنی نوعیت کی پہلی ماحولیاتی و تعلیمی سہولت کے طور پر تیار کیا جانے والا یہ مرکز ہندوستان کی مالا مال نباتاتی اور ثقافتی وراثت کے ایک جیتے جاگتے ذخیرے کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جہاں طلبہ، محققین، اساتذہ، فطرت سے دلچسپی رکھنے والوں اور عام لوگوں کے لیے بھرپور اور عملی تجربے پر مبنی ماحول فراہم ہوتا ہے۔
یہ مرکز سائنسی معلومات اور عوامی شمولیت کے درمیان براہِ راست رابطہ فراہم کرتا ہے، جہاں مختلف سہولیات کے ذریعے تجرباتی اور باہمی تعاملی تعلیم کے ذریعہ ہندوستان میں نباتاتی تنوع، تحفظ کی کوششوں اور نباتاتی وراثت کو عوام کے لیے قابل رسائی بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سائنسی اداروں اور معاشرے کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ہی سائنسی معلومات کی عملی افادیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
اس مرکز کی ایک نمایاں خصوصیت پی اے اے وان پاتھ (پودے اور ان سے وابستہ خضروات کے ذریعے فطرت کی قدردانی) ہے، جو ایک تشریحی وراثتی ٹریل ہے اور کیمپس میں عملی و تجرباتی سرگرمیوں کا مرکزی حصہ ہے۔ یہ ٹریل زائرین کو مختلف ماحولیاتی خطوں اور ان سے وابستہ نباتات کی نمائندگی کرنے والے منتخب پودوں کے مجموعوں سے روشناس کراتی ہے۔
مرکز کے وسط میں انڈین ہیریٹیج گارڈن قائم کیا گیا ہے، جہاں ملک بھر کے تاریخی اہمیت کے حامل مقامات سے تیار کرکے لائے گئے وراثتی درختوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس باغیچے میں فتح پور کا ’باون املی‘ کا درخت شامل ہے، جس کا تعلق 52 مجاہدین آزادی کی قربانی سے ہے؛ اس میں لکھنؤ کا ’مدر دسہری‘ آم کا درخت؛ پریاگ راج کا ’پاتال پوری‘ برگد؛ چمپارن کے بھٹیہاروا میں مہاتما گاندھی کے ہاتھوں لگایا گیا آم کا درخت؛ اور گجرات میں تاریخی ڈانڈی مارچ کے راستے سے وابستہ درختوں کی نسل سے تعلق رکھنے والے درخت بھی شامل ہیں۔
باغ میں کیو آر کوڈ سے منسلکہ آڈیو سسٹم بھی نصب کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے زائرین اپنے اسمارٹ فون پر وراثتی درختوں سے متعلق تاریخی، ثقافتی اور نباتاتی معلومات حاصل کرسکتے ہیں، جس سے یہ پورا منظرنامہ ایک باہمی تعاملی تعلیمی مقام میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
’ویبھَو انکلیو- ہندوستان کے خطرے سے دوچار پودوں کا باغ‘ نایاب، معدومیت کے خطرے سے دوچار اور دیگر خطرے سے دوچار پودوں کی انواع کے لیے مخصوص مقام فراہم کرتا ہے اور حیاتیاتی تنوع میں کمی، قدرتی مسکن کی تباہی، موسمیاتی تبدیلی اور نباتاتی جینیاتی وسائل کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں بیداری پیدا کرتا ہے۔ ’بھیرَو انکلیو- ہندوستان کی ریاستی نباتات کا باغ‘ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سرکاری طور پر نامزد ریاستی پودوں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے اور ان کی ماحولیاتی، ثقافتی اور علامتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ایک اور اہم کشش ’بمبواسٹیم‘ ہے، جہاں بانس کی 43 مقامی اور غیر ملکی انواع موجود ہیں۔ یہ مرکز قابلِ تجدید حیاتیاتی وسائل کے طور پر بانس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جس کے استعمال میں ماحولیاتی بحالی، کاربن کے اخراج کا انجذاب، مٹی کا تحفظ، پائیدار روزگار، روایتی دست کاری اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔
مرکز کی سائنس سے معاشرے تک رسائی کے پروگرام کے دوران شروع کی گئی اور منتقل کی گئی ٹیکنالوجی اور مصنوعات سے بھی ظاہر ہوئی۔ ہمالیہ کمپنی کے اشتراک سے تیار کردہ مردانہ تولیدی صحت کے لیے جڑی بوٹیوں پر مبنی فارمولیشن کا باضابطہ اجرا کیا گیا۔ پودوں پر مبنی چار ٹیکنالوجی، ’ہربل اینٹی ڈینڈرف ہیئر کیئر آئل‘، ’فروٹس: لوٹس آلود پرفیوم‘، ’فروٹس: رودر پرفیوم‘ اور ’ہربل نینو سیرم‘، کیرالہ کے کڈمباشری اسٹیٹ پاورٹی ایریڈیکیشن مشن کو منتقل کی گئیں، جس کا مقصد سائنس پر مبنی ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کے ذریعے خواتین کی قیادت میں کاروبار اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے سی ایس آئی آر-این بی آر آئی نے کم لاگت والے فوٹو بایو ری ایکٹر کے ڈیزائن اور تیاری کی ٹیکنالوجی لکھنؤ کی وٹ ویک سالیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کو منتقل کی۔ یہ منتقلی اس بات کی مثال ہے کہ کسی سائنسی ادارے میں تیار کی جانے والی تحقیق کو وسیع تر تکنیکی اور صنعتی استعمال کے لیے کس طرح آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنسی اداروں سے یہ اپیل کی کہ وہ عوام تک رسائی کے لیے اپنی کامیابیوں اور تکنیکی حصولیابیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض معلومات پہنچانے کی مشق تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد ممکنہ صارفین اور متعلقہ فریقوں کو ایسے حل سے واقف کرانا بھی ہونا چاہیے جو روزگار اور معاشی مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ پروگرام کے دوران ٹیکنالوجیز کی منتقلی سے اس نقطہ نظر کی عملی مثال پیش کی گئی، جس میں ادارہ جاتی تحقیق کو کاروبار، صنعت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے جوڑا گیا۔
انہوں نے ان تمام شعبوں میں جہاں منصوبے اور مقاصد ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں، محکموں، وزارتوں اور اداروں کے درمیان مربوط طور پر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، اس طرح کا تعاون مختلف سائنسی صلاحیتوں کو ایک ساتھ جمع کرنے اور کامیاب اقدامات کو وسیع پیمانے پر پہنچانے اور ان کے اثرات میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
مرکزی وزیر نے کسانوں، صنعت اور عام لوگوں کے لیے نباتاتی سائنس کی تحقیق کو ٹیکنالوجی اور مصنوعات میں تبدیل کرنے میں سی ایس آئی آر-این بی آر آئی کے کردار کی بھی ستائش کی اور ابھرتے ہوئے ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے روایتی علم کو جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ جوڑنے کی مسلسل ضرورت پر زور دیا۔
پروگرام کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کے وراثتی باغات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی جاری کی، جس میں ملک کی نباتاتی دولت اور اس کے نباتاتی تنوع سے وابستہ ثقافتی، تاریخی اور ماحولیاتی اہمیت کو پیش کیا گیا ہے۔
اس سے قبل مہمانِ خصوصی اور دیگر معزز شخصیات کا استقبال کرتے ہوئے سی ایس آئی آر-این بی آر آئی اور سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم جموں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر احمد نے نباتاتی سائنس کی تحقیق، تحفظ اور ٹیکنالوجی کی تیاری کے شعبے میں ادارے کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی - تعلیمی مرکز کو ہندوستان کے نباتاتی تنوع کے ایک جیتے جاگتے ذخیرے کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جہاں زائرین باہمی تعاملی اور عملی تجربے پر مبنی تعلیم کے ذریعے ملک کے نباتاتی وراثت سے واقف ہوسکتے ہیں۔
ایم پی بی سی کے بانتھرا کیمپس میں قائم ماحولیاتی- تعلیمی مرکز کو تجرباتی تعلیم اور عوامی شمولیت کے قومی مرکز کے طور پر فروغ دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جہاں نباتاتی تنوع، تحفظ، وراثت اور سائنسی معلومات کو ایک جگہ یکجا کیا گیا ہے۔ زندہ نباتاتی مجموعوں، ہریٹیج ٹریل، ڈیجیٹل تشریح اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کے امتزاج سے یہ مرکز لوگوں اور فطرت کے درمیان گہرے تعلق کو فروغ دینے کے ساتھ ہی سائنسی اداروں اور معاشرے کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔




******
(ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا)
UR. No-1661
(रिलीज़ आईडी: 2296650)
आगंतुक पटल : 9