سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سی ایس آئی آر انٹیگریٹڈ اسکلز انیشی ایٹو کے مرحلہ -III (2025-30) کے پہلے سال کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی کے کوآرڈینیٹرز کی کانکلیو-کم-میٹنگ منعقد کی گئی
प्रविष्टि तिथि:
08 AUG 2026 9:48AM by PIB Delhi
سی ایس آئی آر انٹیگریٹڈ اسکلز انیشی ایٹو کے تیسرے مرحلے (2025-30) کے پہلے سال کے لیے نگرانی کمیٹی کے کوآرڈینیٹرز کی کانکلیو-کم-میٹنگ کا انعقاد سی ایس آئی آر-ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ سینٹر (سی ایس آئی آر-ایچ آر ڈی سی)، غازی آباد نے سی ایس آئی آر-نیشنل کیمیکل لیبارٹری (سی ایس آئی آر-این سی ایل)، پونے کے اشتراک سے 6-7 اگست 2026 کو سی ایس آئی آر-این سی ایل، پونے میں کامیابی کے ساتھ کیا گیا۔ دو روزہ کانفرنس (کانکلیو) نے سی ایس آئی آر انٹیگریٹڈ اسکلز انیشی ایٹو کے تیسرے مرحلے کے پہلے سال کے دوران ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے، شریک لیبارٹریوں کے درمیان علم کے تبادلے کو فروغ دینے اور پروگرام کے مؤثر نفاذ کے لیے باہمی تعاون کی کوششوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔
تقریب کا آغاز افتتاحی اجلاس سے ہوا، جس میں معززین اور شرکاء کا باضابطہ طور پر خیرمقدم کیا گیا، جس کے بعد روایتی چراغاں کی تقریب ہوئی۔ ڈاکٹر راجیش جی گونڈے، سائنس دان-جی، سی ایس آئی آر-این سی ایل نے اجتماع کا خیرمقدم کیا اور میٹنگ کے مقاصد کے حصول میں تعاون، اختراع اور ہنرمندی کی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بحث کے لیے راہ ہموار کی۔ ڈاکٹر ونئے کمار، سائنس دان-جی اور اسکل نوڈل پرنسپل انویسٹی گیٹر، سی ایس آئی آر-ایچ آر ڈی سی نے کانفرنس کے مقاصد پیش کیے اور 2025-26 کے دوران سی ایس آئی آر انٹیگریٹڈ اسکلز انیشی ایٹو کے تحت حاصل کی گئی اہم پیش رفت کا مختصر جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے سی ایس آئی آر انٹیگریٹڈ اسکلز انیشی ایٹو کے اس وژن پر روشنی ڈالی جس کے تحت ٹیکنالوجی پر مبنی افرادی قوت کی تشکیل کے لیے صنعت کی ضروریات کے مطابق تیار ہنر مند افرادی قوت کو پروان چڑھانے کی غرض سے ملک گیر ہنرمندی کی ترقی کا ماحولیاتی نظام تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا جائے گا۔ ڈاکٹر ابھیشیک کمار، سائنس دان-ایف، سی ایس آئی آر-سنٹرل پلاننگ ڈائریکٹوریٹ (سی پی ڈی) نے سال کے دوران اس انیشی ایٹو (اقدام )کی اہم کامیابیوں اور پالیسی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر ٹی. ایس. رانا، سربراہ، سی ایس آئی آر-ایچ آر ڈی سی، غازی آباد نے علم کو ڈیجیٹل طور پر فعال، تجرباتی اور اختراع پر مبنی حل میں تبدیل کرنے کے لیے سی ایس آئی آر کے عزم پر زور دیا۔
ڈاکٹر موہنا کرشنا ریڈی مدیم، ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف پیسٹی سائیڈ فارمولیشن ٹیکنالوجی (آئی پی ایف ٹی)، گروگرام، اور مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ ہنرمندی کی ترقی ملک کی تعمیر کا ایک لازمی حصہ ہے اور سی ایس آئی آر انٹیگریٹڈ اسکلز انیشی ایٹو کی رہنمائی کے لیے پانچ اہم ترجیحی ستونوں کا خاکہ پیش کیا، تاکہ ایک مضبوط، مستقبل کے لیے تیار اور صنعت سے ہم آہنگ ہنرمندی کی ترقی کا ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔ ڈاکٹر آشیش لیلے، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر-این سی ایل، پونے نے زور دیا کہ سی ایس آئی آر اپنے وسیع ملک گیر لیبارٹری نیٹ ورک اور سائنسی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسکل انڈیا مشن میں بامعنی تعاون کرنے کے لیے منفرد طور پر اہل ہے، تاکہ بھارت کو ہنرمند افرادی قوت کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنے میں مدد مل سکے۔
کانفرنس کی ایک اہم خصوصیت سی ایس آئی آر انٹیگریٹڈ اسکلز انیشی ایٹو کے تیسرے مرحلے کے تحت 2025-26 کے دوران حاصل کی گئی سالانہ پیش رفت کا جامع جائزہ تھا۔ پہلے دن کے دوران، تمام 37 حصہ لینے والی سی ایس آئی آر لیبارٹریوں کے اسکلز نوڈل کوآرڈینیٹرز نے اپنی سالانہ پیش رفت کی رپورٹیں پیش کیں، جن میں منعقد کیے گئے پروگراموں، ٹرینی آؤٹ ریچ(زیر تربیت افراد تک رسائی )، اختراعی اقدامات، چیلنجز اور مستقبل کے ایکشن پلان (عملی منصوبے )کو نمایاں کیا گیا۔ ان پیشکشوں نے مانیٹرنگ کمیٹی، جس میں ڈاکٹر موہنا کرشنا ریڈی مدیم، ڈائریکٹر، آئی پی ایف ٹی اور مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین؛ مسٹر این. رمیش بابو، ڈائریکٹر، وزارت ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری (ایم ایس ڈی ای)؛ محترمہ انجو بجاج، جوائنٹ سکریٹری، دہلی پروڈکٹیوٹی کونسل؛ ڈاکٹر اروند کمار، پروفیسر اور چیئرپرسن، جے سی بوس یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی؛ اور جناب انشول سکسینہ، نائب صدر، لائف سائنسز سیکٹر اسکل ڈیولپمنٹ کونسل (ایل ایس ایس ایس ڈی سی) شامل تھے، کو لیبارٹریوں میں عمل درآمد کی صورتحال کا جامع جائزہ لینے، بہترین طریقوں اور ہنرمندی کی ترقی کے کامیاب ماڈلز کا اشتراک کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔ دن کا اختتام مانیٹرنگ کمیٹی کے گہرائی سے جائزے اور بحث کے ساتھ ہوا، جس میں پیش رفت کو سراہا گیا اور پروگرام کے معیار، مؤثریت، رسائی اور طویل مدتی اثرات کو بہتر بنانے کے لیے تعمیری سفارشات پیش کی گئیں۔
دوسرے دن دو تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے۔ جناب انشول سکسینہ، نائب صدر، ایل ایس ایس ایس ڈی سی نے سی ایس آئی آر اور لائف سائنسز سیکٹر اسکل ڈیولپمنٹ کونسل کے درمیان تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا، تاکہ صنعت-اکیڈمیا شراکت داری کو مضبوط بنایا جا سکے، روزگار کی صلاحیت میں اضافہ ہو اور ہنرمندی کی ترقی کے پروگراموں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ ڈاکٹر ابھیشیک کمار، سائنس دان-ایف، سی ایس آئی آر-سنٹرل پلاننگ ڈائریکٹوریٹ (سی پی ڈی) نے پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور بجٹ کے انتظام پر ایک اجلاس پیش کیا، جس میں مؤثر منصوبہ بندی، مالی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال، نگرانی اور ہنرمندی کی ترقی کے اقدامات کے مؤثر نفاذ پر زور دیا گیا۔
پروگرام کا اختتام ایک کھلے اجلاس کے ساتھ ہوا، جس میں اسکل نوڈل افسران نے اس انیشی ایٹو کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے تجربات اور تجاویز کا اشتراک کیا۔ کانفرنس نے سی ایس آئی آر لیبارٹریوں کے درمیان ہم آہنگی کو کامیابی کے ساتھ مضبوط کیا، سی ایس آئی آر انٹیگریٹڈ اسکلز انیشی ایٹو کے تیسرے مرحلے کے پہلے سال کی کامیابیوں کا جامع جائزہ لیا اور پروگرام کی رسائی، معیار اور اثر کو بڑھانے کے لیے کلیدی حکمت عملیوں کی نشاندہی کی۔ اجلاس سے سامنے آنے والے غور و خوض اور سفارشات سے توقع ہے کہ اس انیشی ایٹو کے نفاذ کو مزید تقویت ملے گی اور ملک کے لیے اعلیٰ ہنر مند سائنسی اور تکنیکی افرادی قوت تیار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

***
(ش ح۔اس ک )
UR-1640
(रिलीज़ आईडी: 2296507)
आगंतुक पटल : 4