سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت کے لیے مالی شمولیت سے مالی خود مختاری اورڈیجیٹل ادائیگیوں سے ڈیجیٹل خوشحالی کی جانب پیش قدمی کا وقت ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
تیسرے انڈیا انٹرنیشنل فن ٹیک فیسٹیول میں مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایک ذہین، محفوظ اور قابل اعتماد فن ٹیک نظام کی تعمیر پر زور دیا
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت نے صرف تین برسوں میں 1000 کلومیٹر سے زائد محفوظ کوانٹم مواصلاتی نظام حاصل کر لیا ہے
بھارت کا اسٹارٹ اَپ نظام تقریباً 350 اداروں سے بڑھ کر تقریباً 2.4 لاکھ کاروباری اداروں تک پہنچ گیا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
प्रविष्टि तिथि:
07 AUG 2026 4:17PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، وزیر اعظم کے دفتر، محکمۂ جوہری توانائی، محکمۂ خلائی امور، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے شروع کی گئی ’’جن دھن یوجنا‘‘ جیسی اسکیموں کے نتیجے میں بھارت نے مالی شمولیت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت فیصلہ کن طور پر مالی شمولیت سے مالی خود مختاری کی جانب پیش قدمی کرے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے ایک ذہین، محفوظ اور قابل اعتماد مالیاتی نظام تشکیل دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فن ٹیک کے ترقی کے اگلے مرحلے کی تشکیل مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز، سائبر سیکورٹی، بلاک چین اور قابل اعتماد ڈیجیٹل اختراعات کے ذریعے ہوگی۔
نئی دہلی میں منعقدہ تیسرے انڈیا انٹرنیشنل فن ٹیک فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کا فن ٹیک شعبہ بینکاری شعبے، مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اسٹارٹ اَپس کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے ملک کی معاشی تبدیلی کا ایک اہم محرک بن کر ابھرا ہے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط سرکاری و نجی شراکت داری سے تعاون پر مبنی یہ طریقۂ کار بھارت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے اختراعی نظام کی بنیاد بن چکا ہے۔
جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ذریعے مالی خدمات کے مستقبل کی تشکیل میں ان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ نئی نسل کے فن ٹیک حلوں میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، سائبر سکیورٹی، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور بلاک چین پر مزید توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل ذمہ دار مصنوعی ذہانت اور قابلِ اعتماد اختراع کا ہے، جو محفوظ، مضبوط اور شہریوں پر مرکوز مالی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
بھارت کی تکنیکی ترقیات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قومی کوانٹم مشن نے ملک کو ان منتخب ممالک کے گروپ میں شامل کر دیا ہے جو کوانٹم ٹیکنالوجیز کے چار شعبوں، یعنی کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم مواصلات، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم مواد میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ مشن کے تحت دس برسوں میں 2000 کلومیٹر محفوظ کوانٹم مواصلاتی نظام قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن بھارت نے صرف تین برسوں میں ہی 1000 کلومیٹر سے زائد محفوظ کوانٹم مواصلاتی نظام حاصل کر لیا ہے، جو مقررہ مدت سے کہیں پہلے ہونے والی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے انڈیا اے آئی مشن کا بھی ذکر کیا، جو ملک کے ابھرتے ہوئے تکنیکی نظام کو مضبوط بنانے والا ایک اور اہم اقدام ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت اب عالمی تکنیکی ترقیات کے ساتھ حقیقی وقت میں ہم آہنگ ہو رہا ہے، نہ کہ برسوں بعد ان کی پیروی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبے اور حالیہ عرصے میں جوہری شعبے جیسے اہم شعبوں کو نجی شرکت کے لیے کھولنا ایک اشتراکی طریقۂ کار کی عکاسی کرتا ہے، جو اختراع کو تیز کرنے اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی ترقی کے مواقع کو وسعت دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی خلائی معیشت، جس کی موجودہ مالیت تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر ہے، دہائی کے اختتام سے قبل بڑھ کر 45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو صنعت کی شمولیت سے معاون پالیسی اصلاحات کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے فن ٹیک شعبے کو اب ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا، جس کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مالی خدمات، محفوظ حقیقی وقت کی بینکاری، جدید فراڈ سے بچاؤ کے نظام، سرحد پار ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سستی مالی سہولیات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابھرتے ہوئے شعبے بھارتی فن ٹیک اداروں کے لیے عالمی رہنما کے طور پر خود کو قائم کرنے کے نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں۔
ملک کے اختراعی نظام کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کا اسٹارٹ اَپ منظرنامہ تقریباً 350 اسٹارٹ اَپس سے بڑھ کر قریب 2.4 لاکھ تک پہنچ گیا ہے، جسے عالمی معیار کی ہنرمند افرادی قوت اور سازگار پالیسی ماحول سے تقویت ملی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسٹارٹ اَپس، ضابطہ کار اداروں، تعلیمی مراکز، مالیاتی اداروں، صنعت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مضبوط تعاون اس رفتار کو برقرار رکھنے اور عالمی سطح پر مسابقتی مالیاتی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لیے ناگزیر ہوگا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مالی رسائی کو وسعت دینے کے مقصد سے شروع کیے گئے اقدامات کی کامیابی نے ملک کے اگلے ترقیاتی مرحلے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا اقدام کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے میدان میں عالمی رہنما بننے کے بعد، اب بھارت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں سے ڈیجیٹل خوشحالی کی جانب بڑھنے کا عزم کرنا چاہیے، تاکہ ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی نظام براہِ راست معاشی ترقی اور عوام کے بہتر معیار زندگی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلی مسلسل اختراع اور خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کا تقاضا کرتی ہے۔ صنعتی تبدیلی کے اگلے مرحلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت مستقبل کے صنعتی انقلاب کو آگے بڑھائے گی، تاہم حیاتیاتی ٹیکنالوجی بھی صحت، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے میں تبدیلی لانے والا اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے جینوم انڈیا پروگرام جیسے اقدامات کو بھارت کی جدید ترین سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی مثال قرار دیا، جس کے تحت اب تک 10 ہزار افراد کے جینوم کی ترتیب کاری مکمل کی جا چکی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کے پاس سائنسی برتری، تکنیکی قیادت اور باہمی تعاون پر مبنی شراکت داریوں کو یکجا کرتے ہوئے دنیا کی قابل اعتماد اختراعی معیشت کے طور پر ابھرنے کا منفرد موقع موجود ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جدید ترین ٹیکنالوجیز، اختراع اور سرکاری و نجی تعاون میں مسلسل سرمایہ کاری بھارت کو عالمی تکنیکی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی تبدیلی کے عمل کو بھی تیز کرنے کے قابل بنائے گی۔




***
ش ح۔ ع و۔ م الف
U. No- 1572
(रिलीज़ आईडी: 2296171)
आगंतुक पटल : 13