کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سائنسی طریقے سے کانوں کو بند کرنےاور غیراستعمال کانوں کو پائیدار عوامی اثاثوں میں تبدیل کرنے کے شعبے میں ایس ای سی ایل  کوہندوستان میں نمایاں مقام حاصل

प्रविष्टि तिथि: 07 AUG 2026 3:18PM by PIB Delhi

ساؤتھ ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ (ایس ای سی ایل) نے سائنسی طریقے سے کانوں کوبندکرنےکے شعبے میں ہندوستان میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ کمپنی نے کامیابی کے ساتھ 28 غیر استعمال شدہ کانوں کو سائنسی طریقے سے بند کرنے کا کام مکمل کیا ہے، جو کول انڈیا کی ذیلی کمپنیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں سائنسی طریقے سے بند کی گئی تمام غیر استعمال شدہ کانوں میں ایس ای سی ایل کا حصہ 67 فیصد ہے، جبکہ مالی سال 26-2025کے دوران 25 کانوں کو سائنسی طور پر بند کرنے کا کام مکمل کیاگیا، جو ایک سال میں ہندوستان کی کسی بھی تنظیم کی جانب سے حاصل کی گئی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ایس ای سی ایل میں کانوں کو بند کرنےکو کان کنی کے عمل کے اختتام کے بجائے اس کے مکمل دورانیے کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کوئلے کی کان کنی مکمل ہونے کے بعد توجہ کان کے مقام کو محفوظ بنانے، قدرتی منظرنامے کی بحالی اور سائنسی بحالی و دوبارہ استعمال کے ذریعے زمین کو مستقبل میں مفید مقاصد کے لیے تیار کرنے پر مرکوز کی جاتی ہے۔

سائنسی طریقے سے بندش کے لیے شناخت کی گئی 54 غیر استعمال شدہ کانوں میں سےایس ای سی ایل نے مالی سال 25-2024 کے دوران 3 کانوں اور مالی سال 26-2025 کے دوران 25 کانوں کو بند کیاگیا۔ کمپنی نے مالی سال27-2026 میں 11 کانوں اور مالی سال 28-2027 میں باقی ماندہ 15 کانوں کو بند کرنےکا ہدف مقرر کیا ہے، تاکہ مرحلہ وار طور پر تمام غیر استعمال شدہ کانو ںکو شناخت کرکے سائنسی طور پر بندکرنے کا عمل مکمل کیا جاسکے۔

منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنانے اور متعلقہ فریقوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کے تمام 10 فعال اضلاع میں کانوں کو بند کرنے سے متعلق مشاورتی کمیٹیاں (ڈی ایم سی اے سی) تشکیل دی گئی ہیں۔

ایس ای سی ایل میں سائنسی طریقے سے کانو ں کو بند کرنے کے عمل میں غیر استعمال شدہ کانوں کے حصوں کو محفوظ بنانا، زیرزمین راستوں کو مستقل طور پر بند کرنا، غیر ضروری بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنا، زمین دھنسنے والے علاقوں کا حل، حفاظتی اقدامات کی تنصیب، زمین کی بحالی، شجرکاری اور ماحولیاتی بحالی شامل ہیں۔ بحال کی گئی زمین کا بعد میں دوبارہ  مفیداستعمال کے امکانات کے لیے جائزہ لیا جاتا ہے، تاکہ قابل تجدید توانائی، عوامی بنیادی ڈھانچے، روزگار کے ذرائع اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔ کمپنی اس وقت کانوں کے دوبارہ استعمال سے متعلق 8 منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

کمپنی کے اہم اقدامات میں شامل ’بشرام پور کا کینا پارا ایکو پارک‘ بحال شدہ کان کی زمین پر پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے۔ وویک نگر زیر زمین کان میں ایکو پارک کے ساتھ مربوط 5 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبہ زیرعمل ہے۔ ایس ای سی ایل نے بھٹ گاؤں اور بشرام پور میں 20 میگاواٹ کے شمسی توانائی پلانٹس بھی قائم کیے ہیں، جبکہ پنورا زیرزمین کان میں 40 میگاواٹ کا شمسی منصوبہ زیرتکمیل ہے۔ اس کے علاوہ، جمنا زیر زمین کان اور گووندہ زیرِ زمین کان میں 55 میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس سے بحال شدہ کان کی زمین کو قابل تجدید توانائی کی پیداوار کے لیے مزید مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔

سائنسی طریقے سے بند کی گئی کئی  کانوں کو عوامی بنیادی ڈھانچے میں بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ کوربا 3 اور 4 زیرزمین کان میں دوبارہ استعمال کے قابل بنائی کان کی زمین کو ’بال وہار ہائر سیکنڈری اسکول‘ کے کیمپس میں شامل کیا گیا ہے۔شمالی جھاگرکھنڈ زیر زمین کان اب عوامی پارک اور واٹر فلٹر پلانٹ کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ سبھاش انکلائن کی سابقہ سروس عمارت کو میونسپل واٹر فلٹر پلانٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔شمالی جھاگرکھنڈ 5 اور 6 زیر زمین کان میں کا سابقہ سروس عمارت کو سی آئی ایس ایف پوسٹ میں تبدیل کیا گیا ہے، جبک شمالی جھاگرکھنڈ 10 اور 11 زیر زمین کان کو عوامی پارک کے طور پر ترقی دی گئی ہے۔ بنکی 7 اور 8 زیرزمین کان میں اب صحت مرکز اور ہفتہ وار بازار قائم ہے، جبکہ بنکی 5 اور 6 زیرزمین کان کو کمیونٹی سینٹر کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔

ماحولیاتی بحالی کان کو بند کرنے کے ایک اہم منصوبے کا حصہ ہے۔چاچائی زیر زمین کان میں کان کے راستوں کو بند کرنے اور پرانے ڈھانچوں کو منہدم کرنے کے بعد تقریباً 35 ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔ اسی طرح رامل نگر زیر زمین کان، کوریا زیر زمین کان اور ملگا زیر زمین کان سمیت دیگر مقامات پر گھنے شجرکاری کے منصوبے بنائے گئے ہیں، جبکہ راج گمار 8 اور 9 زیرزمین کان اور پورے چرمری زیر زمین کان میں قدرتی طور پر دوبارہ پیدا ہونے والی نباتات کو محفوظ رکھا گیا ہے، تاکہ ماحولیاتی بحالی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

ماحولیاتی بحالی کے ساتھ ساتھ ایس ای سی ایل نے بحال شدہ کانوں کے علاقوں میں ہنر مندی کی ترقی کے پروگرام اور صحت کیمپ بھی منعقد کیے ہیں۔ ان تربیتی پروگراموں میں کمپیوٹر تعلیم، سلائی کڑھائی، دستکاری، مشروم کی کاشت، اچار بنانے اور دیگر روزگار سے متعلق سرگرمیوں کی تربیت شامل ہے، جس سے منصوبوں سے متاثرہ برادریوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

کمپنی بحال کی گئی کان کی زمین اور کان کے پانی کے ذخائر کے مؤثر استعمال کے ذریعے پائیدار روزگار کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ ماہی پروری کے منصوبوں سے سالانہ 25 ٹن مچھلی کی پیداوار، 206 افراد کے لیے روزگار کے مواقع اور ہر شریک خاندان کے لیے سالانہ 3 لاکھ روپے کی ممکنہ آمدنی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

مستقبل میں کانوں کے دوبارہ استعمال کے منصوبوں میں جمنا اوپن کاسٹ (او سی) میں ماحولیاتی سیاحت، ماہی پروری، پولٹری (مرغی پروری)اور مصالحہ جات کی تیاری، بیگا اوپن کاسٹ (او سی) میں شہد کی پیداوار، ہلدی کی کاشت اور پنجرہ ثقافت (کیج کلچر)، جبکہ بنکی زیرزمین کان میں تربیتی مرکز، کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) پلانٹ اور پھل دار پودوں کی کاشت شامل ہیں۔ یہ منصوبے مقامی حالات اور مستقبل میں زمین کے استعمال کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں۔

ایس ای سی ایل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ہریش دہان نے کہا کہ سائنسی طریقے سے کانوں کو بند کرنا، کان کنی کے مکمل دورانیے کی ذمہ دارانہ تکمیل کی عکاسی کرتی ہے اور یہ کمپنی کے پائیدار کان کنی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

جناب دہان نے کہاکہ ایس ای سی ایل میں کان کو بند کرنا کان کنی کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہمارا مقصد زمین کی بحالی، ماحول کا تحفظ اور بحال شدہ کان کے علاقوں کو ایسے مفید اثاثوں میں تبدیل کرنا ہے ،جو صاف توانائی پیدا کریں، روزگار کے مواقع فراہم کریں اور مقامی برادریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔ سائنسی طریقے سے بند کی گئی ہرکان ہماری ذمہ دارانہ کان کنی اور پائیدار ترقی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

***

ش ح۔م ع ن۔ ن ع

U- 1564

 


(रिलीज़ आईडी: 2296035) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali