قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

قومی انسانی حقوق کمیشن نے مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشا میں طلبہ کے بیتوا ندی پار کر کے اسکول جانے کے لیے چیک ڈیم کے ستونوں پر چڑھ کر جان جوکھم میں ڈالنے سے متعلق ذرائع ابلاغ کی خبر کا ازخود نوٹس لیا

اطلاعات کے مطابق طلبہ یہ خطرناک راستہ اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ اس سے سڑک کے ذریعے 13 کلومیٹر کا فاصلہ گھٹ کر صرف ڈیڑھ کلومیٹر ہو جاتا ہے

کمیشن نے کہا کہ بچوں کے لیے اسکول پہنچنے کے محفوظ راستے کی عدم دستیابی،  انہیں باوقار انداز میں تعلیم حاصل کرنے کے اپنے بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے

کمیشن نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر مفصل رپورٹ طلب کی ہے

प्रविष्टि तिथि: 07 AUG 2026 11:00AM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبر کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس کے مطابق مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشا کے ککراوا گاؤں کے اسکولی طلبہ اسکول پہنچنے کے لیے بیتوا ندی پار کرتے وقت چیک ڈیم کے ستونوں پر چل کر اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق طلبہ یہ خطرناک راستہ اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ اس سے سڑک کے ذریعے طے ہونے والا 13 کلومیٹر کا فاصلہ گھٹ  کر صرف ڈیڑھ کلومیٹر ہو جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گاؤں کے نو طلبہ، جن میں پانچ طالبات بھی شامل ہیں، روزانہ اسی خطرناک طریقے سے ندی پار کرکے اسکول جاتے ہیں۔

کمیشن نے کہا ہے کہ اگر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اس خبر کے مندرجات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ بنتا ہے۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ آئین ہند کے آرٹیکل21-اے کے تحت 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو ریاست کی جانب سے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا آئینی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق قانون، 2009 بھی 6 سے 14 سال کی عمر کے ہر بچے کو تعلیم کا قانونی حق فراہم کرتا ہے۔مزید برآں، سپریم کورٹ نے اویناش مہروترا بنام یونین آف انڈیا (2009) مقدمے میں فیصلہ دیا تھا کہ حق تعلیم میں لازماً محفوظ اسکول اور محفوظ بنیادی ڈھانچے کا حق بھی شامل ہے۔

چنانچہ کمیشن نے کہا ہے کہ بچوں کے لیے اسکول پہنچنے کے محفوظ راستے کی عدم دستیابی، انہیں  وقار کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے اپنے بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ اسی بنا پر کمیشن نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرکے ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر دو ہفتوں کے اندر مفصل رپورٹ پیش کریں۔

واضح رہے کہ4 اگست 2026 کو ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق، بچوں کی ایک ویڈیو سماجی رابطہ کے ذرائع پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں انہیں چیک ڈیم کے اونچے ستونوں کے درمیان موجود چوڑے خلا پر چھلانگیں لگا کر انتہائی خطرناک انداز میں ندی پار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دور دراز واقع اسکول پہنچانے سے قاصر ہیں، کیونکہ انہیں کھیتوں میں کام کرنا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں: یا تو بچوں کی تعلیم ترک کرا دیں، یا پھر انہیں اسی خطرناک راستے سے روزانہ اسکول جانے دیں۔

اطلاعات کے مطابق ایک طالبہ اپنی کم قامت ہونے کے باعث چیک ڈیم کے ستون کو عبور نہ کر سکی، جس کے نتیجے میں وہ کئی روز اسکول نہ جا سکی اور اپنے سالانہ امتحانات میں ناکام ہو گئی۔ خبر کے مطابق ضلعی محکمۂ تعلیم کے افسر نے موقع کا دورہ کرکے اس مسئلے سے ضلع کلکٹر کو آگاہ کر دیا ہے، تاہم ندی پار کرنے کے لیے محفوظ راستے کی تعمیر کب تک مکمل ہوگی، اس بارے میں کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی ہے۔

 

 

********

 

 

 

 ش ح۔م ش ع۔ش ت

Urdu No-1543


(रिलीज़ आईडी: 2295910) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu