سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
کوانٹم نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں جوڑنے کے لیے ایک نیا خاکہ
प्रविष्टि तिथि:
06 AUG 2026 4:09PM by PIB Delhi
ایک نئی تحقیق میں ایک ایسے طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے، جو مستقبل کے کوانٹم مواصلاتی نظام کے ڈیزائن کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ پیش گوئی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
کوانٹم نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے دور دراز مقامات (اسٹیشنوں) کے درمیان زیادہ سے زیادہ پیچیدگی (انٹینگلمنٹ) قائم کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ زیادہ بہتر تحفظ اور مؤثر کارکردگی حاصل کی جا سکے۔ تاہم، مکمل طور پر جڑی ہوئی کوانٹم حالتیں حاصل کرنا تجرباتی طور پر ایک مشکل عمل ہے، حالانکہ انہی حالتوں کے ذریعے کوانٹم معلومات زیادہ مؤثر انداز میں منتقل کی جا سکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی دنیا میں موجود شور (نوائز) ان رابطوں کو مسلسل کمزور کرتا رہتا ہے۔
سائنس دانوں نے کوانٹم میکینکس کو شماریاتی طبیعیات کے بنیادی اصولوں، خاص طور پر پیریکولیشن نظریے کے ساتھ ملا کر، ایسے نیٹ ورک میں زیادہ مضبوط روابط حاصل کرنے کا طریقہ تلاش کیا ہے جہاں زیادہ تر رابطے کمزور ہوتے ہیں۔ موجودہ نظریاتی طریقوں میں عموماً درمیان میں موجود اسٹیشنوں کو منظم انداز میں ہٹا کر مضبوط رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

تصویر: جی سی پی نظام کے عملی طریقۂ کار کا خاکہ، جو کمزور انٹینگلمنٹ والے موجودہ روابط کو بہتر بنانے کے لیے مقامی ہندسی راستہ بندی (لوکلائزڈ جیومیٹرک راؤٹنگ) کا استعمال کرتا ہے۔ اس طرح جی سی پی، موجودہ طریقوں میں پیدا ہونے والے ناپسندیدہ نتائج، جیسے نوڈز (مراکز) کو الگ کرنا اور حذف کرنا، سے بچاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ الجھن سے وابستہ ایک مضبوط اور پائیدار کوانٹم نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔
بوس انسٹی ٹیوٹ، کولکاتا کے ڈاکٹر دیپ ناتھ اور پروفیسر سومین رائے کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں، جو فزیکل ریویو اے جریدے میں شائع ہوئی ہے، ایک نئے طریقۂ کار جنرل کنکرنس پیریکولیشن (جی سی پی) کا تعارف کرایا گیا ہے، جو ایک مختلف ہندسی نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے۔
موجودہ طریقوں میں اسٹیشنوں کو منقطع کرنے کے بجائے، اس نئے طریقۂ کار میں انٹینگلمنٹ کو صرف مختصر ترین راستوں کے ذریعے مضبوط بنایا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں کمزور اور محدود طبعی گرڈ ایک زیادہ گنجان اور مضبوط نیٹ ورک میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ محققین نے ثابت کیا ہے کہ جنرل کنکرنس پیریکولیشن (جی سی پی) طریقۂ کار کو استعمال کرتے ہوئے طویل فاصلے کی کوانٹم مواصلات پہلے سے معلوم طریقوں کے مقابلے میں کم ابتدائی الجھن کی سطح پر بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔
کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعے محققین نے تصدیق کی ہے کہ گردش کا یہ طریقہ پورے نیٹ ورک کو جوڑنے کے لیے درکار کم از کم انٹینگلمنٹ کی حد کو کم کرنے میں کامیاب ہے۔ محققین نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ جی سی پی شماریاتی طبیعیات میں معروف پیریکولیشن یونیورسلٹی کلاس کے اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ یہ دریافت کوانٹم انٹینگلمنٹ پیریکولیشن کے نظریاتی علم کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
*****
ش ح۔ ع و –ت ع
U.No. 1491
(रिलीज़ आईडी: 2295578)
आगंतुक पटल : 10