قبائیلی امور کی وزارت
کین-بیتوا لنک پروجیکٹ سے متاثرہ قبائلی افراد کی بازآبادکاری
प्रविष्टि तिथि:
06 AUG 2026 12:29PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے وزیرمملکت جناب درگاداس اوئیکے نے بدھ کے روز لوک سبھا میں بتایا کہ جل شکتی کی وزارت کے محکمہ آبی وسائل، ندیوں کی ترقی اور گنگاکے احیا کے تحت قائم کین-بیتوا لنک پروجیکٹ اتھارٹی نے مطلع کیا ہے کہ زمین کے حصول اور متاثرہ افراد کی بازآبادکاری و ازسرنو آبادکاری سے متعلق تمام سرگرمیاں ریاستی حکومتوں کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔
وزارتِ قبائلی امور کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کی رہنمائی اور نگرانی کرنے والی کمیٹیوں کی رکن ہے، جو دیگر امور کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ سے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اور ازسر نو آبادکاری کے عملی منصوبے پر عمل درآمد کی پیش رفت کی نگرانی کرتی ہیں۔اس کے علاوہ، وزارت قبائلی امور (ایم اوٹی اے)نے کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے پہلے مرحلے سے متاثرہ درج فہرست قبائلی خاندانوں کے لیے بازآبادکاری اور ازسر نو آبادکاری کے پروجیکٹ کو منظوری دی تھی۔ اس پروجیکٹ کے لیے قومی آبی ذرائع کےترقیاتی ادارے کی جانب سے سال 2016 میں پیش کی گئی تجویز میں بتایا گیا تھا کہ کین-بیتوالنک پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کے تحت مجموعی طور پر1913 متاثرہ خاندانوں (8339 افراد)کو نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سے 648 خاندان درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔
وزارت قبائلی امور کو اب تک ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے جس میں واضح طور پر یہ بتایا گیا ہو کہ جن رقوم کی تقسیم کا ریکارڈ موجود ہے، وہ درحقیقت مستحقین تک نہیں پہنچیں۔ تاہم، وزارت قبائلی امور کو کین-بیتوا ندی کے لنک کے پروجیکٹ کے باعث نقل مکانی سے متعلق مختلف درخواستیں اور نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں۔ ان کا جائزہ لیا گیا اور چونکہ جنگلاتی حقوق کے قانون پر عمل درآمد کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، اس لیے ان درخواستوں کو مزید جانچ اور ضروری کارروائی کے لیے مدھیہ پردیش حکومت اور متعلقہ ضلع انتظامیہ کو بھیج دیا گیا ہے۔
چونکہ درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں (جنگلاتی حقوق کی شناخت) قانون، 2006 (مختصراً ایف آر اے)کے نفاذ کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے پاس ہے، اس لیے اس سے متعلق اعداد و شمار وزارت قبائلی امور (ایم او ٹی اے)کے مرکزی ریکارڈ میں محفوظ نہیں کیے جاتے۔
وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے مطلع کیاہے کہ اس نے مدھیہ پردیش میں کین-بیتوا لنک پروجیکٹ سے متعلق دو تجاویز کو مرحلہ دوم کی منظوری دی ہے۔ ان منظوریوں میں بالترتیب 3 اکتوبر 2023 اور 6 مئی 2021 کو مختلف شرائط بھی عائد کی گئیں، جن میں درج ذیل امور شامل ہیں:
- ریاستی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پروجیکٹ کا کام شروع ہونے سے پہلے متعلقہ ادارہ متاثرہ افراد کی بازآبادکاری اور ازسر نو آبادکاری کے منصوبے (آر اینڈ آر) کو ریاستی حکومت کی بازآبادکاری پالیسی اور حکومت ہند کی قومی بازآبادکاری پالیسی(آر اینڈ آر) کے مطابق نافذ کرے۔ اس کی نگرانی ریاستی حکومت اور وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے علاقائی دفتر کے ذریعے کی جائے گی۔ نگرانی کے لیے مقررہ اشاریے اور متوقع قابل مشاہدہ اہداف بھی طے کیے جائیں گے۔
- ریاستی حکومت اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کے جنگلاتی حقوق کی شناخت سے متعلق قانون، 2006 پر مکمل عمل درآمد ہو چکا ہو۔ اس مقصد کے لیے وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری کردہ متعلقہ قواعد اور رہنما اصولوں کے مطابق تمام ضروری کارروائی مکمل کی جائے گی اور اس کے بعد ہی جنگلاتی زمین متعلقہ ادارے کے حوالے کی جائے گی۔
اس کے علاوہ ا وَن (سنرکشن ایوم سموردھن) قواعد، 2023 کے قاعدہ نمبر 11 (7) کی دفعات کے مطابق، ریاستی حکومت یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ جنگلاتی زمین کے استعمال میں تبدیلی، لیز پر دینے یا محفوظ حیثیت ختم کرنے سے متعلق حکم صرف اسی وقت جاری کر سکتی ہے جب حکومت ہند کی جانب سے قانون کی دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت مرکزی منظوری حاصل ہو جائے اور متعلقہ تمام قوانین اور ان کے تحت بنائے گئے قواعد کی شرائط پوری کر دی جائیں۔اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں (جنگلاتی حقوق کی شناخت) سے متعلق قانون، 2006 (2007 کے 2)کے تحت حقوق کے تعین اور تصفیے کا عمل مکمل ہو چکا ہو۔
مزید یہ کہ وزارت قبائلی امور(ایم او ٹی اے) مسلسل ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر زور دیتی رہی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی مستحق فرد کو اس کے جنگلاتی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں جنگلاتی حقوق کے قانون کی دفعہ 4 (5) کی پابندی بھی ضروری ہے، جس کے مطابق کسی بھی دعوی ٰ کرنے والے کو اس وقت تک اس کے زیر قبضہ جنگلاتی زمین سے بے دخل یا ہٹایا نہیں جا سکتا جب تک کہ حقوق کی شناخت اور تصدیق کا عمل مکمل نہ ہو جائے۔
پروجیکٹ سے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اور ازسر نو آبادکاری (آ ر اینڈ آر)، جس میں اس کا نفاذ، معاوضے کی ادائیگی، معاوضے میں اضافہ اور بازآبادکاری کے لیے آخری تاریخ کا تعین شامل ہے، متعلقہ ریاستی حکومت یا منصوبہ انتظامیہ کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔
********
ش ح۔ م ش۔ج ا
U-1465
(रिलीज़ आईडी: 2295394)
आगंतुक पटल : 7