PIB Backgrounder
برقی نقل و حمل کی جانب پیش قدمی: ہندوستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے ماحولیاتی نظام کا فروغ
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 12:02PM by PIB Delhi
ہندوستان تیزی سے برقی گاڑیوں (الیکٹرک وہیکلز) کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ برقی نقل و حمل اب اقتصادی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صاف ستھرے مستقبل کے لیے ایک اہم محرک بن چکی ہے۔ 2016 کے بعد سے برقی گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 46 گنا اضافہ ہوا ہے، جو صارفین کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح برآمدات 2020 میں 12 لاکھ امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 8 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جس سے ہندوستان ایک ابھرتے ہوئے عالمی برقی گاڑیوں کے مرکز کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر رہا ہے۔
حکومت کی مختلف اسکیمیں، جیسے قومی مشن برائے مینوفیکچرنگ، آٹوموبائل اور آٹو پرزہ جات کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) اور وزیر اعظم ای-ڈرائیو (برقی ڈرائیو انقلاب برائے جدید گاڑیوں کے فروغ) اسکیم، ملک میں ایک زیادہ خود کفیل برقی نقل و حمل کے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
برقی نقل و حمل کی جانب بھارت کی پیش رفت
ہندوستان کے گنجان شہروں میں روزمرہ کے سفر اور چھوٹے شہروں میں آخری مرحلے تک رسائی کے نظام میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ اس تبدیلی کا محور برقی نقل و حمل ہے، جو نہ صرف ایک جدید ٹیکنالوجی بلکہ ملک کی ماحولیاتی حکمت عملی اور پائیدار نقل و حمل کے ویژن کا بنیادی حصہ بن چکی ہے۔
حکومتی مراعات، ماحولیات کے بارے میں عوامی شعور میں اضافے اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے برقی گاڑیوں کو قومی ترجیح بنا دیا ہے، جو مستقبل کی آٹوموبائل صنعت کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ہندوستان میں نقل و حمل کا یہ انقلاب صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ایک اہم معاشی موقع بھی ہے۔ یہ تبدیلی ملک کی سب سے بڑی اور بااثر صنعتوں میں سے ایک کو نئی شکل دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، درآمداتی حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور کم کاربن پر مبنی، زیادہ مؤثر اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن رہی ہے۔
|
برقی گاڑی (الیکٹرک وہیکل) کیا ہے؟
برقی گاڑی (ای وی) ایسی گاڑی ہے جو برقی موٹر کے ذریعے چلتی ہے اور اپنی توانائی بیٹری میں محفوظ بجلی سے حاصل کرتی ہے۔ اس بیٹری کو بیرونی برقی ذریعے سے دوبارہ چارج کیا جا سکتا ہے۔
برقی گاڑیوں کی چار بنیادی اقسام ہیں:
- بیٹری سے چلنے والی برقی گاڑیاں (بی ای وی): یہ مکمل طور پر بجلی سے چلتی ہیں اور ان میں اندرونی احتراقی انجن نہیں ہوتا۔
- ہائبرڈ برقی گاڑیاں (ایچ ای وی): ان میں اندرونی احتراقی انجن اور برقی موٹر دونوں موجود ہوتے ہیں، جو مل کر گاڑی کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔
- پلگ اِن ہائبرڈ برقی گاڑیاں (پی ایچ ای وی): یہ بھی ہائبرڈ گاڑیاں ہیں، تاہم ان کی بیٹری کو بیرونی بجلی سے چارج کیا جا سکتا ہے، جس کی بدولت یہ زیادہ فاصلے تک صرف بجلی پر چل سکتی ہیں۔
- فیول سیل برقی گاڑیاں (ایف سی ای وی): ان میں برقی توانائی کیمیائی عمل کے ذریعے، عموماً ہائیڈروجن فیول سیل سے، پیدا کی جاتی ہے، جو برقی موٹر کو توانائی فراہم کرتی ہے۔
|
بھارت میں برقی گاڑیوں کا انقلاب: گزشتہ ایک دہائی کا سفر
ہندوستان میں برقی نقل و حمل کا سفر 2015 میں شروع ہوا، جب قومی برقی نقل و حمل مشن منصوبہ اورفیم (ایف اے ایم ای) اسکیم کا آغاز کیا گیا تاکہ برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مختلف مراعات فراہم کی جا سکیں۔
یہ اقدام واضح قومی ترجیحات کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ ان میں پیٹرولیم ایندھن کی درآمدات پر بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی، شہروں میں فضائی آلودگی پر قابو پانا، اور نقل و حمل کے شعبے سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا شامل تھا۔ ہندوستان میں مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نقل و حمل کے شعبہ کا حصہ تقریباً 9 فیصد ہے، اس لیے برقی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کو پائیدار اور ماحول دوست ترقی کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔
|
قومی برقی نقل و حمل مشن منصوبہ (این ای ایم ایم پی- 2020)
قومی برقی نقل و حمل مشن منصوبہ (این ای ایم ایم پی 2020) ہندوستان میں برقی گاڑیوں کے استعمال اور ان کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کرتا ہے۔ اس منصوبے کے دو بنیادی مقاصد ہیں: ملک کے توانائی تحفظ کو مضبوط بنانا اور صاف، پائیدار اور ماحول دوست نقل و حمل کو فروغ دینا۔
ہندوستان میں (ہائبرڈ اور) برقی گاڑیوں کو تیزی سے فروغ دینے اور ان کی تیاری کی اسکیم (فیم انڈیا)
این ای ایم ایم پی 2020 کے تحت فیم انڈیا اسکیم کا آغاز 2015 میں کیا گیا تاکہ ملک میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
اس اسکیم کے تحت:
برقی گاڑیاں خریدنے والوں کو مالی مراعات فراہم کی گئیں۔
چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
برقی گاڑیوں اور ان سے متعلقہ آلات کی مقامی تیاری کو فروغ دیا گیا۔
فیم انڈیا کا پہلا مرحلہ مارچ 2019 تک جاری رہا، جس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع کیا گیا، جو پانچ برس تک نافذ رہا اور اپریل 2024 میں مکمل ہوا۔
|
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
ہندوستان میں برقی گاڑیوں کا استعمال غیر معمولی رفتار سے بڑھا ہے۔ مالی سال 2015-16 میں ان کا حصہ محض 0.08 فیصد تھا، جو بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں8.26 فیصد تک پہنچ گیا۔
کووڈ-19 کے بعد خاص طور پرمالی سال 2021-22 میں، اس شعبے نے ایک فیصلہ کن موڑ لیا۔ حکومت کی ہدفی پالیسیوں، بہتر مالی مراعات، بڑھتی ہوئی سبسڈی اور برقی گاڑیوں کی آسان دستیابی نے ان کے استعمال میں تیز رفتار اضافہ ممکن بنایا۔
اسی عرصے میں بازار کی ساخت میں بھی نمایاں تبدیلی آئی۔ مالی سال2020-21 کے دوران برقی گاڑیوں کا استعمال زیادہ ترای-رکشوں تک محدود تھا، لیکن بعد میں برقی دو پہیہ گاڑیاں تیزی سے مقبول ہوئیں۔ مالی سال2024-25 تک یہ سب سے نمایاں شعبوں میں شامل ہو گئیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ برقی نقل و حمل مشترکہ اور غیر رسمی سفری ذرائع سے نکل کر نجی اور تجارتی استعمال کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔
تیز رفتار سفر پر ہندوستان: عالمی توسیع کے ساتھ برقی گاڑیوں کی ترقی
دنیا بھر میں برقی گاڑیوں کو اپنانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بہتر سفری فاصلے کی صلاحیت رکھنے والے اور نسبتاً کم قیمت کے نئے ماڈل مسلسل بازار میں آ رہے ہیں، جبکہ عوامی چارجنگ مراکز کے جال میں بھی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔
ہندوستان میں بھی یہی رجحان مضبوط حکومتی پالیسیوں، برقی گاڑیوں کی فروخت اور رجسٹریشن میں مسلسل اضافے، مقامی مینوفیکچرنگ، بیٹری سازی، اور چارجنگ نیٹ ورک کے فروغ کی بدولت مزید مستحکم ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں برقی گاڑیوں کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان کی برقی گاڑیوں کی کارکردگی: فروخت، رجسٹریشن اور برآمدات میں مسلسل اضافہ۔
|
ہندوستان میں 2016 میں برقی گاڑیوں کی فروخت تقریباً50 ہزار تھی، جو2025 تک بڑھ کر 23 لاکھ (2.3 ملین) سے تجاوز کر گئی۔ اس طرح گزشتہ ایک دہائی میں ملک کی برقی گاڑیوں کی منڈی میں تقریباً 46 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ ترقی عالمی رجحان سے بھی زیادہ تیز رہی ہے۔ دنیا بھر میں برقی گاڑیوں کی فروخت 2016 میں 9 لاکھ 18 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں ایک کروڑ 87 لاکھ 80 ہزار (18.78 ملین) تک پہنچی، جو تقریباً20 گنا اضافہ ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برقی نقل و حمل کے شعبے میں ہندوستان نہ صرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے بلکہ عالمی اوسط کے مقابلے میں کہیں زیادہ رفتار سے اپنی برقی گاڑیوں کی صنعت کو وسعت دے رہا ہے۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
2025 میں اتر پردیش ای وی کی سب سے بڑی مارکیٹ کے طور پر ابھرا۔ 4 لاکھ+ یونٹس کے ساتھ اس نے قومی ای وی کی فروخت کا 18 فیصد حصہ لیا۔ اس کے بعد 2.66 لاکھ یونٹس (12فیصد) کے ساتھ مہاراشٹر اور 2 لاکھ یونٹس (کل فروخت کا 9فیصد) کے ساتھ کرناٹک کا نمبر تھا۔ہندوستان کی ای وی کی رسائی 2020 میں عالمی رسائی کا محض پانچواں حصہ تھی۔ یہ 2024 میں عالمی رسائی کے دو پانچویں حصے تک پہنچ گئی۔ اس پیشرفت کا زیادہ تر حصہ موٹرائزڈ ٹو وہیلر (12.8 لاکھ یونٹ) اور تھری وہیلر (8 لاکھ یونٹ) 2025 میں فروخت ہوا۔
|
پچھلی دہائی میں ای وی رجسٹریشنز میں 62سے زیادہ کے سی اے جی آر پر نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ای وی کو اپنانے میں تیز رفتاری کی نشاندہی کرتا ہے۔ پالیسی سپورٹ، تکنیکی ترقی اور برقی نقل و حرکت میں صارفین کا بڑھتا ہوا اعتماد اہم محرک قوتیں ہیں۔
برآمدات میں نمایاں اضافہ
ملک کے اندر برقی گاڑیوں کے استعمال میں نمایاں اضافے کے بعد اب بھارت میں تیار ہونے والی برقی گاڑیاں عالمی منڈیوں میں بھی تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ ان کی برآمدات 2020 میں 12 لاکھ امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 8 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
ہندوستانی برقی گاڑیوں کی اہم برآمدی منڈیوں میں نیپال، انڈونیشیا اور جاپان شامل ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کی توسیع
بنیادی ڈھانچے کے محاذ پر بھی بھارت میں عوامی برقی گاڑی چارجنگ نیٹ ورک تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ (بی ایچ ای ایل-بھیل) کے مطابق جولائی 2026 تک ملک میں قائم 52,718 عوامی چارجنگ اسٹیشنوں میں سے 16,561 اسٹیشن تیز رفتار (فاسٹ) چارجنگ کی سہولت سے لیس ہیں۔
اس کے علاوہ ای-امرت پلیٹ فارم صارفین کو اپنی موجودہ جگہ کی بنیاد پر قریبی چارجنگ اسٹیشن تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
نجی شعبہ کی بڑی کمپنیاں بھی چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر 2024 میں ہنڈائی موٹر انڈیا نے اپنی انتہائی تیز رفتار چارجنگ سہولت کے نیٹ ورک میں 11 نئے چارجنگ اسٹیشن شامل کیے۔ یہ اسٹیشن ممبئی، پونے، احمد آباد، حیدرآباد، گروگرام، بنگلورو اور اہم قومی شاہراہوں پر قائم کیے گئے، جس سے برقی گاڑیوں کے صارفین کو زیادہ آسان اور مؤثر چارجنگ سہولت میسر آئی۔
انڈیا الیکٹرک موبلٹی انڈیکس (آئی ای ایم آئی)
صاف ستھرے اور ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ کی جانب ایک اہم اقدام کے طور پر نیتی آیوگ نے اگست 2025 میں انڈیا الیکٹرک موبلٹی انڈیکس (آئی ای ایم آئی) متعارف کرایا۔
اپنی نوعیت کے اس پہلے اشاریہ کا مقصد مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں برقی نقل و حمل کے فروغ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینا اور ان کا باہمی موازنہ کرنا ہے۔
یہ اشاریہ 16 مختلف اشاریوں کی بنیاد پر کارکردگی کا اندازہ لگاتا ہے، جو تین بنیادی ستونوں پر مشتمل ہیں:
نقل و حمل میں برقی گاڑیوں کا فروغ
چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری
برقی گاڑیوں سے متعلق تحقیق اور اختراع
اس کے ذریعہ ہر ریاست اور مرکز کے زیرانتظام علاقے میں برقی نقل و حمل کے ماحولیاتی نظام کی مضبوطی اور پیش رفت کی واضح تصویر سامنے آتی ہے۔حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
پیش رو: جہاں برقی گاڑیوں کا مضبوط اور ترقی یافتہ ماحولیاتی نظام موجود ہے۔کارکردگی دکھانے والے: جہاں اس شعبے میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔امیدوار: جہاں مزید پالیسی تعاون اور حکومتی مداخلت کی ضرورت ہے۔اس اشاریہ کے مطابق دہلی، مہاراشٹر اور چنڈی گڑھ کو پیش رو قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ان علاقوں میں برقی گاڑیوں کا مضبوط، جامع اور ترقی یافتہ ماحولیاتی نظام قائم ہو چکا ہے۔
تیز رفتار مقامی تیاری: نئی کمپنیوں اور مصنوعی ذہانت کی طاقت سے
مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ مقامی سپلائرز کے مضبوط ہوتے ہوئے نیٹ ورک کی بدولت اب ملک میں بیٹری پیک، برقی موٹرز، ڈرائیو ٹرین، پاور الیکٹرانکس، وائرنگ اور چارجنگ آلات سمیت برقی گاڑیوں کے بیشتر اہم پرزے مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں۔معروف گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں، جیسے ٹاٹا موٹرز، مہندرا، ٹی وی ایس اور بجاج آٹو، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، گیگا فیکٹریوں کے قیام اور برقی گاڑیوں کے لیے مخصوص پلیٹ فارمز کی تیاری میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔اس کے ساتھ ہی ون فاسٹ، ٹیسلا اور جنوبی کوریا و جاپان کی بڑی بیٹری ساز کمپنیاں بھی بھارت میں بڑے پیمانے پر پیداواری یونٹ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔یہ پیش رفت مقامی پیداوار کو فروغ دینے، پیداواری لاگت میں مسابقت پیدا کرنے اور بھارت کو برقی گاڑیوں کی عالمی سپلائی چین کا ایک اہم اور مؤثر حصہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
|
‘ای وٹارا’ — سوزوکی کی پہلی ہندوستان میں تیار کی جانے والی عالمی اسٹریٹجک بیٹری سے چلنے والی برقی گاڑی
اگست 2025 میں ہندوستان کے ماحول دوست نقل و حمل کے سفر میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا گیا، جب سوزوکی کی پہلی عالمی اٹریٹجک بیٹری سے چلنے والی برقی گاڑی (بی ای وی)‘ای وٹارا ’ کا افتتاح کیا گیا۔
ہندوستان میں تیار کی جانے والی اس برقی گاڑی کویوروپ اور جاپان سمیت دنیا کے 100 سے زائد ممالک کو برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس اہم پیش رفت کے ساتھ ہی ہندوستان سوزوکی کے لیے برقی گاڑیوں کی عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکزبن گیا، جو ملک کی بڑھتی ہوئی صنعتی صلاحیت، مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ اور عالمی برقی گاڑیوں کی سپلائی چین میں اس کے مضبوط ہوتے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
|
|
ہندوستان کے اسٹارٹ اپس برقی گاڑیوں کے شعبے میں موجود وسیع امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ادارے چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، بیٹری ٹیکنالوجی میں اختراع، کم لاگت پر مقامی تیاری اور اعداد و شمار پر مبنی جدید حل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اس وقت ہندوستان میں تقریباً 400 برقی گاڑیوں سے متعلق اسٹارٹ اپس سرگرم عمل ہیں، جو ملک کے فروغ پاتے ہوئے برقی گاڑیوں کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔دوسری جانب، برقی گاڑیوں کا یہ ترقی پذیر نظام مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بھی بھرپور استفادہ کر رہا ہے تاکہ سفر کو زیادہ آسان، محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔ آواز کے ذریعے رہنمائی، حقیقی وقت میں ٹریفک کی معلومات اور ذہین راستہ بندی جیسی سہولتیں اسی پیش رفت کا حصہ ہیں۔مصنوعی ذہانت آواز کے ذریعے گاڑی کو کنٹرول کرنے، باہم مربوط ڈجیٹل سہولتیں فراہم کرنے اور خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کے لیے موزوں خصوصیات متعارف کرا کے سفر کو مزید محفوظ، سہل اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
|
سرمایہ کاری میں تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان
برقی گاڑیوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کا رجحان مسلسل مضبوط رہا ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران بھارت کے برقی گاڑیوں کے ماحولیاتی نظام میں 1.4 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 27 فیصد زیادہ ہے۔
اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ برقی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو ملا، جنہوں نے تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس حوالے سے دہلی برقی گاڑیوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کا سب سے نمایاں مرکز بن کر سامنے آیا۔
بھارت میں برقی گاڑیوں کے فروغ کے لیے حکمتِ عملی پر مبنی پالیسی اقدامات
حکومت 2015 سے مختلف منصوبوں اور اسکیموں کے ذریعے برقی نقل و حمل کو فروغ دے رہی ہے۔ برقی گاڑیوں کے استعمال میں تیزی لانے کے لیے حکومت نے ہدفی پالیسی اقدامات، مالی مراعات اور مشن پر مبنی پروگراموں پر مشتمل جامع حکمت عملی اختیار کی ہے۔فیم ( ایف اے ایم ای) اسکیم، جدید کیمیائی بیٹری سیلز (ایڈوانسڈ کیمسٹری سیلز) کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی)، اور بیٹریوں کی مقامی تیاری جیسے اقدامات کا مقصد برقی نقل و حمل کا ایک مضبوط، خود کفیل اور مستقبل سے ہم آہنگ ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔اسی طرح مختلف ریاستیں بھی مؤثر پالیسیوں، چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مراعات کے ذریعے ہندوستان میں برقی گاڑیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
دسمبر 2025 تک 29 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں نے برقی گاڑیوں سے متعلق اپنی پالیسیاں نافذ کر دی تھیں، جبکہ مزید چار ریاستوں اور علاقوں کی پالیسیاں مسودے کی شکل میں زیرِ غور تھیں۔
سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے متعدد ریاستیں درج ذیل مراعات فراہم کر رہی ہیں:
- 15 سے 25 فیصد تک سرمایہ جاتی سبسڈی۔
- صنعتی منصوبوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر زمین کی الاٹمنٹ۔
- اسٹامپ ڈیوٹی میں مکمل یا جزوی چھوٹ۔
ریاستی اشیا و خدمات ٹیکس (ایس جی ایس ٹی) کی 100 فیصد تک واپسی۔
ان پالیسی اقدامات کے نتیجے میں تمل ناڈو، مہاراشٹر، کرناٹک، گجرات، ہریانہ اور اتر پردیش برقی گاڑیوں کی صنعت کے بڑے مراکز کے طور پر ابھرے ہیں، جہاں مضبوط مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
دہلی کی برقی گاڑیوں کی پالیسی
دہلی کی برقی گاڑیوں کی پالیسی بھارت کی سب سے ترقی پسند برقی گاڑیوں کی پالیسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا مقصد گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی میں کمی لانا اور شہر میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔جون 2026 میں حکومت نے دہلی-این سی آر میں پرانے اور زیادہ آلودگی پھیلانے والے ٹرکوں اور بسوں کو تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع اسکیم کو منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد فضائی معیار کو بہتر بنانا اور صاف ستھری نقل و حمل کو فروغ دینا ہے۔ یہ اقدام صاف، ماحول دوست اور پائیدار نقل و حمل کے نظام کی جانب دہلی-این سی آر کی اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
قومی مشن برائے مینوفیکچرنگ (این ایم ایم)
قومی مشن برائے مینوفیکچرنگ (این ایم ایم) 2025 نے برقی گاڑیوں کو جدت پر مبنی ترقی کے لیے ایک اہم ‘بنیادی شعبہ’ قرار دیا ہے۔ اس مشن نے سال 2035 تک کے لیے بلند اہداف مقرر کیے ہیں۔اس کا مقصد مینوفیکچرنگ شعبے کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 2023 کے 12.9 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصدکرنا ہے۔ مزید برآں، این ایم ایم کا ہدف 14 کروڑ 30 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور تجارتی اشیا کی برآمدات کو 1.2 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچانا ہے۔یہ مشن جدید مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے، ٹیکنالوجی کی ترقی کی حوصلہ افزائی کرنے اور برقی گاڑیوں کی تیاری کو عالمی ویلیو چین سے جوڑ کر بھارت کے برقی گاڑیوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔
ہدفی کلسٹر پر مبنی اقدامات اور پالیسی تعاون کے ذریعے این ایم ایم ملک میں برقی گاڑیوں کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو تیز رفتاری سے بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے۔
وزیر اعظم برقی ڈرائیو انقلاب برائے جدید گاڑیوں کے فروغ کی اسکیم (پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم)
پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کو2024 میں مطلع کیا گیا، جووزارتِ بھاری صنعت کی ایک اہم پہل ہے۔ اس کا مقصد ہدفی طلبی مراعات، مقامی مینوفیکچرنگ کی حمایت اور چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ذریعے برقی گاڑیوں کے استعمال کو تیز کرنا ہے۔اس اسکیم کے لیے10,900 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس کے تحت کئی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں: برقی دو پہیہ گاڑیاں،برقی تین پہیہ گاڑیاں، برقی ٹرک، برقی بسیں اوربرقی ایمبولینس شامل ہیں۔اس اسکیم کے تحت مرحلہ وار مینوفیکچرنگ پروگرام (پی ایم پی) کے ذریعے مخصوص برقی گاڑیوں کے پرزہ جات کی مقامی تیاری کو لازمی بنایا گیا ہے۔
پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کے تحت28 لاکھ سے زائد برقی گاڑیوں کو معاونت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان میں سےجنوری 2026 تک 22.12 لاکھ برقی گاڑیاں فروخت کی جا چکی ہیں۔ اس کامیابی میں صارفین کے لیے خریداری کی لاگت کم کرنے والی براہِ راست مراعات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اس اسکیم میں عوامی نقل و حمل کو برقی بنانے کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ ملک بھر میں14,028 برقی بسوں کے لیے 4,391 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں سے13,800 بسیں سات بڑے شہروں کے لیے مختص کی گئی ہیں، جن میں: بنگلور، دہلی، ممبئی، حیدرآباد، احمد آباد، پونے اور سورت شامل ہیں۔
پہلے مرحلے میں مختص کی گئی10,900 برقی بسوں کے لیے ٹینڈر کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ملک بھر میں برقی گاڑیوں کے عوامی چارجنگ اسٹیشنز (ای وی پی سی ایس) کے قیام کے لیے 2,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ وزارت بھاری صنعت کے تحت گاڑیوں کی جانچ کرنے والے اداروں کی جدید کاری اور بہتری کے لیے780 کروڑ روپےمختص کیے گئے ہیں۔یہ اسکیم ماحولیاتی آلودگی اور ایندھن کے تحفظ سے متعلق اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ پائیدار نقل و حمل کے حل کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ ہندوستان میں نقل و حمل کے شعبے کے لیے صاف، ماحول دوست اور پائیدار مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
وزیر اعظم ای-بس سیوا — ادائیگی تحفظ طریقۂ کار (پی ایس ایم) اسکیم
وزیر اعظم ای-بس سیوا — ادائیگی تحفظ طریق کار (پی ایس ایم) اسکیم (2024) کے تحت ہر تعینات کی جانے والی بس کے لیے 12 سال تک ادائیگی کے تحفظ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ بسیں عموماً معاہدے پر دستخط ہونے کے دو سال کے اندر سڑکوں پر چلنا شروع کر دیتی ہیں۔اس اسکیم کے تحت 10,000 برقی بسیں عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پی) ماڈل کے ذریعے چلائی جائیں گی، جس میں حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں گے۔ اس کا مقصد شہری علاقوں میں سٹی بس خدمات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا ہے۔یہ اسکیم مختلف اقدامات پر مشتمل ہے، جن کے ذریعے حکومت درج ذیل شعبوں میں تعاون فراہم کرے گی:بسوں کا آپریشن،بس ڈپو کا بنیادی ڈھانچہ،چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع اورماحول دوست نقل و حمل کے اقدامات۔یہ پہل شہری علاقوں میں صاف، پائیدار اور جدید عوامی نقل و حمل کے نظام کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
فروری 2026 میں گجرات کے بھاؤ نگر میں 50 برقی بسوں کا آغاز
فروری 2026 میں گجرات کے بھاؤ نگر میں 50 برقی بسوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر کےناگپور، چنڈی گڑھ اور آسام کے گوہاٹی جیسے شہروں کو بھی اس اسکیم کے ابتدائی مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔
ہندوستان میں برقی مسافر کاروں کی تیاری کے فروغ کی اسکیم (ایس پی ایم ای پی سی آئی)
ایس پی ایم ای پی سی آئی اسکیم (2024) کا مقصد بھارت میں برقی کاروں کی تیاری کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کمپنیوں کے لیے کم از کم 4,150 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری لازمی قرار دی گئی ہے۔اس کے علاوہ کمپنیوں کو تیسرے سال تک کم از کم25 فیصد مقامی قدر میں اضافہ (ڈی وی اے) اور پانچویں سال تک 50 فیصد مقامی قدر میں اضافہ حاصل کرنا ہوگا۔
وزارت بھاری صنعت نے اس اسکیم کا آغازصاف، سرسبز اور زیادہ خود کفیل بھارت کے ویژن کے تحت کیا ہے۔ برقی گاڑیوں کو فروغ دے کر اس کا مقصد: فضائی آلودگی میں کمی لانا، تیل کی درآمدات اور تجارتی خسارے کو کم کرنا، جدت، روزگار اور معاشی ترقی کو فروغ دیناہے۔
آٹوموبائل اور آٹو پرزہ جات کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی-آٹو اسکیم)
پی ایل آئی-آٹو اسکیم (2021) کا مقصد جدید آٹوموبائل ٹیکنالوجی (اے اے ٹی) کے شعبے، بشمول برقی گاڑیوں، میں ہندوستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔اس اسکیم کے تحت مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے مالی مراعات فراہم کی جاتی ہیں، جس کے لیے کم از کم 50 فیصد مقامی قدر میں اضافہ ضروری ہے۔ اس کا مقصد آٹوموبائل کی مکمل ویلیو چین میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا بھی ہے۔برقی نقل و حمل پر اپنی خصوصی توجہ کے تحت منظور شدہ درخواست گزاروں کو مجموعی طور پر2,377.56 کروڑ روپے کی مراعات جاری کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 2,319.88 کروڑ روپے مختلف اقسام کی برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جن میں: برقی دو پہیہ گاڑیاں، برقی تین پہیہ گاڑیاں، برقی چار پہیہ گاڑیاں اور برقی بسیں شامل ہیں (جنوری 2026 تک)۔
پی ایل آئی اسکیم، جو خود کفیل بھارت کے ویژن سے ہم آہنگ ہے، 14 شعبوں میں صنعتی ترقی کا ایک اہم محرک بن چکی ہے اور الیکٹرانکس، ادویہ سازی اور آٹوموبائل صنعتوں میں مسابقت بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
جدید کیمیائی سیل (اے سی سی) بیٹری اسٹوریج کے قومی پروگرام کے لیے پی ایل آئی اسکیم (پی ایل آئی-اے سی سی اسکیم)
پی ایل آئی-اے سی سی اسکیم (2021) کے لیے18,100 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد ملک میں بیٹریوں کی مقامی تیاری کو فروغ دینا ہے۔اس اسکیم کے تحت ہندوستان میں مجموعی طور پر 50 گیگا واٹ گھنٹہ (جی ڈبلیو ایچ) اے سی سی مینوفیکچرنگ صلاحیت قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔یہ اسکیم فروخت سے منسلک مراعات کے ذریعے جدید اور طویل فاصلے تک چلنے والی برقی گاڑیوں کی بیٹریوں کی تیاری میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ ابتدائی تیاری کے مرحلے کے بعد یہ اسکیم اب اپنی کارکردگی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جو یکم جنوری 2025 سے 31 دسمبر 2029 تک جاری رہے گا۔اے سی سی نئی نسل کی جدید توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز ہیں، جو برقی توانائی کو کیمیائی یا برقی کیمیائی توانائی کی شکل میں محفوظ کر سکتی ہیں اور ضرورت کے وقت اسے دوبارہ برقی توانائی میں تبدیل کر سکتی ہیں۔برقی گاڑی کی مجموعی لاگت میں بیٹری کا حصہ تقریباً 35 سے 40 فیصد ہوتا ہے، جو سب سے بڑا واحد جزو ہے۔ اسی لیے مقامی سطح پر اے سی سی بیٹریوں کی تیاری میں اضافہ: گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھانےکے لیے نہایت اہم ہے۔
برقی گاڑیوں پر کم جی ایس ٹی
ہندوستان میں برقی گاڑیوں پر رعایتی اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 5 فیصد مقرر ہے، جو تمام برقی کاروں، دو پہیہ گاڑیوں اور تین پہیہ گاڑیوں پر لاگو ہوتی ہے۔اس رعایتی شرح کے باعث برقی گاڑیوں پر عائد ٹیکس روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس سے ان کے استعمال کو فروغ ملتا ہے۔
آگے بڑھتا سفر: ہندوستان میں برقی گاڑیوں کی ترقی کا مستقبل
ہندوستان خود کو ایک ایسی منڈی سے تبدیل کر رہا ہے جو پہلے درآمدات پر زیادہ انحصار کرتی تھی، اب برقی گاڑیوں کی تیاری کے ایک عالمی سطح پر مسابقتی مرکز کے طور پر اپنی شناخت بنا رہا ہے۔یہ تبدیلی ملک کی ان اہم حکمتِ عملیوں سے ہم آہنگ ہے جن میں توانائی کا تحفظ، تیل کی درآمدات میں کمی اور 2070 تک خالص صفر اخراج (نیٹ زیرو) کے ہدف کا حصول شامل ہیں۔
‘میک اِن انڈیا’ کے تحت مکمل مقامی برقی گاڑیوں کی تیاری پر توجہ
- حکومت کی توجہ‘میک ان انڈیا’ پہل کے تحت برقی گاڑیوں کی مکمل مقامی تیاری کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔
- ہندوستان کی برقی گاڑیوں کی منڈی جس کی مالیت 2025 میں 3.71 ارب امریکی ڈالر تھی، 2034 تک بڑھ کر 191.04 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کی سالانہ مرکب شرح نمو (سی اے جی آر) 54.94 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
- اسی طرح ہندوستان کی برقی گاڑیوں کی بیٹری مارکیٹ 2025 میں 2.71 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2034 تک 15.90 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس کی سالانہ مرکب شرحِ نمو 21.70 فیصد متوقع ہے۔
بھارت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک میں فروخت ہونے والی تمام گاڑیوں میں 30 فیصد حصہ برقی گاڑیوں کا ہو، جو عالمی ای وی 30@30 پہل سے ہم آہنگ ہے۔2030 تک ملک بھر میں 13.2 لاکھ چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا منصوبہ برقی گاڑیوں کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔طلب اور پیداوار سے متعلق مراعات، مقامی تیاری کو فروغ دینے والی پالیسیوں اور ابتدائی مرحلے میں چارجنگ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے باعث بھارت برقی گاڑیوں کے شعبے میں توسیع کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عالمی سپلائی چین میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہندوستان برقی گاڑیوں کی تیاری میں سرمایہ کاری کے لیے دنیا کی سب سے پُرکشش مقام میں شامل ہونے کی توقع رکھتا ہے۔مقامی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ بھارت برقی گاڑیوں کی برآمدات کا ایک اہم مرکز بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس میں مختلف اقسام کی گاڑیاں شامل ہوں گی، جیسے برقی دو پہیہ گاڑیاں، چھوٹی برقی کاریں، بیٹری پیک اور ڈرائیو ٹرین کے اہم اجزا۔ اس پیش رفت کو تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داریوں سے مزید تقویت مل رہی ہے۔
کارپوریٹ اوسط ایندھن کارکردگی کے نئے معیارات
مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کارپوریٹ اوسط ایندھن کارکردگی (سی اے ایف ای) معیارات کے اگلے مراحل تیار کر رہی ہے: سی اے ایف ای-( III) 027–2032،سی اے ایف ای- IV 2033–2037 ان معیارات کے تحت ورلڈ وائیڈ ہارمونائزڈ لائٹ وہیکل ٹیسٹ پروسیجر (ڈبلیو ایل ٹی پی) کی بنیاد پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے لیے مزید سخت اہداف مقرر کیے جائیں گے۔
مجوزہ حدیں یہ ہیں:سی اے ایف ای-III: 91.7 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ فی کلومیٹر اورسی اے ایف ای-IV: 70 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ فی کلومیٹر۔ان معیارات کو سپر کریڈٹ نظام کے ساتھ نافذ کیے جانے کی توقع ہے۔ اس سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں (او ای ایمز) کو برقی گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کے ذریعے مقررہ اہداف پورے کرنے میں آسانی ہوگی، بجائے اس کے کہ وہ صرف روایتی گاڑیوں اور پلگ ان کے بغیر ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت پر انحصار کریں۔
ہندوستان میں کارپوریٹ اوسط ایندھن کارکردگی (سی اے ایف ای) معیارات کا آغاز 2017 میں کیا گیا تھا۔ ان کا مقصد گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو زیادہ ایندھن مؤثر اور کم اخراج والی مسافر گاڑیاں، بشمول برقی گاڑیاں، تیار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔یہ معیارات گاڑیوں کے مختلف شعبوں میں کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ برقی گاڑیوں کے فروغ، مجموعی ایندھن کی کھپت میں کمی اور بڑے پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تبدیلی کے دہانے پرہندوستان
ہندوستان نقل و حمل کے شعبے میں ایک تاریخی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ برقی گاڑیوں کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، مینوفیکچرنگ صلاحیت میں وسعت آ رہی ہے اور تکنیکی صلاحیتیں مسلسل ترقی کر رہی ہیں۔نتیجتاً، ہندوستان تیزی سے تحقیق و ترقی اور برقی گاڑیوں کی تیاری کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔برقی گاڑیوں کے فروغ کو آگے بڑھانے والے اہم عوامل میں شامل ہیں:بہتر مالی سہولتوں تک رسائی،عوامی شعور میں اضافہ،جدید ٹیکنالوجی کی ترقی،قابلِ اعتماد چارجنگ نظام اورہنرمند افرادی قوت۔اس کے علاوہ اصلاحات پر مبنی پالیسی ماحول بھی بھارت کو بڑے پیمانے پر دیرپا مسابقتی برتری فراہم کر رہا ہے۔مستقبل کا سفر مزید مضبوط سپلائی چین کے انضمام، بیٹریوں کی تیز رفتار مقامی تیاری اور وسیع و مؤثر چارجنگ بنیادی ڈھانچے سے تشکیل پائے گا۔ یہ تمام ستون مل کر عالمی برقی گاڑیوں کے منظرنامے میں ہندوستان کی قیادت کا تعین کریں گے۔
حوالہ جات
Prime Minister's Office
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2160822®=3&lang=2
Ministry of Heavy Industries
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200852®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2237556®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2117485®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2222608®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2227596®=3&lang=2
https://heavyindustries.gov.in/en/pli-scheme-national-programme-advanced-chemistry-cell-acc-battery-storage
https://sansad.in/getFile/rsnew/Committee_site/Committee_File/ReportFile/17/215/332_2026_3_14.pdf?source=rajyasabha
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2222604®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2237554®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU1779_LB4HdS.pdf?source=pqals
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2260368®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2287125®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2287131®=3&lang=1
Ministry of Housing and Urban Affairs
https://pm-ebus-sewa.mohua.gov.in/
Ministry of Environment, Forest and Climate Change
https://teriin.org/files/EV-Charging-in-India-Ecosystem-Perspectives-and-Skilling-Opportunities.pdf
Ministry of Finance
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1580536®=3&lang=2
Ministry of Road Transport & Highways
https://vahan.parivahan.gov.in/vahan4dashboard/vahan/dashboardview.xhtml;jsessionid=7E3B85C812D7040175EF101A79811DD4
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU585_GCe0A2.pdf?source=pqars
Ministry of Commerce and Industry
https://www.investindia.gov.in/team-india-blogs/governments-ev-policies-driving-indias-green-revolution
https://www.investindia.gov.in/team-india-blogs/inside-indias-ev-manufacturing-ecosystem-key-investment-trends-government-policies
https://www.startupindia.gov.in/content/sih/en/ams-application/accelerator-program.html?applicationId=5ce7f127e4b08f8b1a974283
Government of NCT of Delhi
https://transport.delhi.gov.in/transport/delhi-ev-policy
Cabinet
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268342®=3&lang=1
Council on Energy, Environment and Water
https://www.ceew.in/gfc/publications/navigating-indias-electric-mobility-transition#:~:text=At%20the%20national%20level%2C%20India's,began%20to%20surge%20from%20FY22
https://www.ceew.in/gfc/solutions-factory/publications/CEEW-Navigating_India%27s_Electric_Mobility_Transition_WEB.pdf
https://www.ceew.in/gfc/tools_and_dashboards/electric-mobility/national-volume-monitor
https://www.ceew.in/press-releases/india-on-track-to-exceed-2030-ndc-target-on-carbon-emissions-reduction
https://www.ceew.in/news/cop-26-ceew-unpacks-indias-2070-net-zero-target-and-other-climate-mitigation-measures
International Energy Agency
https://iea.blob.core.windows.net/assets/7ea38b60-3033-42a6-9589-71134f4229f4/GlobalEVOutlook2025.pdf
US Department of Energy
https://afdc.energy.gov/vehicles/electric
https://afdc.energy.gov/laws/12660%20;%20https://afdc.energy.gov/vehicles/electric
IBEF
https://www.ibef.org/industry/electric-vehicle
https://www.ibef.org/news/india-s-electric-vehicle-market-accounts-for-8-of-new-vehicle-registrations-in-2025-vahan-portal-data
Others
https://ddnews.gov.in/en/indias-ev-sales-cross-2-3-million-in-2025-market-share-rises-to-8/
https://www.newsonair.gov.in/indias-electric-vehicle-market-accounts-for-8-of-new-vehicle-registrations-in-2025-vahan-portal-data/
https://ddnews.gov.in/en/pm-modi-flags-off-50-electric-buses-for-gujarats-bhavnagar-under-pm-e-bus-sewa-scheme/
https://www.newsonair.gov.in/over-29000-public-ev-charging-stations-installed-in-india-mos-bhupathiraju-srinivasa-varma/
https://www.iea.org/reports/global-ev-outlook-2026
Niti Aayog
https://niti.gov.in/sites/default/files/2025-08/Electric-Vehicles-WEB-LOW-Report.pdf
https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-01/Trade_Watch_Quarterly_April_June_Q1_FY26.pdf
https://e-amrit.niti.gov.in/charging-map
https://niti.gov.in/sites/default/files/2025-08/India-Electric-Mobility-Index-2024-Report.pdf
https://e-amrit.niti.gov.in/benefits-of-electric-vehicles
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2152243®=3&lang=2#:~:text=It%20enables%20states%20to%20benchmark,learn%20from%20each%20other's%20successes.%E2%80%9D
PIB Archives
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155094&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=157304&ModuleId=3®=3&lang=1
Click here to see Pdf
*****
ش ح- ظ الف- ع د
UR-1456
(रिलीज़ आईडी: 2295384)
आगंतुक पटल : 9