وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعلیم

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 6:15PM by PIB Delhi

قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مختلف سطحوں پر طلبہ میں اہم مہارتیں پیدا کرنے کے لیے نصاب اور تدریسی طریقوں میں مربوط اقدامات کیے جائیں، جن میں متعلقہ مراحل پر مصنوعی ذہانت، ڈیزائن تھنکنگ، جامع صحت، نامیاتی طرزِ زندگی، ماحولیاتی تعلیم اور عالمی شہریت کی تعلیم جیسے جدید مضامین شامل کیے جائیں۔

این ای پی 2020 کی شق 4.25 میں کہا گیا ہے کہ ریاضی اور ریاضیاتی سوچ ہندوستان کے مستقبل اور مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیٹا سائنس اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں اس کی قائدانہ حیثیت کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔ اسی لیے ابتدائی مرحلے سے ہی پوری اسکولی تعلیم کے دوران ریاضی اور کمپیوٹیشنل سوچ پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پہیلیوں، کھیلوں اور دیگر اختراعی طریقوں کو نصاب میں شامل کیا جائے گا تاکہ ریاضی کی تعلیم زیادہ دلچسپ اور مؤثر بن سکے، جبکہ مڈل مرحلے میں کوڈنگ سے متعلق سرگرمیاں بھی متعارف کرائی جائیں گی۔

قومی نصابی فریم ورک برائے اسکولی تعلیم (این سی ایف ایس ای) 2023 میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ریاضی کی تعلیم آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے، کیونکہ اس کا مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیٹا سائنس، موسمیاتی ماڈلنگ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور دیگر سائنسی شعبوں سے گہرا تعلق ہے۔

فریم ورک میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، بگ ڈیٹا اینالیٹکس، بصری تجزیہ، ورچوئل اور افزودہ حقیقت، ورچوئل تجربہ گاہوں اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو تدریس، سیکھنے، جانچ، اساتذہ کی تربیت، پیشہ ورانہ ترقی، تعلیمی رسائی اور تعلیمی منصوبہ بندی و انتظام میں مؤثر انداز سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت ذاتی نوعیت کی تعلیم، ذہین تشخیص، حالات کے مطابق تدریس اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی کے ذریعے تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی لا رہی ہے۔ حکومت ہند نے مصنوعی ذہانت کو اکیسویں صدی کی ایک اہم اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجی تسلیم کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور قومی نصابی فریم ورک برائے اسکولی تعلیم 2023 کے تحت اسکولی تعلیم میں کمپیوٹیشنل سوچ اور مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔

اسی کے مطابق این سی ای آر ٹی نے مرکزی بورڈ برائے ثانوی تعلیم (سی بی ایس ای) کے اشتراک سے تعلیمی سال 2026-27 سے جماعت سوم سے جماعت ہشتم تک کے لیے کمپیوٹیشنل سوچ اور مصنوعی ذہانت کا خصوصی نصاب متعارف کرایا ہے۔ جماعت نہم سے بارہویں تک مصنوعی ذہانت اور متعلقہ مضامین کے نصاب کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس نصاب میں منطقی استدلال، نمونوں کی شناخت، الگورتھم کی تیاری، ڈیٹا خواندگی اور ذمہ دارانہ و اخلاقی مصنوعی ذہانت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور اختراع کو فروغ دیتے ہوئے کمپیوٹیشنل سوچ کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم کی بنیادی صلاحیت قرار دیا گیا ہے، تاکہ مختلف جماعتوں میں عمر کے مطابق تدریجی انداز سے تعلیم دی جا سکے۔

تعلیمی عمل میں سہولت کے لیے اساتذہ کی رہنما کتابیں اور تدریسی معاون کتابچے بھی تیار کیے گئے ہیں، جو سی بی ایس ای کی ویب سائٹ https://cbseacademic.nic.in/skilleducation.html پر دستیاب ہیں۔ سی بی ایس ای کے مطابق اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کی تدریس کے لیے مطلوبہ بنیادی ڈھانچے کی تفصیلات نصاب میں واضح طور پر درج ہیں اور اسکولوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مضمون کے طلبہ کے لیے مناسب سہولیات فراہم کریں۔ اس کے علاوہ بورڈ سے وابستہ تمام اسکولوں کو الحاق کے ضوابط کے مطابق ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ برقرار رکھنا ہوگا۔

وزارت ہنرمندی کے فروغ اور انٹرپرینیورشپ نے قومی سطح پر اسکلنگ فار اے آئی ریڈینس (SOAR) پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد جماعت ششم سے بارہویں تک کے طلبہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی معلومات اور مہارتیں پیدا کرنا اور اساتذہ میں بھی مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی بڑھانا ہے۔ اس پروگرام میں طلبہ کے لیے 15،15 گھنٹے کے تین مرحلہ وار ماڈیول، اے آئی ٹو بی اویئر، اے آئی ٹو ایکوائر اور اے آئی ٹو ایسپائر شامل ہیں، جبکہ اساتذہ کے لیے اے آئی فار ایجوکیٹرز کے عنوان سے 45 گھنٹے کا الگ ماڈیول تیار کیا گیا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت کی بنیادی معلومات، جنریٹو مصنوعی ذہانت، روزمرہ زندگی میں اس کے استعمال، پروگرامنگ کے بنیادی اصول، اخلاقیات، سائبر سکیورٹی اور مستقبل کے پیشہ ورانہ مواقع جیسے موضوعات شامل ہیں۔

مزید برآں، چونکہ تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست کا موضوع ہے اور زیادہ تر اسکول ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے ان کے تحت آنے والے اسکولوں میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی تجربہ گاہوں کے قیام کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ہے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

********

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 1432 )


(रिलीज़ आईडी: 2295140) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Telugu