عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

برکس انسداد بدعنوانی  ورکنگ گروپ کی دوسری میٹنگ 4-5 اگست 2026 کو منعقد

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 4:16PM by PIB Delhi

محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی)، حکومت ہند نے بھارت کی برکس صدارت 2026 کے تحت 4 اور 5 اگست 2026 کو حیدرآباد، تلنگانہ میں برکس انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ کے دوسرے اجلاس اور اثاثوں کی بازیابی سے متعلق برکس ماہرین کے نیٹ ورک کے دوسرے اجلاس کی کامیابی کے ساتھ میزبانی کی۔

یہ اجلاس بھارت کی برکس صدارت کے موضوع ‘‘استحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر’’ کے عین مطابق منعقد کیے گئے۔ تمام برکس رکن ممالک کی جانب سے ان اجلاسوں میں نمایاں اور بامعنی شرکت کی گئی، جس میں اعلیٰ پالیسی سازوں، ماہرین، شعبہ جاتی ماہرین اور انسدادِ بدعنوانی، مالیاتی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے بدعنوانی سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اجلاس کا افتتاح  محکمۂ عملہ و تربیت کی سکریٹری محترمہ رچنا شاہ  نے کیا۔ انہوں نے تمام وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے بدعنوانی کے خلاف بھارت کی قطعی  برداشت نہ کرنے کی پالیسی  کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیانت داری اچھی حکمرانی، پائیدار ترقی اور عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مضبوط اداروں، ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی، شفافیت، جواب دہی اور مسلسل بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

سکریٹری نے کہا کہ  برکس انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ  مشترکہ فہم و ادراک پیدا کرنے کے پلیٹ فارم سے آگے بڑھ کر اب عملی اقدامات کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مؤثر بین الاقوامی تعاون کے لیے معلومات کا بروقت تبادلہ، متعلقہ حکام کے درمیان ابتدائی رابطہ کاری اور بااعتماد ماہرین کی سطح کے رابطہ ذرائع ضروری ہیں، جو باہمی قانونی معاونت اور حوالگی کے رسمی طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران برکس رکن ممالک نے بدعنوانی کے مقدمات میں مطلوب مفرور ملزمان کی تلاش اور ان کی حوالگی میں معاونت کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے  قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماہرین کے برکس نیٹ ورک  کے قیام سے متعلق بھارتی صدارت کی تجویز پر اہم پیش رفت کی۔ اراکین نے مجوزہ نیٹ ورک کے مقاصد، دائرۂ کار اور عملی طریقۂ کار پر تعمیری تبادلۂ خیال کیا اور اصولی طور پر اس اقدام سے اتفاق کیا۔ ساتھ ہی، ماہرین کی سطح پر ایک مخصوص پلیٹ فارم کے قیام سے متعلق غور و خوض جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ توقع ہے کہ یہ اقدام غیر رسمی تعاون کو فروغ دینے، مفرور ملزمان کا سراغ لگانے میں مدد فراہم کرنے اور حوالگی و بین الاقوامی تعاون کے موجودہ رسمی طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

اراکین نے بدعنوانی کے مقدمات میں مطلوب مفرور ملزمان کا سراغ لگانے اور حوالگی میں معاونت کے لیے غیر رسمی تعاون سے متعلق برکس ذخیرۂ معلومات (ریپوزٹری)  کا بھی خیرمقدم کیا۔ یہ ذخیرۂ معلومات ایک عملی اور ماہرین کے لیے مفید وسیلہ ثابت ہوگا، جس میں قومی طریقۂ کار اور غیر رسمی تعاون کے موجودہ ذرائع سے متعلق معلومات کو یکجا کیا جائے گا۔

برکس ماہرین کے اثاثوں کی بازیابی سے متعلق نیٹ ورک  کے دوسرے اجلاس میں متعلقہ اداروں کے درمیان براہِ راست تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد سے عملی اقدامات پر نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اراکین نے تحقیقات کے ابتدائی مراحل میں ماہرین کی سطح پر معلومات کے بروقت تبادلے کو آسان بنانے کے لیے معیاری فارمیٹس پر اتفاقِ رائے حاصل کیا، جو باہمی قانونی معاونت کے رسمی طریقۂ کار کے ساتھ معاونت فراہم کریں گے۔

ماہرین کے نیٹ ورک نے  رابطہ افسران اور ماہرین کی فہرست (ڈائریکٹری)  کا بھی خیرمقدم کیا، جو برکس ممالک کے متعلقہ حکام کے درمیان براہِ راست رابطے کو ممکن بنائے گی۔ اراکین نے مزید موضوعاتی ماہرین کو شامل کرنے اور مستقبل کی برکس صدارتوں کے ذریعے اس فہرست کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے کر اسے تازہ رکھنے کی حمایت کی، تاکہ یہ درست اور عملی طور پر مفید رہے۔

برکس رکن ممالک نے بین الاقوامی سطح پر اثاثوں کی بازیابی سے متعلق قومی تجربات، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور عملی مطالعات کا تبادلہ کیا۔ اس دوران ہونے والی گفتگو میں برکس ممالک کے تفتیش کاروں اور شعبہ جاتی ماہرین کے درمیان مسلسل معلومات کے اشتراک اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

‘‘اختراع اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے اخلاقی حکمرانی’’ کے موضوع پر منعقد ایک خصوصی ضمنی اجلاس نے رکن ممالک کو ٹیکنالوجی کے استعمال سے حکمرانی میں عملی اختراعات کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مکمل طور پر ڈیجیٹل خریداری کے نظام شفافیت، سراغ رسانی، منصفانہ مسابقت اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں، جبکہ اختیارات کے صوابدیدی استعمال اور بدعنوانی کے خطرات کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

شرکاء نے اس بات کو اجاگر کیا کہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور بڑے پیمانے پر اعداد و شمار کے تجزیے کی مدد سے نگرانی کے نظام کو واقعات کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے پیشگی احتیاطی نگرانی کی سمت منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے حقیقی وقت میں خطرات کی نشاندہی اور ہدف بند تصدیق کا نظام، مناسب ادارہ جاتی حفاظتی اقدامات اور انسانی نگرانی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں کھلے اعداد و شمار، ڈیجیٹل سماجی آڈٹ، شکایات کے ازالے کے پلیٹ فارم اور عوامی شمولیت پر مبنی نگرانی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا، جو شہریوں کو بااختیار بنانے، ادارہ جاتی جواب دہی کو مضبوط کرنے اور عوامی اعتماد میں اضافے میں مددگار ہیں۔

‘‘مالیاتی ٹیکنالوجی اور ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں سے پیدا ہونے والے نئے خطرات: بدعنوانی سے حاصل شدہ آمدنی کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کے لیے ان کے غلط استعمال سے نمٹنا’’ کے موضوع پر منعقد اجلاس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ اگرچہ مالیاتی ٹیکنالوجی اور ورچوئل ڈیجیٹل اثاثے مالی شمولیت اور اختراع کو فروغ دیتے ہیں، لیکن ان کی تیز رفتار نوعیت، سرحدوں سے ماورا استعمال اور غیر واضح ساخت کا فائدہ اٹھا کر غیر قانونی آمدنی کو چھپانے اور منتقل کرنے کے لیے بھی غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اراکین نے واضح اور خطرات پر مبنی ضابطہ جاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا، جو منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنائے، جبکہ نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں موجود جائز اختراعی امکانات کو بھی برقرار رکھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برکس تعاون کا مقصد ابھرتے ہوئے طریقۂ واردات اور نگرانی سے متعلق تجربات کا تبادلہ، مالیاتی انٹیلی جنس یونٹس کے درمیان تعاون اور سرحد پار رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانا ہونا چاہیے، تاکہ معلومات کا تبادلہ غیر قانونی ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کی رفتار کے مطابق کیا جا سکے۔

ان اجلاسوں نے بھارت کی برکس صدارت کے دوران حاصل ہونے والی پیش رفت کو مزید مستحکم کیا اور اثاثوں کی بازیابی، سرحد پار بدعنوانی کے خلاف کارروائی، مفرور ملزمان کا سراغ لگانے، ابھرتے ہوئے مالیاتی خطرات سے نمٹنے اور شفاف، جواب دہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے برکس رکن ممالک کے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔

بھارت کی صدارت میں برکس انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ کے اجلاسوں کے نتائج نے مستقبل کی برکس صدارتوں کے لیے ان اقدامات کو آگے بڑھانے کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ توقع ہے کہ یہ اقدامات بتدریج انسدادِ بدعنوانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کے لیے مؤثر، قابلِ اعتماد اور عملی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کریں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-08-05at4.27.51PMFFGX.jpeg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001M43E.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002EXX5.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0035WUV.jpg

******

ش ح۔ ا ک ۔ ر ب


(रिलीज़ आईडी: 2295107) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati