امور داخلہ کی وزارت
سیکورٹی کے بنیادی ڈھانچے اوربائیں بازو کی انتہاپسندی ( ایل ڈبلیو ای)سے متاثرہ علاقوں کی ترقی
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 3:08PM by PIB Delhi
ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کے مطابق ، پولیس اور نظم و نسق سے متعلق امور ریاستی حکومتوں کے دائرہ ٔ اختیار میں آتے ہیں ۔ تاہم، حکومت ہند (جی او آئی) بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ ریاستوں کی کوششوں میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ایل ڈبلیو ای کے مسئلے سے جامع طور پر نمٹنے کے لیے ، 2015 میں ’’ایل ڈبلیو ای سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی اور عملی منصوبہ‘‘ کی منظوری دی گئی تھی جس میں حکومت کے تمام شعبوں کے باہمی اشتراک پر مبنی حکمت عملی پر توجہ دی گئی ہے۔ اس میں ایک کثیر جہتی حکمت عملی کا تصور کیا گیا ہے، جس میں سلامتی سے متعلق اقدامات، ترقیاتی سرگرمیوں،مقامی برادریوں کے حقوق اور استحقاق وغیرہ کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس پالیسی کے پختہ نفاذ سے ملک سے بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خاتمے کی سمت میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
تقریباً چھ دہائیوں کے تشدد کے بعد، ملک بائیں بازو کی انتہا پسندی سے آزاد ہوا، جسے کبھی اس ملک کی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ یہ’’بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی اور عملی منصوبہ‘‘2015 اور مرکز اور ریاستی حکومتوں کی مربوط کوششوں کے پختہ نفاذ کے ساتھ حاصل کیا گیا ہے۔ فی الحال چھتیس گڑھ یا کسی دوسری ریاست کا کوئی ضلع ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ نہیں ہے۔ اس وقت، ملک کے 38 اضلاع (چھتیس گڑھ میں 13) کو’وراثتی اور ترجیحی‘اضلاع کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جو اب ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ نہیں ہیں، لیکن صورتحال کو مستحکم رکھنے اور ان کے دوبارہ سراٹھانے کے کسی بھی امکان کو روکنے کے لیے سلامتی اور ترقیاتی اقدامات کے سلسلے میں کچھ اور وقت کے لیے مسلسل تعاون کی ضرورت ہے ۔
قبائلی اور دور دراز کے علاقوں میں ترقی پر حکومت کی توجہ نے نکسل ازم کے بنیادی اسباب کو حل کیا ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ساتھ امن و امان کی بہتر صورتحال نے سرکاری/نجی سرمایہ کاری میں اضافے سمیت بہتر اقتصادی ترقی کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔
ترقی کے معاملے میں، حکومت ہند (جی او ایل) کی اہم اسکیموں کے علاوہ ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں میں سڑک نیٹ ورک کی توسیع، ٹیلی مواصلات رابطے کو بہتر بنانے، تعلیم، ہنر مندی کے فروغ اور مالی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، بالخصوص چھتیس گڑھ کے ان علاقوں میں جو ماضی میں بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثر رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ میں ترقیاتی شعبے میں کیے گئے ان اقدامات میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
- سڑک نیٹ ورک کی توسیع کے لیے ، 2 ایل ڈبلیو ای مخصوص اسکیموں یعنی روڈ ریکوائرمنٹ پلان (آر آر پی) اور ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں کے لیے روڈ کنیکٹوٹی پروجیکٹ (آر سی پی ایل ڈبلیو ای اے) کے تحت 4,314 کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، حکومت ہند نے ریاست چھتیس گڑھ کے ماضی میں ایل ڈبلیو ای متاثرہ علاقوں میں بارڈر روڈ آرگنائزیشن (بی آر او) کے ذریعے تعمیر کی جانے والی 127.08 کلومیٹر اہم سڑکوں اور 06 اہم پلوں کو بھی منظوری دی ہے۔
- ٹیلی مواصلاتی رابطہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے 1511 ٹاورز نصب کیے گئے ہیں۔
- ہنر مندی کے فروغ کے لیے 9 صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئی) اور 14 ہنر مندی کے فروغ کے مراکز (ایس ڈی سی) کھولے گئے ہیں۔
- قبائلی علاقوں میں معیاری تعلیم کے لیے 45 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) کو فعال بنایا گیا ہے۔
- مالیاتی شمولیت کے لیے محکمہ ڈاک نے بینکنگ خدمات کے ساتھ 1508 ڈاک خانے کھولے ہیں۔ اس کے علاوہ 413 بینک برانچ اور 269 اے ٹی ایم کھولے گئے ہیں۔
- چھتیس گڑھ کے بستر علاقے میں صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے، پردھان منتری سواستھیہ سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی) کے تحت قائم کردہ گورنمنٹ میڈیکل کالج ، جگدل پور میں 240 بستروں پر مشتمل سپر اسپیشلٹی اسپتال کو فعال کیا گیا ہے۔ اس سہولت سے صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو اب بستر کے لوگوں کے قریب لایا گیا ہے، جس سے مریضوں کو علاج کے لیے دور دراز کے شہروں کا سفر کرنے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
- مقامی لوگوں کے حقوق اور اختیارات کو یقینی بنانے کے لئے، مستفیدین میں 5,34,068 ملکیتی کاغذارت (4,81,432 انفرادی ملکیتی اور 52,636 اجتماعی ملکیت والے کاغذات)تقسیم کیے گئے ہیں۔ چھتیس گڑھ سمیت ماضی میں ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں میں مقامی خود مختاری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وزارت داخلہ پنچایتی راج کی وزارت کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ اقدامات ایل ڈبلیو ای سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں مقامی برادریوں کے حقوق کو مضبوط بنانے اور شراکت دارانہ حکمرانی کو بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزارت داخلہ نے ماضی میں چھتیس گڑھ کے سات ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع میں بھی ایک سروے کیا ہے تاکہ حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں، ترقیاتی اقدامات اور ایک آزاد ایجنسی کے ذریعے روزی روٹی کے ذرائع پیدا کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ سروے میں تعلیمی سطحوں، صحت کے اشاریے اور بنیادی خدمات جیسے پرائمری اسکولوں، آنگن واڑی مراکز اور ثانوی صحت کی سہولیات وغیرہ کی دستیابی کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ سروے سے حاصل ہونے والی معلوما ت مرکزی وزارت داخلہ اور ریاستی حکومت کو ترقیاتی خلا کو پر کرنے اور روزی روٹی کو یقینی بنانے کے مقصد کو پورا کرنے میں مدد کر رہی ہے۔
نوجوانوں اور مقامی برادریوں کو تعمیری انداز میں شامل کرنے کے لیے، حکومت ہند قبائلی نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام (ٹی وائی ای پی) کو نافذ کرتی ہے ،جس کے تحت چھتیس گڑھ سمیت ماضی میں ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں کے قبائلی نوجوانوں کو ملک کے مختلف حصوں میں ہفتہ وار نمائش کے دوروں پر لے جایا جاتا ہے۔ یہ پروگرام انہیں متنوع خطوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، اس طرح قومی یکجہتی کو فروغ دیتا ہے، ہندوستان کے مالامال ثقافتی تنوع کے بارے میں بیداری بڑھاتا ہے اور ملک کی صنعتی اور ترقیاتی ترقی کو نمائش فراہم کرتا ہے۔ 2014 سے چھتیس گڑھ سمیت ماضی میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں سے کل 37,655 قبائلی نوجوانوں نے ٹی وائی ای پی میں حصہ لیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ، شہری عملی نفاذ کے پروگرام کے تحت ، حکومت ہند چھتیس گڑھ سمیت ماضی میں ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں میں تعینات سی اے پی ایف کو اپنے آپریشنل علاقوں میں مختلف فلاحی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے فنڈز فراہم کرتی ہے، جن میں طبی کیمپ، کھیلوں کے مقابلے اور مقامی برادریوں میں ضروری اشیاء کی تقسیم شامل ہیں۔ اس سے سیکورٹی فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں بے حد مدد ملی ہے۔2014کے بعد سے، مجموعی طور پراس اسکیم کے تحت چھتیس گڑھ سمیت ماضی میں ایل ڈبلیو ای متاثرہ علاقوں میں تعینات سی اے پی ایف کو 221.88 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔
حکومت ہند سیکورٹی کے محاذ پر ماضی میں ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ ریاستی حکومتوں کو مرکزی مسلح پولیس دستے فراہم کرکے اور انڈیا ریزرو بٹالینوں کا قیام، ہیلی کاپٹر کی مدد، سیکورٹی کیمپ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، تربیت، ریاستی پولیس دستوں، آلات اور ہتھیاروں کی جدید کاری کے لیے فنڈز ، انٹیلی جنس کا اشتراک، فورٹیفائیڈ (قلعہ بند)پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر وغیرہ کے ذریعے مدد کرتی ہے۔
- 15-2014 سے ریاستوں کی صلاحیت سازی کے لیے سیکورٹی سے متعلقہ اخراجات (ایس آر ای) اسکیم کے تحت ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ ریاستوں کو پہلے کے آپریشنل اخراجات اور سیکورٹی فورسز کی تربیت کی ضروریات، ہتھیار ڈالنے والے ایل ڈبلیو ای کیڈر کی بحالی،ایل ڈبلیو ای کے تشدد میں شہید ہونے والے سیکورٹی فورس کے اہلکاروں/شہریوں کے خاندانوں کی مالی امداد وغیرہ پر 3805.04 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ ایس آر ای اسکیم کے تحت چھتیس گڑھ ریاست کو 1453.95 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
- ریاستوں کی جانب سے اپنی پولیس فورسز کوجدید اسلحوں سے مزین کرنے اور جدید بنانے کی کوششوں کو ’’پولیس فورسز کی جدید کاری‘‘ کی اسکیم کے تحت معاونت کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں کو ہتھیاروں، اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے آلات، مواصلات، تربیت، پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر، نقل و حرکت اور پولیس ہاؤسنگ اور دیگر پولیس انفراسٹرکچر وغیرہ کے لیے مرکزی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ ریاستوں کو ریاست کی اسپیشل فورسز، اسپیشل انٹیلی جنس برانچز (ایس آئی بی ایس)، ضلع پولیس اور فورٹیفائیڈ پولیس اسٹیشنز (ایف پی ایس) کی تعمیر کے لیے 1761 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے چھتیس گڑھ کو 451.2 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ سیکورٹی کے بنیادی ڈھانچے پر حکومت ہند کی توجہ اہم رہی ہے۔ اب تک 663 قلعہ بند پولیس اسٹیشن بنائے گئے ہیں، جن میں سے 135 چھتیس گڑھ میں بنائے گئے ہیں۔ ریاست چھتیس گڑھ کو ایس آئی ایس-2017-21 اور ایس آئی آیس 2022-26 کے تحت 110.34 کروڑ روپے (مرکزی حصہ کا 60فیصد) جاری کیا گیا ہے۔
- ایل ڈبلیو ای مینجمنٹ (اے سی اے ایل ڈبلیو ای ایم ایس) اسکیم کے لیے مرکزی ایجنسیوں کی مدد کے تحت، کیمپوں کے بنیادی ڈھانچے اور ایل ڈبلیو ای کے خاتمے کی سرگرمیوں کے لیے ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے۔15-2014 سے اس اسکیم کے ذریعے مرکزی ایجنسیوں کو 1303.68 کروڑ روپے فراہم کیےگئے ہیں۔
- ماضی میں ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع کی ترقی کو تحریک دینے کے لیے’خصوصی مرکزی امداد (ایس سی اے) اسکیم‘ کے تحت عوامی بنیادی ڈھانچے میں اہم خلا کو پر کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ مالی سال 18-2017 سے لے کر اب تک چھتیس گڑھ ریاست کو تقریباً 1715.83 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
- بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں (ایل ڈبلیو ای) کے مالی وسائل کو محدود کرنے اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ نواز) اور اس کے مالی معاونین کے درمیان روابط کا پتہ لگانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ مختلف ذرائع سے مرکزی ایجنسیوں کے تعاون سے ریاستی پولیس کی مربوط کارروائیوں نے ماضی میں بائیں بازو کے انتہا پسندوں کو فراہم کیے گئے فنڈز اور وسائل کو روکنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
ایل ڈبلیو ای کو مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے لیے ، حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں نے ہتھیار ڈالنے اور بحالی کی جامع پالیسیاں وضع کی ہیں ۔ حکومت ہند سیکورٹی سے متعلق اخراجات (ایس آر ای) اسکیم کےتحت 'سرنڈر-کم-ری ہیبلیٹیشن' (خود سپردگی اور بازآباد کاری) پالیسی کے ذریعے ریاستوں کی اس کوشش میں بھی مدد کرتی ہے ۔
بازآبادکاری پیکیج میں دیگر امور کے علاوہ، اعلیٰ درجے کے بائیں بازو کے انتہا پسند کیڈر کے لیے 5 لاکھ روپے اور دیگر کیڈروں کے لیے 2.5 لاکھ روپے کی فوری مالی امداد شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس اسکیم کے تحت ہتھیار اور گولہ بارود جمع کرانے پر ترغیبات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اس اسکیم میں ہتھیار ڈالنے والے افراد کو ان کی پسند کے مطابق کسی ہنر یا پیشہ ورانہ شعبے میں تربیت فراہم کرنے کا بھی انتظام ہے، جس کے لیے انہیں تین سال تک ماہانہ 10 ہزار روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ ریاستوں کو بھی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے والوں کی بازآبادکاری کے لیے مؤثر اور پرکشش پالیسیاں اختیار کریں۔
ایل ڈبلیو ای کے بعد کے منظر نامے میں ، حکومت ہند کی توجہ ہتھیار ڈالنے والے کارکنوں کی بازآبادکاری کی سہولت، سرکاری فلاحی پروگراموں کی تکمیل، مقامی خود مختاری کو مضبوط بنانے ، قبائلی شناخت اور ثقافت کے تحفظ اور دور دراز علاقوں میں حکمرانی اور عوامی خدمات کی رسائی کو بڑھانے پر مرکوز ہے ۔
اس کے علاوہ ، ایل ڈبلیو ای کے خاتمے کے بعد ، ایل ڈبلیو ای سے پاک ہو چکے علاقوں میں ایک تہائی حفاظتی کیمپوں کو جن سویدھا کیندروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ یہ مراکز روزگار کے فروغ ، ہنر مندی کے فروغ ، سرکاری اسکیموں تک رسائی ، ڈیجیٹل خدمات ، صحت کی دیکھ بھال اور مقامی برادریوں کو ثقافتی اور کھیلوں کی سہولیات سمیت متعدد خدمات فراہم کریں گے ۔ پہلا جن سویدھا کیندر چھتیس گڑھ کے بستر میں جگدل پور میں واقع نیتانار میں شہید ویر گنڈادھور سیوا ڈیرہ کیندر کے طور پر قائم کیا گیا ہے ۔
مجموعی طور پر ، حکومت ہند ملک کے ماضی میں بائیں بازوں کی انتہاپسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ اضلاع کی سلامتی اور تیز تر ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ۔
یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ جناب نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی ۔
******
UNO-1383
ش ح۔م ش۔ ن ع
(रिलीज़ आईडी: 2295077)
आगंतुक पटल : 7