وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
حکومت نے ملک بھر میں مویشیوں کی ترقی، دودھ کی پیداوار میں اضافے اور مویشیوں کی صحت کے فروغ کے لیے اقدامات کو مزیدمستحکم کیا ہے
آسام میں خنزیر پروری کے فروغ اور مویشی پروری کے شعبے میں کاروباری مواقع کوفروغ دیا جارہا ہے
دودھ کی پیداوار میں بہتری اور جانوروں کے چارے کی پائیدار دستیابی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں
جانوروں کی بیماریوں پر مؤثر کنٹرول اور ویٹرنری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا رہا ہے
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 1:59PM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر، جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے آج راجیہ سبھا کو بتایا کہ بھارتی حکومت ملک بھر میں مویشیوں کی ترقی، دودھ کی پیداوار میں اضافے، جانوروں کی صحت کے فروغ اور دیہی علاقوں میں پائیدار ذریعۂ معاش کو فروغ دینے کے لیے متعدد ہدفی اقدامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ قومی لائیو اسٹاک مشن (این ایل ایم)، اینیمل ہسبنڈری انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف)، راشٹریہ گوکل مشن (آر جی ایم) اور لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام (ایل ایچ ڈی سی پی) جیسے اہم فلیگ شپ پروگراموں کے ذریعے حکومت مویشی پروری کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سائنسی بنیاد پر افزائشِ نسل، بیماریوں کی روک تھام، چارے کے فروغ اور مویشی پروری سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے معاونت فراہم کر رہی ہے۔
وزیرموصوف نے بتایا کہ آسام میں قومی لائیو اسٹاک مشن (این ایل ایم) اور اینیمل ہسبنڈری انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) کے تحت کاروباری افراد کو جدید خنزیر افزائش فارم اور سور کے گوشت کے پراسیسنگ یونٹس(گوشت کوڈبہ بند کرنے کے یونٹس) قائم کرنے کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران قومی لائیو اسٹاک مشن ،انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 50 مویشی پروری پروجیکٹوں کے لیے، جن میں 23 خنزیر افزائش فارم بھی شامل ہیں، 4.98 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی۔ اسی طرح، اینیمل ہسبنڈری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) کے تحت آٹھ پروجیکٹوں کے لئے، جن میں ایک خنزیر افزائش فارم بھی شامل ہے، سود پر رعایت کی مد میں 1.44 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
مزید یہ کہ،25-2024 اور26-2025کے دوران مویشیوں کی نسل میں بہتری کے لیے راشٹریہ گوکل مشن (آر جی ایم) کے تحت 41.67 کروڑ روپے، لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام (ایل ایچ ڈی سی پی) کے تحت 124.29 کروڑ روپے اور مختلف مویشی ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے قومی لائیو اسٹاک مشن (این ایل ایم) کے تحت 7.74 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
حکومت نے خنزیر کی سائنسی افزائش کو فروغ دینے کے لیے آسام میں مصنوعی تخم ریزی اور نسل کی بہتری کو فروغ دینے کی غرض سے پگ سیمن کلیکشن اینڈ پروسیسنگ لیبارٹری کے قیام کے لیے 1.80 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔مذکورہ محکمہ نے سائنسی بنیاد پر خنزیر پروری کو فروغ دینے کے لیے ’’گڈ ہسبنڈری پریکٹسز اِن پگ فارمنگ‘‘ بھی شائع کی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں کلاسیکل سوائن فیور سے بچاؤ کے لیے 9,92,863 ویکسین مفت فراہم کی گئی ہیں، جس سے بیماریوں پر قابو پانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں مدد مل حاصل ہورہی ہے۔
دودھ کی پیداوار میں بہتری اور چارے کی پائیدار دستیابی کو مضبوط بنانا
وزیرموصوف نے بتایا کہ بھارت میں گائے اور بھینس کے فی جانور اوسط دودھ کی پیداوارجو15-2014میں 1,648 کلوگرام سالانہ فی 25-2024 میں بڑھ کر2,251 کلوگرام ہو گئی ہے، جبکہ اسی عرصے کے دوران ملک کی مجموعی دودھ کی پیداوار 70 فیصد اضافے کے ساتھ 146 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 248 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
چارے کی قلت سے نمٹنے کے لیے حکومت قومی لائیو اسٹاک مشن (این ایل ایم) کے تحت متعدد اقدامات پر عمل درآمد کر رہی ہے، جن میں معیاری چارہ بیج کی پیداوار اور خشک چارہ (ہئے)، سائیلیج اور ٹوٹل مکسڈ ریشن (ٹی ایم آر) سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی معاونت شامل ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 1,152.40 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں 1.6 لاکھ ٹن معیاری چارہ بیج تیار کیا گیا۔ قومی لائیو اسٹاک مشن–انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام (این ایل ایم-ای ڈی پی) کے تحت چارے سے متعلق 204 پروجیکٹوں کی منظوری دی گئی، جبکہ اینیمل ہسبنڈری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) کے تحت 3,602.47 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے جانوروں کے چارے کے 174 کارخانوں کو معاونت فراہم کی گئی۔
وزیرموصوف نے مزید بتایا کہ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) کی جانب سے چارے کی پیداوار کے لیے مخصوص 100 فوڈر پلس فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز قائم کی گئی ہیں، جبکہ آئی سی اے آر–انڈین گراس لینڈ اینڈ فوڈر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی سی اے آر–آئی جی ایف آر آئی) نے زیادہ پیداوار دینے والی چارہ اقسام تیار کی ہیں، ریاستوں کے لحاظ سے چارے کے فروغ سے متعلق پروجیکٹ تیار کیےہیں اور 10 لاکھ سے زائد کسانوں کو تربیت فراہم کی ہے۔ حکومت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شدید گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے بھی رہنما خطوط جاری کیے ہیں اور ایسی مقامی مویشی نسلوں کے فروغ کا سلسلہ جاری رکھا ہے جو زیادہ درجۂ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارت پشودھن کے تحت 1962 فارمرز ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل مشاورتی خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ کسان سائنسی بنیادپر متوازن خوراک کے طریقۂ کار کو اختیار کر سکیں۔
آندھرا پردیش سے متعلق ایک علیحدہ سوال کے جواب میں وزیرموصوف نے بتایا کہ قومی جانوروں کی بیماریوں پر کنٹرول پروگرام کے تحت ، جو لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام (ایل ایچ ڈی سی پی) کا حصہ ہے، حکومت منہ اور کھر کی بیماری (فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز–ایف ایم ڈی) اور بروسیلوسس کے خلاف ویکسی نیشن کے لیے سو فیصد مرکزی مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔
******
ش ح ۔ ش م ۔ م ا
Urdu No-1363
(रिलीज़ आईडी: 2294820)
आगंतुक पटल : 15