امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قدرتی آفات کے لیے مالی تعاون

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 3:29PM by PIB Delhi

قومی آفات مینجمنٹ پالیسی (این پی ڈی ایم) کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری، بشمول زمینی سطح پر امدادی رقم اور سامان کی تقسیم، متعلقہ ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ریاستی حکومتیں حکومتِ ہند کے منظور شدہ ضوابط اور اشیاء کے مطابق، اپنے پاس پہلے سے موجود اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) اور دیگر دستیاب وسائل سے قدرتی آفات کی صورت میں امدادی اقدامات کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کی کوششوں میں معاونت کرتی ہے اور ضروری لاجسٹک اور مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ 'شدید نوعیت' کی آفت کی صورت میں، طے شدہ طریقہ کار کے مطابق، بین الوزارتی مرکزی ٹیم (آئی ایم سی ٹی)کی سفارشات کی بنیاد پر نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (این ڈی آر ایف) سے اضافی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

یہ وزارت ملک میں کسی بھی آفت کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان کا ڈیٹا مرکزی سطح پر محفوظ نہیں رکھتی۔ تاہم، گزشتہ تین سالوں یعنی 2023-24 سے 2025-26 کے دوران ہماچل پردیش سمیت ملک میں مختلف موسمی و آبی آفات کے باعث ہونے والے نقصانات کی تفصیلات، جو ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے رپورٹ کی گئی ہیں، ضمیمہ- I کے مطابق ہیں۔

مزید برآں، گزشتہ تین برسوں یعنی 2023-24 سے 2025-26 کے دوران اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (این ڈی آر ایف) کے تحت فنڈز کی ریاست وار الاٹمنٹ (مختص رقم) اور اجراء کی تفصیلات ضمیمہ-  II کے مطابق ہیں۔

مرکزی حکومت نے موجودہ ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک کے تحت، ہماچل پردیش سمیت پہاڑی ریاستوں میں آفت کے خطرات کو کم کرنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں؛ جن کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں :-

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان (این ڈی ایم پی) اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط ان آفات کا احاطہ کرتے ہیں جیسے زمین کھسکنا، بادل پھٹنا، گلیشیئر جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب، جنگل کی آگ اور زلزلے، جن کا ہمالیائی خطے کو خاص طور پر خطرہ رہتا ہے۔

حکومت نے 15 ریاستوں بشمول ہماچل پردیش میں نفاذ کے لیے نیشنل لینڈ سلائیڈ رسک مٹیگیشن پروجیکٹ (این ایل آر ایم پی) کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد زمین کھسکنے کے خطرات سے آبادیوں اور ان کے اثاثوں کو محفوظ بنا کر جانی اور اقتصادی نقصانات کو کم کرنا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ہماچل پردیش کے لیے مرکزی حصہ 125.00 کروڑ روپے اور ریاستی حصہ 14.00 کروڑ روپے منظور کیا گیا ہے۔

گلیشیئر جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب (جی ایل او ایف) کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف ساختی اور غیر ساختی بچاؤ کے اقدامات اپنانے کی خاطر، اروناچل پردیش، ہماچل پردیش، سکم اور اتراکھنڈ کی ریاستوں کے لیے 'نیشنل گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ رسک مٹیگیشن پروگرام' (این جی آر ایم پی) کو منظوری دی گئی ہے۔

جنگل کی آگ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے 'مٹیگیشن اسکیم فار فاریسٹ فائر رسک مینجمنٹ' کی بھی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت ہماچل پردیش کے لیے مرکزی حصہ 7.34 کروڑ روپے اور ریاستی حصہ 0.82 کروڑ روپے منظور کیا گیا ہے۔

'پنچایتی راج اداروں میں کمیونٹی پر مبنی آفات کے خطرات کو کم کرنے کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے قومی منصوبے' کے تحت، ہماچل پردیش کے لیے کل 14.84 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، تاکہ نچلی سطح سے اوپر کی طرف بڑھنے والے طریقہ کار کے ذریعے آفات کے خطرات کو کم کرنے (ڈی آر آر) کے طریقوں کو پنچایتی راج کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کیا جا سکے۔

کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) پر مبنی ایک مربوط انتباہی نظام (سچیت) کو بھی فعال کر دیا گیا ہے؛ اس نظام کے تحت، انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی)، سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی)، جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی)، انڈین نیشنل سینٹر فار اوشین انفارمیشن سروسز (آئی این سی او آئی ایس)، ڈیفنس جیو انفرمیٹکس ریسرچ اسٹیبلشمنٹ (ڈی جی آر ای)، اور فاریسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) کی طرف سے جاری کردہ انتباہات کو یکجا کر کے جغرافیائی طور پر ہدف بند علاقوں کے لیے قبل از وقت انتباہات جاری کیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، یہ 'آپدا مِترا' اور 'یوا آپدا مِترا اسکیم' جیسے اقدامات کے ذریعے کثیر آفت قبل از وقت انتباہی نظام، آفات سے محفوظ رہنے والے بنیادی ڈھانچے، عوامی تیاری اور صلاحیتوں میں اضافے کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔

ضمیمہ

یہ جانکاری امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیہ نند رائے کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔

*****

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:1337


(रिलीज़ आईडी: 2294610) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Assamese