امور داخلہ کی وزارت
مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اقتصادی ترقی
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 3:32PM by PIB Delhi
حکومت نے مربوط اور ہدف بند اقدامات کے سلسلے کے ذریعے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (یوٹیز) کی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مستقل کوششیں کی ہیں، جن میں عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کا فروغ، سڑک، سمندری اور فضائی رابطوں میں بہتری، ڈیجیٹل رابطوں میں اضافہ، سیاحت کا فروغ، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی مضبوطی، صنعتی ترقی، شہری خدمات میں بہتری، انتظامی اصلاحات لانا، کاروبار کرنے میں آسانی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کی تفصیلات ضمیمہ – I میں دی گئی ہیں۔
حکومت نے مختلف اسکیموں، جیسے کہ 'پی ایم سوریا گھر: مفت بجلی یوجنا' اور 'پی ایم-کسم' وغیرہ کے مؤثر نفاذ، بڑے پیمانے پر یوٹیلیٹی سولر پروجیکٹس کی تیاری، چھتوں پر سولر پینل کی تنصیبات میں اضافے، گھریلو سطح پر شمسی توانائی کو اپنانے کی حوصلہ افزائی اور دیگر اقدامات کے ذریعے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں قابلِ تجدید اور ماحول دوست توانائی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی تفصیلات ضمیمہ- II میں دی گئی ہیں۔
ضمیمہ - I
(i) دہلی میں ایم آئی سی ای (میٹنگز، انسینٹیوز، کانفرنسز اور ایگزیبیٹرس) کے لیے 'یشوبھومی کنونشن سینٹر' اور 'بھارت منڈپم' جیسے تاریخی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
(ii) جموں و کشمیر میں تزویراتی بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبے مکمل کر لیے گئے ہیں، جیسے کہ چنانی-ناشری ٹنل، زیڈ-مور ٹنل، اور ادھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریل لنک بشمول شاندار چناب ریل برج۔
(iii) سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو وسیع کیا گیا ہے، جیسے کہ دہلی میں اربن ایکسٹینشن روڈ- II اور دوارکا ایکسپریس وے کی تیاری، دہلی-دہرادون اور دہلی-میرٹھ ایکسپریس ویز؛ اور لداخ وغیرہ میں گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے نئے پلوں کی تعمیر، جنہوں نے علاقائی رابطے کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔
(iv) لداخ میں مشکل ترین علاقوں تک آمد و رفت اور طبی ہنگامی حالات کو یقینی بنانے کے لیے ہیلی پیڈز اور ہینگرز کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے، تاکہ سردیوں کے مہینوں میں بھی رابطہ برقرار رہے۔ لکشدیپ میں روزانہ کی طے شدہ پروازوں اور سی پلین کی کامیاب آزمائشی لینڈنگ کے ساتھ فضائی رابطے کو بہتر بنایا گیا ہے۔ انڈمان اور نکوبار جزائر (اے اینڈ این آئی) کے سری وجئے پورم اور دمن کے نمو ہوائی اڈے پر نئے ایئرپورٹ ٹرمینلز تعمیر کیے گئے ہیں۔
(v) مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ڈیجیٹل رابطوں کو نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے، خاص طور پر انڈمان اور نکوبار جزائر اور لکشدیپ جیسے جزائری علاقوں میں۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے انڈمان اور نکوبار میں 'چنئی انڈمان نکوبار آئی لینڈز' آپٹیکل فائبر کیبل (او ایف سی) پروجیکٹ اور 'کوچی لکشدیپ آئی لینڈ' (کے ایل آئی) سب میرین او ایف سی پروجیکٹ نے جزائر اور اصل سرِ زمین کے درمیان ڈیجیٹل رابطے میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے، جس سے آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن (دور دراز سے طبی علاج)، ای-گورننس، ڈیجیٹل بینکنگ اور ای-کامرس کی سہولیات ممکن ہو گئی ہیں۔
ان اقدامات کی بدولت ڈیٹا کے اخراجات میں کمی، موبائل اور انٹرنیٹ/براڈ بینڈ کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے، اور جزائری مرکزِ زیرِ انتظام علاقوں میں انٹرنیٹ ٹیلی ڈینسٹی اور اسپیڈز میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انڈمان اور نکوبار جزائر میں بینڈوتھ 4.12 جی بی پی ایس سے بڑھ کر 243 جی بی پی ایس اور لکشدیپ میں 1.7 جی بی پی ایس سے بڑھ کر 200 جی بی پی ایس ہو گئی ہے۔
(vi) سیاحت کو معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پر اس کے کثیر جہتی اثرات کی وجہ سے ایک اہم شعبے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جس کی بدولت زندگی کے معیار اور طرزِ زندگی میں بہتری آئی ہے۔ حکومت مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو سیاحت کے عالمی مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لیے 'سودیش درشن' اور 'پرساد' جیسی اسکیموں سے مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ انڈمان اور نکوبار جزائر میں 04 ایکو ٹورزم کے منصوبوں کی تیاری کے لیے لیٹر آف ایوارڈ جاری کر دیا گیا ہے۔ لکشدیپ کے بنگارم میں 50 خیمے اور تھیناکارا میں 100 خیمے فعال ہو چکے ہیں؛ اور دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں عالمی معیار کے ساحلی مقامات، بہترین ریور فرونٹس اور ٹینٹ سٹیز تیار کیے گئے ہیں۔
(vii) مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے اپنے منفرد جغرافیے اور صلاحیتوں کے مطابق مختلف مخصوص سرگرمیوں کی نشان دہی کی ہے، اور سیاحت کی مختلف روایتی اور تجرباتی شکلوں کو فروغ دینے کے لیے سرگرم اقدامات کیے ہیں، جیسے جموں و کشمیر میں سرمائی سیاحت، لداخ میں فلکیاتی سیاحت یا ایسٹرو ٹورازم (ہانلے میں ملک کا پہلا 'ڈارک اسکائی ریزرو' قائم کیا گیا ہے)، لکشدیپ میں کروز ٹورازم، پڈوچیری میں روحانی سیاحت، انڈمان و نکوبار اور لکشدیپ جیسے جزائری علاقوں میں ایکو ٹورازم، اور چنڈی گڑھ میں سیاحتی سرکٹس کی تیاری وغیرہ۔ ان تمام کوششوں کی بدولت مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔
(viii) مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے برادری پر مبنی سیاحت کو فروغ دینے اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اپنی اپنی ہوم اسٹے پالیسیاں بھی نوٹیفائی کی ہیں۔ مزید برآں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں مقامی آرٹ اور روایتی دستکاریوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ جہاں ہندوستان کے 12 'بلو فلیگ' سند یافتہ ساحلوں میں سے 5 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں واقع ہیں، وہیں مزید ساحلوں کی بلو فلیگ سرٹیفیکیشن کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات تیار کی جا رہی ہیں۔
(ix) صحت عامہ کے شعبے کو بھی کافی فروغ ملا ہے۔ ایمس جموں کو فعال کر دیا گیا ہے۔ لکشدیپ کے تمام آباد جزائر میں اب ٹیلی میڈیسن کی خدمات دستیاب ہیں۔ سلواسا میں 'نامو میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ'، سلواسا ہی میں 450 بستروں والے 'نامو ہسپتال' اور دمن میں 345 بستروں والے 'نامو ہسپتال' کی طبی سہولیات کو نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے۔
(x) مرکز کے زیرِ انتظام علاقے صاف ستھرے اور سستے ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے شمسی اور پن بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
(xi) مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں صنعتی ترقی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبوں کو فروغ دینے کے لیے 28,400 کروڑ روپے کی لاگت سے 'نیو سینٹرل سیکٹر اسکیم فار انڈسٹریل ڈویلپمنٹ' شروع کی گئی ہے۔ جامع سرمایہ کاری مراعات اور سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم نافذ کیے گئے ہیں، جس سے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئی ہے۔ صنعتوں، زمین کی الاٹمنٹ، اسٹارٹ اپس، لاجسٹکس، اور ایم ایس ایم ایز کے فروغ وغیرہ سے متعلق پالیسیاں مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی طرف سے نافذ کی گئی ہیں، جن کا مقصد مناسب مراعات، سبسڈیز اور دیگر اقدامات کے ذریعے کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں کاروبار کو ایک بڑا فروغ ملا ہے اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے معاشی ترقی اور خوشحالی کے محرک بن کر ابھر رہے ہیں۔
(xii) اوپر بیان کیے گئے اقدامات کے علاوہ، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ لائسنسوں کے اجراء اور کاروبار سے متعلق دیگر متبادل مہر و دستخط کے طریقہ کار کو آسان اور منظم بنایا گیا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف حکومت کی صفر رواداری کی پالیسی کے عین مطابق، کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے آن لائن سروس ڈیلیوری، ڈیجیٹل پروسیسنگ اور کلیئرنس کے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انٹرپرینیورشپ، ایم ایس ایم ایز، ماہی گیری، سیاحت اور روزگار کی دیگر سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے مختلف اسکیموں کے تحت مالی مراعات فراہم کی گئی ہیں۔ سروس ڈیلیوری کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ای-گورننس کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے اپنی منفرد طاقت اور وسائل کی بنیاد پر معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے مخصوص ترجیحی معاشی شعبوں کی بھی نشان دہی کی ہے، جیسے کہ بحری معیشت کا فروغ، اور علاقائی نالج/آئی ٹی/میڈیکل ہب میں تبدیل ہونا وغیرہ
(xiii) گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے کیے گئے وسیع تر قانون سازی اور ریگولیٹری اقدامات کے حصے کے طور پر، معاشی ترقی کو آسان بنانے کے لیے خاص طور پر اہم 21 اقدامات پر کام کیا گیا، جن میں 19 ضوابط، بلز یا قوانین کی توسیع اور قانونی اختیارات کی دو وفودگی شامل ہیں۔ یہ ٹیکسیشن، لیبر ریگولیشن، اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن، زرعی مارکیٹنگ، معدنی ترقی، ماہی گیری، ایکسائز، پبلک سروس ڈیلیوری اور کاروباری سہولت کاری سے متعلق قوانین پر مشتمل ہیں۔ ان اقدامات نے ٹیکس اور ریگولیٹری ڈھانچے کو معقول بنا کر، طریقہ کار میں تاخیر اور معمولی نوعیت کی مجرمانہ تعمیل کو کم کر کے، کاروبار سے متعلق خدمات کی وقت پر فراہمی کو یقینی بنا کر، تجارت اور جائداد کے لین دین کو آسان بنا کر، اور لیبر اور شعبہ جاتی ضوابط کو جدید بنا کر مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں معاشی ترقی کے سازگار ماحول کو مضبوط کیا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات تعمیل کے اخراجات کو کم کرتے ہیں، ریگولیٹری یقین دہانی کو بہتر بناتے ہیں، سرمایہ کاری اور کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، روزگار پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں اور مقامی معاشی وسائل کے زیادہ موثر استعمال کو ممکن بناتے ہیں۔ مزید برآں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے ڈی ریگولیشن اور دفعات کو غیر مجرمانہ بنانے کا دوطرفہ طریقہ کار بھی اپنایا گیا ہے۔
(xiv) روزگار کی فراہمی اور مہارتوں کا فروغ حکومت کے لیے مسلسل ایک ترجیحی شعبہ رہا ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع یقینی بنانے کی خاطر مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں مختلف اسکیموں، جیسے کہ 'پی ایم ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام'، اسٹارٹ اپ انڈیا، 'پی ایم کوشل وکاس یوجنا'، 'پی ایم وشوکرما'، 'پی ایم سواندھی' اور 'پی ایم مُدرا یوجنا' وغیرہ کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
ضمیمہ- II
(i) مرکز کے زیرِ انتظام علاقے 'پی ایم سوریا گھر: مفت بجلی یوجنا' کے تحت رہائشی اور سرکاری عمارتوں میں چھتوں پر سولر پلانٹس لگانے کے لیے مرکزی سبسڈی کے علاوہ اپنی طرف سے بھی اضافی سبسڈی فراہم کر رہے ہیں۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں گرڈ سے منسلک روف ٹاپ سولر پلانٹس کو فروغ دیا جا رہا ہے اور انہیں نصب کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، صاف ستھری اور ماحول دوست توانائی کو بڑھاوا دینے کے لیے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
(ii) مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں صاف ستھرے اور پائیدار عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے ای-موبلٹی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، مختلف اقدامات جیسے کہ 'فیم' اور 'پی ایم ای-ڈرائیو' وغیرہ کے تحت الیکٹرک بسوں کی منظوری دی گئی ہے۔
(iii) مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے الیکٹرک گاڑیوں، قابلِ تجدید/شمسی توانائی وغیرہ سے متعلق پالیسیاں نوٹیفائی کی ہیں، جیسے کہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو (ڈی این ایچ اینڈ ڈی ڈی) کی 'رینیوایبل انرجی پالیسی، 2024' اور 'دہلی سولر انرجی پالیسی، 2023'۔ ان پالیسیوں کے اندر اور شمسی توانائی کی پیداوار کے لیے سرکاری اسکیموں کے تحت مراعات فراہم کی گئی ہیں۔
(iv) مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں شمسی توانائی کی تنصیب کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے، جس میں خاص توجہ سرکاری عمارتوں کو سولرائز کرنے پر دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، چنڈی گڑھ اور دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو نے تمام موزوں سرکاری رہائشی اور دفتری عمارتوں پر 100فیصد روف ٹاپ سولر کوریج حاصل کر لی ہے۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے اس سلسلے میں کئی دیگر اقدامات بھی کیے ہیں، جیسے جموں و کشمیر میں قبائلی آبادی کے درمیان دھویں سے پاک بائیو ماس چولہے تقسیم کرنا۔
(v) توانائی کے مذکورہ بالا اقدامات کے نتیجے میں مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے عوام کو مختلف فوائد حاصل ہوئے ہیں، جیسے کہ صاف ستھری اور قابلِ اعتماد بجلی کی دستیابی میں اضافہ؛ روف ٹاپ سولر پاور سسٹم اپنانے کے ذریعے گھریلو صارفین اور عوامی اداروں کے بجلی کے اخراجات میں کمی؛ روایتی حجری ایندھن پر انحصار میں کمی اور توانائی کے تحفظ میں بہتری؛ اور قابلِ تجدید توانائی کے نظاموں کی تنصیب، آپریشن اور دیکھ بھال وغیرہ میں مقامی روزگار کے مواقع پیدا ہونا۔ ان تمام چیزوں نے جہاں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار پیدا کیا ہے، وہیں گھروں، اسکولوں، صحت کی دیکھ بھال کے اداروں اور کمیونٹی کی سہولیات کے لیے بجلی تک رسائی کو بہتر بنا کر زندگی کے معیار کو بلند کیا ہے۔
یہ جانکاری امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیہ نند رائے کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:1338
(रिलीज़ आईडी: 2294589)
आगंतुक पटल : 2