پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پندرہویں مالیاتی کمیشن کی مشروط گرانٹس کا استعمال

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 4:16PM by PIB Delhi

محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی، وزارت جل شکتی پندرہویں مالیاتی کمیشن کی مشروط گرانٹس کے نفاذ کے لیے نوڈل محکمہ ہے۔ محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق پندرہویں مالیاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ دو مراحل میں پیش کی۔ پہلی رپورٹ مالی سال 2020-21کے لیے عبوری رپورٹ تھی جبکہ حتمی رپورٹ 2021-26 کی مدت کے لیے پیش کی گئی تھی۔پندرہویں مالیاتی کمیشن (ایف سی -XV) نے2021-22 سے 2025-26 کی مدت کے لیے28 ریاستوں میں دیہی مقامی اداروں (آر ایل بی ایس) کو2.36 لاکھ کروڑ روپے کی گرانٹ کی سفارش کی، جس میں آندھرا پردیش بھی شامل ہے۔ اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں پنچایتوں کا قیام ضروری نہیں ہے (پانچویں اور چھٹی شیڈول کے علاقے اور خارج شدہ علاقے) ۔اس رقم میں سے60 فیصد یعنی 1.42 لاکھ کروڑ روپےمشروط گرانٹ کے طور پر مختص کیے گئے ہیں، جنہیں درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا ہے:(1) پینے کے پانی کی فراہمی، بارش کے پانی کو محفوظ کرنا اور پانی کی ری سائیکلنگ؛ اور(2) صفائی ستھرائی اور کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) حیثیت کو برقرار رکھنا۔

دونوں شعبوں کے لیے مساوی طور پر0.71 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔تمام ریاستوں کو مختص کی گئی مشروط گرانٹ کا اجرادیہی مقامی اداروں (آر ایل بی ایس) کے لیے پندرہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے نفاذ سے متعلق عملی رہنما اصولوں میں درج مقررہ معیار کی تکمیل پر منحصر ہے۔محکمہ ریاستوں کو مزید فنڈز جاری کرتا ہے، جس کے بعد ریاستی حکومتیں یہ رقم دیہی مقامی اداروں (آر ایل بی ایس) اور خارج شدہ علاقوں کو منتقل کرتی ہیں۔ مشروط گرانٹ کو صرف پانی اور صفائی ستھرائی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جانا ہے، جیسا کہ مشروط گرانٹ کے استعمال سے متعلق رہنما کتابچہ میں درج ہے۔

پندرہویں مالیاتی کمیشن کی عبوری رپورٹ (2020-21) کی بنیاد پر آندھرا پردیش ریاست کو سفارش کردہ مکمل رقم یعنی1,312.50 کروڑ روپے جاری کر دی گئی ہے۔مزید برآں، پندرہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے مطابق، مشروط گرانٹ کی سال وار اور ریاست وار تقسیم کی تفصیلات ضمیمہ میں شامل کی گئی ہیں۔

آندھرا پردیش ریاست کے لیے پندرہویں مالیاتی کمیشن کی مشروط گرانٹ کی مختص اور جاری کردہ رقم کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

سال

مختص(کروڑ روپے)

ریلیز(کروڑروپے)

21-2020

1312.50

1312.50

22-2021

1,163.40

1,163.40

2022-23

1,206.00

1,188.91

2023-24

1,218.60

1,198.55

2024-25

1,291.20

1,267.98

2025-26

1,259.40

1,232.29

پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت مختص، جاری اور استعمال کی گئی مشروط گرانٹس کی ضلع وار، منڈل وار اور گرام پنچایت وار تفصیلات محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے پاس مرکزی سطح پر محفوظ نہیں ہیں۔ اسی طرح ریاست میں پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی/ٹھوس کچرے کے انتظام کے شعبوں کے تحت کیے گئے اخراجات کی جزو وار تفصیلات، نیز ضلع وار، منڈل وار اور گرام پنچایت وار شروع کیے گئے اور مکمل کیے گئے کاموں کی تفصیلات بھی محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے پاس مرکزی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔

ریاست میں مشروط گرانٹس کے تحت ضلع وار غیر استعمال شدہ فنڈز، فنڈز کے استعمال میں تاخیر یا عمل درآمد سے متعلق خلا کی معلومات بھی محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے پاس مرکزی سطح پر برقرار نہیں رکھی جاتی ہیں۔

پندرہویں مالیاتی کمیشن کی مدت31 مارچ 2026 کو مکمل ہو چکی ہے، اس لیے ریاستوں کی زیر التوا رقم پندرہویں مالیاتی کمیشن کے دور کے اختتام کے ساتھ ہی ختم ہو گئی ہے۔ محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی نےسولہویں مالیاتی کمیشن کے تحت دیہی مقامی اداروں/پنچایتی راج اداروں ( پی آر آئی ایس) کو پانی اور صفائی ستھرائی کے لیے دی جانے والی مشروط گرانٹ کے استعمال سے متعلق ریاستوں کو تکنیکی مشورے اور رہنمائی جاری کی ہے۔

ضمیمہ

 

سال 2020-21 سے 2025-26 تک پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت مختص کی گئی مشروط گرانٹس کی تفصیلات

 (رقم کروڑ روپے میں)

نمبر شمار

ریاست

21-2020

22-2021

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26

1

آندھرا پردیش

1312.5

1,163.40

1206

1218.6

1291.2

1259.4

2

اروناچل پردیش

115.5

102

106.2

107.4

113.4

111

3

آسام

802

711.6

736.8

744.6

789

769.8

4

بہار

2509

2,225.40

2305.2

2330.4

2468.4

2407.2

5

چھتیس گڑھ

727

645

668.4

675

715.2

697.8

6

گوا

37.5

33

34.2

34.8

37.2

36.6

7

گجرات

1597.5

1,417.20

1467.6

1483.8

1571.4

1533

8

ہریانہ

632

561

580.8

587.4

621.6

606.6

9

ہماچل پردیش

214.5

190.2

197.4

199.2

211.2

205.8

10

جھارکھنڈ

844.5

749.4

775.8

784.2

831

810.6

11

کرناٹک

1608.5

1,426.20

1477.8

1494

1582.2

1543.2

12

کیرالہ

814

721.8

747.6

756

800.4

780.6

13

مدھیہ پردیش

1992

1,766.40

1830

1849.8

1959

1911

14

مہاراشٹر

2913.5

2,584.20

2676.6

2706

2865.6

2795.4

15

منی پور

88.5

78.6

81

82.2

87

85.2

16

میگھالیہ

91

81

84

84.6

89.4

87.6

17

میزورم

46.5

41.4

42.6

43.2

45.6

44.4

18

ناگالینڈ

62.5

55.2

57.6

58.2

61.2

59.4

19

اوڈیشہ

1129

1,001.40

1036.8

1048.2

1110.6

1083

20

پنجاب

694

615.6

637.2

644.4

682.8

666

21

راجستھان

1931

1,712.40

1774.2

1793.4

1899.6

1852.2

22

سکم

21

18.6

19.8

19.8

21

19.8

23

تمل ناڈو

1803.5

1,599.60

1656.6

1674.6

1774.2

1730.4

24

تلنگانہ

923.5

819

849

858

908.4

886.2

25

تری پورہ

95.5

84.6

88.2

88.8

94.2

91.8

26

اتر پردیش

4876

4,324.80

4479.6

4528.2

4796.4

4678.2

27

اتراکھنڈ

287

255

264

267

282.6

274.8

28

مغربی بنگال

2206

1,956.60

2026.8

2049

2170.2

2116.8

 

کل

30375

26,940.60

27907.8

28210.8

29880

29143.8

یہ معلومات مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے 4 اگست 2026 کو ایوان زیریں- لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی ۔

*****

ش ح- ظ الف– ن ع

UR No. 1307


(रिलीज़ आईडी: 2294472) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , हिन्दी