امور داخلہ کی وزارت
منشیات اسمگلروں کے خلاف قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 3:25PM by PIB Delhi
منشیات کی غیر قانونی تجارت اور منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) متعلقہ ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کی پولیس کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں اور احتیاطی اقدامات مسلسل انجام دے رہا ہے۔منشیات اسمگلروں کی حوصلہ شکنی کے لیے "قطعی برداشت نہ کرنے " کی پالیسی کے تحت مختلف سخت اقدامات کیے گئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
- غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات کے استعمال کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے نارکوٹکس کنٹرول ویژن دستاویز (2026-2029) کو 26 جون 2026 کو جاری کیا گیا۔ اس دستاویز میں منشیات کی روک تھام کے لیے "حکومت کی مکمل شمولیت" اور "سماج کی مکمل شمولیت" کے طریقۂ کار کے تحت مختلف شراکت داروں کے لیے واضح ترجیحات اور مقررہ مدت میں حاصل کیے جانے والے اہداف کے ساتھ تین سالہ لائحہ عمل وضع کیا گیا ہے۔
- II. نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)، منشیات قانون نافذ کرنے والے ادارے (ڈی ایل ای اے ایس) اور ریاستی پولیس نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ (این ڈی پی ایس )، 1985 کے تحت نفاذی کارروائیوں میں فعال طور پر مصروف ہیں۔ ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں منشیات کی ضبطی، مقدمات کا اندراج، گرفتاریوں، ضبط شدہ منشیات کو تلف کرنے، غیر قانونی کاشت کو تباہ کرنے، مالیاتی تحقیقات اور نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام ایکٹ 1988 کے تحت احتیاطی حراست کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
- بھارت میں منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات کے استعمال پر قابو پانے کے لیے مرکزی اور ریاستی منشیات قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنانے کے لیے چار سطحی نارکو کوآرڈینیشن سینٹر ( این سی او آر ڈی ) قائم کیا گیا ہے۔
- نارکوٹکس کنٹرول بیورو ( این سی بی ) کی جانب سے این سی او آر ڈی پورٹل تیار کیا گیا ہے۔ یہ منشیات سے متعلق قانون کے نفاذ کے حوالے سے تمام معلومات فراہم کرنے والا ایک جامع پورٹل ہے۔ اس پورٹل پر این سی او آر ڈی، تربیت اور صلاحیت سازی، نارکو جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا، قانونی معلومات، ریاستوں کی جانب سے کیے گئے مثالی اقدامات جیسے موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔
- اہم اور بڑے منشیات سے متعلق مقدمات، جس میں نارکو دہشت گردی کے معاملات بھی شامل ہیں، ان کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی ( جے سی سی ) قائم کی گئی ہے، جس کے چیئرمین ڈائریکٹر جنرل، نارکوٹکس کنٹرول بیورو ہیں۔ اب تک مرکزی سطح پر 11 جے سی سی اجلاس اور ریاستی سطح پر 75 جے سی سی اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔
- ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام خطوں کے تمام ڈائریکٹر جنرل آف پولیس(ڈی جی پی ) سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ بیٹ کانسٹیبلز، فیلڈ افسران اور تھانوں کے سربراہان ( ایس ایچ او ) کو ریڈ فلیگ انڈیکیٹرز اور مصنوعی منشیات کی خفیہ تیاری سے متعلق ابھرتے ہوئے خطرات، بالخصوص میفیڈرون اور ایمفیٹامین نوعیت کے محرکات کے بارے میں بیداری اور تربیت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
- نارکوٹکس کنٹرول بیورو منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مشترکہ کارروائیاں انجام دینے کی غرض سے ایکسائز، بارڈر سیکیورٹی فورس ( بی ایس ایف ) ، ریاستی اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس ( اے این ٹی ایف ) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ اور تال میل قائم رکھتا ہے۔
- منظم مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور انہیں کمزور کرنے کے لیے این سی او آر ڈی ، جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی اور علاقائی کانفرنسوں جیسے پلیٹ فارموں پر مالیاتی تحقیقات اور پی آئی ٹی این ڈی پی ایس ایکٹ کے مؤثر نفاذ پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔
- مالیاتی تحقیقات سے متعلق جامع رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں، جن کا مقصد جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منظم شناخت، سراغ رسانی اور ضبطی کے عمل کو آسان بنانا ہے۔
- منشیات سے متعلق قانون نافذ کرنے والے افسران اور اداروں کی صلاحیت سازی کے لیے نارکوٹکس کنٹرول بیورو ورکشاپس، سیمینارز اور تربیتی پروگرام منعقد کرتا ہے۔ این سی بی، امریکہ کے ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے تعاون سے خفیہ منشیات تیار کرنے والی لیبارٹریوں کی تحقیقات اور منشیات بنانے میں استعمال ہونے والے ابتدائ کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال سے متعلق خصوصی تربیتی پروگرام باقاعدگی سے منعقد کرتا ہے، جن میں مرکزی اداروں اور ریاستی منشیات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران شرکت کرتے ہیں۔
- بھارت منشیات سے متعلق معاملات پر میانمار، نیپال، تھائی لینڈ، سری لنکا، انڈونیشیا، سنگاپور اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل سطح کے مذاکرات اور دو طرفہ بات چیت باقاعدگی سے کرتا ہے۔
- نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے منشیات پر قابو پانے کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 27 ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاہدے اور 19 ممالک کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
- ایک قومی نارکوٹکس ہیلپ لائن "مادک-پدارتھ نشیدھ آسوچنا کیندر ( ایم اے این اے ایس ) قائم کیا گیا ہے، جو 24 گھنٹے مفت قومی نارکوٹکس کال سینٹر کے طور پر کام کرتاہے۔ اس کو ایک مربوط نظام کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جہاں شہری کال (1933)، ای میل، ویب پورٹل اور اُمنگ موبائل ایپ سمیت مختلف ذرائع سے منشیات سے متعلق مسائل درج کرا سکتے ہیں، ان کا اندراج کروا سکتے ہیں اور مسائل کے حل سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
- ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں "منشیات سے پاک کیمپس مشن" شروع کیا گیا ہے، جس میں نوجوانوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور انہیں منشیات سے پاک کیمپس کی اہمیت کے بارے میں بیدار کیا جا رہا ہےاور حساس بنایا جا رہا ہے۔
شعبہ جاتی خصوصی اقدامات کے طور پر، حکومت نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے ذریعے آن لائن پلیٹ فارمز، خفیہ مواصلاتی ایپلی کیشنز اور ڈارک نیٹ کے ذریعے سرگرم منشیات اسمگلنگ نیٹ ورکس کی شناخت اور خاتمے کے لیے خفیہ معلومات پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے مربوط طریقۂ کار اختیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات درج ذیل ہیں:۔
- ڈارک نیٹ کے ذریعے ہونے والی منشیات اسمگلنگ اور کرپٹو کرنسی پر مبنی لین دین کی تحقیقات کے لیے سائبر ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی منشیات اسمگلنگ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
- قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تکنیکی مہارت میں اضافے کے لیے نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے امریکہ کے ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن ( یو ایس – ڈی ای اے ) اور راشٹریہ رکشا یونیورسٹی، گاندھی نگر کے تعاون سے این سی بی اور دیگر منشیات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کے لیے متعدد صلاحیت سازی پروگرام منعقد کیے ہیں۔ ان پروگراموں میں سائبر ٹیکنالوجی سے متعلق منشیات کی تحقیقات، ڈیجیٹل فرانزک، ڈارک نیٹ کی نگرانی، کرپٹو کرنسی سے متعلق تحقیقات اور منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے موضوعات شامل ہیں۔
اسکے علاوہ ، نارکوٹکس کنٹرول ویژن دستاویز( 2026-2029) جو 26 جون 2026 کو جاری کی گئی، میں تمام اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورسز (اے این ٹی ایف)میں مخصوص ڈارک نیٹ اور کرپٹو کرنسی سیلز کے قیام، جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت ( اے آئی) پر مبنی تجزیاتی نظام کے استعمال، تحقیق، اداروں کی صلاحیت سازی اور بین الادارہ جاتی بہتر تال میل کے ذریعے منظم سائبر ٹیکنالوجی پر مبنی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خاتمے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ(این ڈی پی ایس) ، 1985 کے نفاذ کی ذمہ داری محکمہ محصولات کے پاس ہے۔ حکومت وقتاً فوقتاً این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات کا جائزہ لیتی ہے، جس میں عدالتی فیصلوں، نفاذ کے تجربات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں و متعلقہ شراکت داروں کی جانب سے نشان زد خامیوں پر بھی غور کی جاتا ہے ۔
ایسے جائزوں کی بنیاد پر اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے، جہاں ضروری سمجھا جاتا ہے وہاں ایکٹ میں ترامیم کی تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ یہ عمل حکومت کے مسلسل قانون سازی کے جائزے کا حصہ ہے، تاکہ قانونی نظام کو مؤثر، موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ اور بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔
نارکوٹکس کنٹرول ویژن دستاویز (2029-2026) میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے اطراف (+500 میٹر) علاقے کو منشیات سے پاک کیمپس بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، مرکزی مالی اعانت سے چلنے والے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی فلاح و بہبود کے پروگرام کے ایک حصے کے طور پر طلبہ کی رضامندی پر مبنی اسکریننگ ٹیسٹ کی تجویز بھی ویژن دستاویز میں شامل کی گئی ہے۔
یہ اقدام ویژن دستاویز کے تحت تیار کیے گئے تین سالہ مقررہ مدت کے لائحہ عمل کا حصہ ہے، جس میں تعلیمی اداروں میں محفوظ اور منشیات سے پاک ماحول کے قیام کے لیے منشیات سے پاک کیمپس، احتیاطی تعلیم، بیداری پروگرام، مشاورت اور کمیونٹی کی شمولیت کو بھی فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ معلومات وزارت داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیانند رائے نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
ش ح ۔ع و۔ خ م
U. No.1286
(रिलीज़ आईडी: 2294452)
आगंतुक पटल : 7