وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے ایس آئی ڈی بی آئی اور ای سی ایل جی ایس 5.0 کے ذریعہ ایم ایس ایم ایز کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کیا


ایس آئی ڈی بی آئی نے 71 نئی شاخوں کے ساتھ ملک بھر میں اپنی موجودگی کو وسعت دی، براہ راست قرضہ جات کے پورٹ فولیو میں سالانہ بنیاد پر 36.8 فیصد اضافہ

ای سی ایل جی ایس 5.0 کے تحت اہل ایم ایس ایم ایز کے لیے 100 فیصد تک ضمانتی کوریج کے ساتھ 2.55 لاکھ کروڑ روپے کے اضافی قرضے کی فراہمی کا منصوبہ

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 3:51PM by PIB Delhi

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران  ہندوستانی چھوٹی صنعتوں کی ترقیاتی بینک ( ایس آئی ڈی بی آئی-سڈبی) نے ملک بھر میں خوردہ، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو قرض کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔

ان اقدامات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

    • مرکزی بجٹ مالی سال 2024-25 کے اعلان کے بعد ایس آئی ڈی بی آئی-سڈبی نے یکم اپریل 2024 سے 29 جولائی 2026 تک ملک بھر میں71 نئی شاخیں کھولی ہیں، تاکہ بڑے ایم ایس ایم ای کلسٹرز تک اپنی رسائی کو وسعت دی جا سکے اور ایم ایس ایم ایز کو براہ راست قرض فراہم کیا جا سکے۔
    • 31 مارچ 2026 تک ایس آئی ڈی بی آئی-سڈبی کے براہ راست قرضہ جات کے بقایا پورٹ فولیو کی مالیت 51,687 کروڑ روپے ہے جو 31 مارچ 2025 کو37,781 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر36.8 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔
    • بینک بنیادی قرض فراہم کرنے والے اداروں (پی ایل آئیز) کے وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے ری فنانس سہولت بھی فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ ایم ایس ایم ایز کو مزید قرض فراہم کر سکیں۔ 31 مارچ 2026 تک ایس آئی ڈی بی آئی-سڈبی کے ری فنانس پورٹ فولیو کی بقایا رقم 4,50,571 کروڑ روپے ہے جو31 مارچ 2025 کو3,85,327 کروڑ روپے تھی۔ اس میں سالانہ بنیاد پر16.9 فیصد** اضافہ ہوا ہے۔
    • ایس آئی ڈی بی آئی-سڈبی نے غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں (این بی ایف سیز) کے ساتھ مشترکہ قرض فراہمی کے انتظام پر مبنی ایک نئی سہولت شروع کی ہے، تاکہ چھوٹی ایم ایس ایم ایز، خصوصاً نئے قرض لینے والوں کو کم لاگت پر قرض فراہم کیا جا سکے۔ یہ اقدام ایسی ایم ایس ایم ایز تک رسائی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے جو مالیاتی سہولیات سے محروم یا کم مستفید ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران بینک نے علاقائی دیہی بینکوں (آر آر بیز) کے ساتھ بھی مشترکہ قرض فراہمی کے انتظامات شروع کیے، تاکہ کم سہولت یافتہ اور غیر دریافت شدہ علاقوں میں قرض کی فراہمی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
    • ایس آئی ڈی بی آئی-سڈبی نے غیر رسمی چھوٹے کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباری اداروں (آئی ایم ایز) ، خصوصاً خواتین اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو آسان اور کم لاگت قرض تک رسائی فراہم کرنے کے لیےپرایاس اسکیم شروع کی ہے۔
    • ایس آئی ڈی بی آئی-سڈبی نے خوردہ کاروباری اداروں کو تجارتی اعداد و شمار اور ڈجیٹل نظام کے ذریعے فوری طور پر انوائس پر مبنی (کیش فلو پر مبنی) کم مالیت کے قرض فراہم کرنے کے لیے‘جی ایس ٹی سہائے ایپ’ شروع کی ہے۔
    • حکومت نے مئی 2026 میں ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) 5.0 شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایم ایس ایم ایز، مالی سال2025-26 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران اپنے زیادہ سے زیادہ فنڈ پر مبنی ورکنگ کیپیٹل بقایا قرض کے 20 فیصد تک اضافی قرض حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
    • اس اسکیم کے تحت اہل ایم ایس ایم ای قرض لینے والوں کو فراہم کی جانے والی اضافی قرض سہولت میں ڈیفالٹ کی صورت میں رکن قرض فراہم کرنے والے اداروں (ایم ایل آئیز) کو100 فیصد ضمانتی کوریج فراہم کی جاتی ہے۔ جبکہ طے شدہ مسافر ہوائی کمپنیوں کے لیے ضمانتی کوریج 90 فیصد ہے۔
    • تاہم، طے شدہ مسافر ہوائی کمپنیاں مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران اپنے زیادہ سے زیادہ مجموعی بقایا قرض (فنڈ پر مبنی اور غیر فنڈ پر مبنی دونوں) کے100 فیصد تک اضافی قرض حاصل کرنے کی اہل ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ایم ایس ایم ایز، غیر ایم ایس ایم ایز اور طے شدہ مسافر ہوائی کمپنیوں کے لیے مجموعی طور پر2,55,000 کروڑ روپےکے اضافی قرض کی فراہمی کا تصور کیا گیا ہے۔

یہ معلومات وزارت خزانہ میں وزیر مملکت جناب پنکج چودھری  نے آج ایوان بالا- راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔

*****

ش ح- ظ الف– ن ع

UR No. 1291


(रिलीज़ आईडी: 2294390) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Kannada