امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جرائم سے نمٹنے کے لیے بی این ایس میں موجود دفعات

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 3:26PM by PIB Delhi

حکومت خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔ بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس)، 2023 میں پہلی مرتبہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق دفعات کو ترجیح دی گئی ہے اور انہیں ایک ہی باب کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کے لیے سزائے موت تک کی سخت سزاؤں کا التزام کیا گیا ہے۔18 سال سے کم عمر خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے جرم کے لیے مجرم کی قدرتی زندگی کے اختتام تک عمر قید یا سزائے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شادی، ملازمت، ترقی کا جھوٹا وعدہ کرنے یا شناخت چھپا کر جنسی تعلق قائم کرنے وغیرہ کے لیے ایک نئی جرم کی شق بھی بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 میں شامل کی گئی ہے۔نئی سنہتاؤں میں خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اہم دفعات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔

خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق دفعات

  1. بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 کے نئے باب پنجم میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کو دیگر تمام جرائم پر ترجیح دی گئی ہے۔
  2. بھارتیہ نیائے سنہتا میں اجتماعی عصمت دری کے نابالغ متاثرین کی عمر کے فرق کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل 16 سال سے کم عمر اور 12 سال سے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے لیے الگ الگ سزائیں مقرر تھیں۔ اس شق میں ترمیم کرکے اب 18 سال سے کم عمر خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کو عمر قید یا سزائے موت کے قابل جرم قرار دیا گیا ہے۔
  3. خواتین کو خاندان کی ایک بالغ رکن کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جو طلب کیے گئے شخص کی جانب سے سمن وصول کر سکتی ہیں۔ پہلے استعمال ہونے والی عبارت’’کسی بالغ مرد رکن‘‘ کو تبدیل کرکے’’کسی بالغ رکن‘‘ کر دیا گیا ہے۔
  4. متاثرہ خاتون کو مزید تحفظ فراہم کرنے اور عصمت دری کے جرم سے متعلق تحقیقات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے ذریعے متاثرہ کا بیان آڈیو-ویڈیو ذرائع سے ریکارڈ کیا جائے گا۔
  5. خواتین کے خلاف بعض جرائم کے معاملات میں متاثرہ کا بیان، جہاں تک ممکن ہو، خاتون مجسٹریٹ کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا، اور ان کی عدم موجودگی میں خاتون کی موجودگی میں مرد مجسٹریٹ کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا جائے گا، تاکہ حساسیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرین کے لیے معاون ماحول فراہم ہو۔
  6. طبی ماہرین کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ عصمت دری کے متاثرہ فرد کی طبی رپورٹ 7 دن کے اندر تفتیشی افسر کو فراہم کریں۔
  7. یہ بھی التزام کیا گیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر یا 60 سال سے زیادہ عمر کے مرد (پہلے یہ عمر 65 سال تھی)، خواتین، ذہنی یا جسمانی معذوری رکھنے والے افراد یا شدید بیماری میں مبتلا افراد کو ان کی رہائش گاہ کے علاوہ کسی اور مقام پر حاضری کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، اگر ایسا شخص پولیس اسٹیشن آنے پر رضامند ہو تو اسے وہاں آنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
  8. نئے قوانین کے تحت خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے متاثرین کو تمام اسپتالوں میں مفت ابتدائی طبی امداد اور علاج فراہم کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ اس شق سے متاثرین کو فوری طبی سہولت فراہم ہوگی اور مشکل حالات میں ان کی صحت اور بحالی کو ترجیح دی جائے گی۔
  9. بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 کی دفعہ 95 کے تحت کسی بچے کو جرم کے ارتکاب کے لیے بھرتی کرنا، ملازمت پر رکھنا یا استعمال کرنا قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس جرم کے لیے کم از کم 7 سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جسے بڑھا کر 10 سال تک کیا جا سکتا ہے۔ اس شق کا مقصد جرائم انجام دینے کے لیے بچوں کو استعمال کرنے والے گروہوں یا افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

یہ بات وزارتِ داخلہ کے وزیر مملکت جناب بندی سنجے کمار نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتائی۔

******

 

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

Urdu.No-1284


(रिलीज़ आईडी: 2294321) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil