مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
اسمارٹ سٹی مشن کے تحت حاصل کیے گئے قابل پیمائش نتائج کا جائزہ
प्रविष्टि तिथि:
03 AUG 2026 6:03PM by PIB Delhi
ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر مملکت جناب توکھن ساہو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ نیتی آیوگ نے ستمبر 2025 میں شائع اپنی رپورٹ ‘‘مرکز کی امدادیافتہ اسکیموں کا جائزہ: پیکیج 4 – شہری تبدیلی اور ہنرمندی کے فروغ’’ میں کہا ہے کہ اسمارٹ سٹی مشن قومی شہری ترجیحات اور شہریوں کی ضروریات سے مضبوط طور پر ہم آہنگ ہے اور اقوام متحدہ کے متعدد پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں اہم رول ادا کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس مشن کے تحت 8,063 پروجیکٹوں میں سے 93 فیصد پروجیکٹ مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ مربوط کمانڈ اور کنٹرول مراکز (آئی سی سی سی) کی تکمیل کی شرح 100 فیصد رہی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں شہری زندگی کے معیار، آمد و رفت، تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے شعبوں میں قابل پیمائش مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
اسمارٹ سٹی مشن (ایس سی ایم) کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے 31 مارچ 2026 تک فراہم کردہ معلومات کے مطابق، مجموعی طور پر 8,064 پروجیکٹ شروع کیے گئے، جن کی مالیت 1,64,811 کروڑ روپے تھی۔ ان میں سے 7,790 پروجیکٹ (شروع کیے گئے کل پروجیکٹوں کا 97 فیصد) مکمل کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی لاگت 1,56,257 کروڑ روپے ہے۔
اسمارٹ سٹی مشن کی اہم حصولیابیاں اور تبدیلی لانے والے نتائج میں دیگر امور کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں:
- 100 مربوط کمانڈ اور کنٹرول مراکز (آئی سی سی سی) قائم کیے گئے، جو جرائم کی نگرانی، شہریوں کے تحفظ، ٹرانسپورٹ، کچرے کے انتظام، پانی کی فراہمی اور آفات کے انتظام جیسے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
- عوامی تحفظ اور سلامتی: نگرانی کرنے والے83,000 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
- فعال عوامی مقامات:(وائبرینٹ پبلک اسپیس) 1,300 سے زائد عوامی مقامات سے متعلق پروجیکٹ مکمل کیے گئے ہیں، جبکہ 484 تاریخی ورثے کے مقامات کا تحفظ اور 58 شہروں میں بازاروں کی ازسرنو ترقی کا کام بھی مکمل کیا گیا ہے۔
- پانی کی فراہمی: 17,000 کلومیٹر سے زائد پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک کی(ایس سی اے ڈی اے) کے نظام کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے، جس سے پانی کے رساؤ اور آمدنی کے بغیر والے پانی میں کمی آئی ہے۔
- ٹھوس کچرے کا بندوبست: آئی سی سی سی کے ذریعے آر ایف آئی ڈی سے لیس کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کی نگرانی کی جاتی ہے، جس سے راستوں کی بہتری اور کچرا جمع کرنے کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔
- آمد و رفت کا نظام: 1,700 کلومیٹر سے زائد اسمارٹ اور قابل رسائی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، جبکہ بہتر ٹریفک انتظام کے لیے انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹ مینجمنٹ سسٹم (آئی ٹی ایم ایس) نافذ کیا گیا ہے، جس کی نگرانی آئی سی سی سیز کے ذریعے کی جاتی ہے۔
- عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پی): 9,190 کروڑ روپے مالیت کے 194 پروجیکٹ مکمل کیے جا چکے ہیں۔
31 مارچ 2025 کو اسمارٹ سٹیز مشن (ایس سی ایم) کی تکمیل کے بعد، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے10 جون 2025 کو ایڈوائزری نمبر 27 جاری کی۔ اس ایڈوائزری کے مطابق، خصوصی مقصدی اداروں (ایس پی ویز) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسمارٹ سٹیز مشن کے تحت جاری تمام پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں اور تیار کیے گئے اثاثوں کے آپریشن اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم) کے لیے منصوبے تیار کریں۔ ایڈوائزری میں اسمارٹ سٹیز کے خصوصی مقصدی اداروں کے مستقبل کے رول اور مربوط کمانڈ و کنٹرول مراکز (آئی سی سی سی) کے مسلسل سرگرم رہنے کے لیے ایک لائحۂ عمل بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس میں ابھرتے ہوئے شہری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خصوصی مقصدی اداروں کے رول کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر زور بھی دیا گیا ہے۔
********
ش ح ۔ش م۔ش ت
UN-NO-1225
(रिलीज़ आईडी: 2293965)
आगंतुक पटल : 5