وزارت خزانہ
بھارت کی ہر گاؤں تک بینکاری سہولت کی سمت بڑی کامیابی، 99.92 فیصد آباد گاؤوں میں بینکاری خدمات دستیاب
ملک گیر بینکاری رسائی کے لیے وسیع بنیادی ڈھانچہ، 1.81 لاکھ سے زائد بینک شاخیں اور17.36 لاکھ بینکنگ نمائندوں (بی سیز) نیز 1.65 لاکھ انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک مراکز (آئی پی پی بی)پر مشتمل مراکز فعال
پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت 58.77 کروڑ کھاتے کھولے گئے، جن میں 3,12,414 کروڑ روپے کا بیلنس موجود ہے
حکومت اور آر بی آئی،ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق لین دین کی سائبر سیکورٹی کو مضبوط بنانے اور سائبر مالیاتی دھوکہ دہی کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
03 AUG 2026 4:25PM by PIB Delhi
وزارت خزانہ کے وزیرمملکت جناب پنکج چودھری نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ ملک نے بینکاری رسائی کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کر لیا ہے، جہاں بینکوں کی جانب سے جن دھن درشک (جے ڈی ڈی) ایپ پر اپ لوڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اب 99.92 فیصد آباد گاؤوں(6,01,328 میں سے 6,00,868) میں 5 کلومیٹر کے دائرے کے اندر کوئی نہ کوئی بینکاری سہولت (بینک شاخ/بینکنگ نمائندہ/انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک) دستیاب ہے۔
ملک بھر میں 17 جولائی 2026 تک 1.81 لاکھ سے زائد بینک شاخوں، 17.36 لاکھ بینکنگ نمائندوں (بی سی) اور 1.65 لاکھ انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک مراکز پر مشتمل مضبوط بنیادی ڈھانچہ اس بینکاری توسیع میں معاونت فراہم کررہاہے۔
دیہی اور دور دراز علاقوں میں بینکاری خدمات کی آسان دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی کوشش یہ ہے کہ ملک کے تمام آباد گاؤوں میں 5 کلومیٹر کے دائرے کے اندر کوئی نہ کوئی بینکاری سہولت (بینک شاخ/بینکنگ نمائندہ/انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک) فراہم کی جائے۔ مزید یہ کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے تجارتی بینکوں، چھوٹے مالیاتی بینکوں، ادائیگی بینکوں، مقامی علاقائی بینکوں اور علاقائی دیہی بینکوں کو ملک بھر میں کہیں بھی بینک شاخیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے لیے پیشگی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم شرط یہ ہے کہ ان میں سے 25 فیصد شاخیں ایسے دیہی علاقوں میں کھولی جائیں جہاں پہلے بینکاری سہولت دستیاب نہ ہو۔
مزید یہ کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی موجودہ ہدایات کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں فی الحال بینکاری سہولت دستیاب نہیں ہے، بینکاری مراکز قائم کرنے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ اس عمل کی نگرانی ریاستی سطح کی بینکرز کمیٹی (ایس ایل بی سی) / مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سطح کی بینکرز کمیٹی (یو ٹی ایل بی سی) متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومت، رکن بینکوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد کرتی ہے۔ بینک، دیگر امور کے ساتھ ساتھ، آر بی آئی کی ہدایات، اپنے کاروباری منصوبوں اور تجارتی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے بینکاری مراکز کھولنے کی تجاویز پر غور کرتے ہیں۔
ملک میں17 جولائی 2026 تک پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) کے تحت کل 58.77 کروڑ کھاتے کھولے جا چکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 3,12,414 کروڑ روپے کی رقم موجود ہے۔
زرعی قرضوں کی شفافیت اور بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں دیگر امور کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں:
- جن سمرتھ پورٹل کو حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی قرض اور سبسڈی اسکیموں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر شروع کیا گیا ہے۔ یہ پورٹل درخواست گزار کے اعداد و شمار کے ڈیجیٹل جائزے کی بنیاد پر قرض کے لیے درخواست دینے اور اس کی بروقت منظوری حاصل کرنے کا ایک تیز رفتار اور مؤثر طریقہ فراہم کرتا ہے۔
- زرعی قرضوں کی فراہمی کے عمل کو آسان اور مؤثر بنانے کے لیے متعدد ڈیجیٹل اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان میں نبارڈ (این اے بی اے آر ڈی)کی جانب سے تیار کردہ ای-کے وائی سی (الیکٹرانک شناختی تصدیق) ایپلی کیشن، محکمہ زراعت اور کسان بہبود کی تیار کردہ کرشیکا (کے آر آئی ایس ایچ آئی کے اے) ایپلی کیشن، اور بینکوں کی جانب سے تیار کردہ دیگر اسی نوعیت کی ڈیجیٹل ایپلی کیشنز شامل ہیں، جو مستحق افراد کی شناخت، ان تک رسائی، قرض کی درخواستوں کی کارروائی اور نگرانی میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔
- کسان رِن پورٹل (کے آر پی) کو زراعت اور کسانوں کی بہبود کے محکمہ نے ستمبر 2023 میں شروع کیا تھا۔ یہ پورٹل کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کے ذریعے حاصل کیے گئے قرضوں کے لیے ترمیم شدہ سود رعایتی اسکیم (ایم آئی ایس ایس) کے تحت آدھار پر مبنی مستفیدین کی تصدیق اور ڈیجیٹل طریقے سے دعووں کے فوری نمٹارے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کی سائبر سیکورٹی کو مضبوط بنانے اور شہریوں کو سائبر مالیاتی دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے وقتاً فوقتاً مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں دیگر امور کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں:
- حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) سے مشاورت کے بعد انڈیا ڈیجیٹل پیمنٹ انٹیلی جنس کارپوریشن (آئی ڈی پی آئی سی) قائم کیا ہے، جو مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور بڑے پیمانے پر اعداد و شمار کے تجزیے (بگ ڈیٹا اینالیٹکس) جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ریئل ٹائم میں دھوکہ دہی سے متعلق معلومات اور الرٹس فراہم کرے گا۔
- ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ویب اور موبائل ایپ سے متعلق خطرات سے نمٹنے کے لیے فروری2021 میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حفاظتی اقدامات سے متعلق ماسٹر ہدایات جاری کی تھیں۔ ان ہدایات کے تحت بینکوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا کہ وہ انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ، کارڈ ادائیگی اور دیگر مختلف ادائیگی ذرائع کے لیے حفاظتی اقدامات کے ایک مشترکہ کم از کم معیار کو نافذ کریں۔
- ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے رقم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے بینک کھاتوں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک ٹول ‘‘میول ہنٹر’’ شروع کیا ہے اور بینکوں و مالیاتی اداروں کو اس کے استعمال کی ہدایت دی ہے۔
- وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) کے تحت انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (آئی فور سی) ڈیجیٹل قرض فراہم کرنے والی ایپلی کیشنز کا سرگرم طور پر تجزیہ کر رہا ہے۔ شہریوں کو جعلی یا غیر قانونی قرض ایپس سمیت سائبر جرائم سے متعلق واقعات کی اطلاع دینے میں سہولت فراہم کرنے کی خاطر وزارتِ داخلہ نے قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (www.cybercrime.gov.in) اور قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر‘‘1930’’ شروع کیا ہے۔
- ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) اور بینک مختصر پیغامات (ایس ایم ایس)، ریڈیو مہمات اور سائبر جرائم سے بچاؤ کے بارے میں تشہیری سرگرمیوں کے ذریعے عوامی بیداری کی مہم چلا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ آر بی آئی الیکٹرانک بینکنگ سے متعلق بیداری اور تربیتی پروگرام (ای-بی اے اے ٹی) بھی منعقد کر رہا ہے، جن میں مالیاتی دھوکہ دہی سے متعلق بیداری اور خطرات کو کم کرنے کے اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
************
ش ح ۔ش م۔ش ت
UN-NO-1217
(रिलीज़ आईडी: 2293954)
आगंतुक पटल : 7