محنت اور روزگار کی وزارت
پردھان منتری شرم یوگی مان دھن (پی ایم-ایس وائی ایم(
پی ایم-ایس وائی ایم کے تحت ملک بھر میں54 لاکھ سے زیادہ مستفیدین کا اندراج ہوا
प्रविष्टि तिथि:
03 AUG 2026 5:33PM by PIB Delhi
غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو بڑھاپے میں تحفظ فراہم کرنے کے لئے فروری 2019 میں پردھان منتری شرم یوگی مان دھن (پی ایم۔ ایس وائی ایم) اسکیم شروع کی گئی تھی۔ یہ ایک رضاکارانہ اور شراکت پر مبنی پنشن اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے تحت 60 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو ہر ماہ 3,000 روپے کی مقررہ پنشن فراہم کی جاتی ہے۔18 سے 40 سال کی عمر کے وہ کارکن، جن کی ماہانہ آمدنی 15,000 روپے یا اس سے کم ہے اور جو ای پی ایف او/ای ایس آئی سی/این پی ایس (مرکزی حکومت کے تعاون والی) کے رکن نہیں ہیں یا انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں، وہ اس اسکیم میں شامل ہونے کے اہل ہیں۔مستفید ہونے والے شخص کی عمر کے مطابق ماہانہ شراکت کی رقم 55 روپے سے 200 روپے کے درمیان ہوتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت مستفید کو ماہانہ شراکت کا 50 فیصد ادا کرنا ہوتا ہے، جبکہ مرکزی حکومت بھی اتنی ہی رقم کا تعاون فراہم کرتی ہے۔اس اسکیم کے تحت اندراج پورے ملک میں پھیلے ہوئے تقریباً 4 لاکھ کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) کے نیٹ ورک کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اہل غیر منظم شعبے کے کارکن http://www.maandhan.in. پورٹل پر جا کر خود بھی اپنا اندراج کر سکتے ہیں۔
پی ایم-ایس وائی ایم اسکیم کے تحت 29 جولائی 2026 تک ملک بھر میں 54 لاکھ سے زیادہ مستفیدین کا اندراج کیا جا چکا ہے ۔ اس اسکیم میں غیر منظم شعبے کی خواتین کارکنوں کی شرکت 53.1 فیصد ہے۔ پورے ملک میں پی ایم۔ ایس وائی ایم اسکیم کے تحت حکومت کی جانب سے 50 فیصد مساوی شراکت کی رقم 2,011.01 کروڑ روپے ہے۔اس کے علاوہ، مستفیدین کو پنشن 60 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد حاصل ہوگی، چونکہ یہ اسکیم فروری 2019 میں شروع کی گئی تھی، اس لیے پنشن کی ادائیگی فروری 2039 سے پہلے شروع نہیں ہوگی۔
پی ایم۔ ایس وائی ایم اسکیم کے تحت سبسکرائبر کے اکاؤنٹس بنیادی طور پر مقررہ ماہانہ شراکت کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے غیر فعال ہو سکتے ہیں۔ ایسا سبسکرائبر کے بینک اکاؤنٹ میں مناسب رقم موجود نہ ہونے، منسلک بینک اکاؤنٹ تبدیل ہونے یا بند ہو جانے، یا باقاعدگی سے شراکت جمع کرنے کے بارے میں مسلسل معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
لوگوں کو اسکیم سے جوڑے رکھنے، شرکت میں اضافہ کرنے اور بیداری پیدا کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے درج ذیل اقدامات کئے گئے ہیں:
(1) ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔
(ii) پی ایم۔ ایس وائی ایم اسکیم کے تحت اہل مستفیدین کے اندراج کے لیے کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
(iii) رضاکارانہ اخراج، بحالی ماڈیول (اکاؤنٹ کو دوبارہ فعال کرنے کی سہولت)، دعوے کی صورتحال اور اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ جیسی نئی سہولیات شروع کی گئی ہیں۔
(iv) غیر فعال اکاؤنٹس کو دوبارہ فعال کرنے کی مدت ایک سال سے بڑھا کر تین سال کر دی گئی ہے۔
(v) پی ایم۔ ایس وائی ایم کو ای۔شرم پورٹل کے ساتھ دو طرفہ انضمام (باہمی ربط) کیا گیا ہے۔
(vi) بیداری پیدا کرنے کے لیے ایس ایم ایس مہم چلائی جاتی ہے۔
(vii) پی ایم۔ ایس وائی ایم اسکیم کے تحت اندراج کے سلسلے میں ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز سے رابطہ کیا جاتا ہے۔
(viii) اسکیم کے تحت غیر منظم شعبے کے کارکنوں کے اندراج کے لیے ملک گیر خصوصی رجسٹریشن مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
یہ معلومات محنت اور روزگار کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی ۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.1218
(रिलीज़ आईडी: 2293949)
आगंतुक पटल : 8