عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

راجیہ سبھا نے پبلک امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 صوتی ووٹ سے منظور کر لیا

بل میں صرف سوالیہ پرچہ افشا ہونے ہی نہیں بلکہ امتحانات کے دوران اختیار کئے جانے والے تمام غلط طور طریقوں کی روک تھام سے متعلق اقدامات کو  بھی شامل کیا گیا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پبلک امتحانات کو زیادہ شفاف، مؤثر اور امیدوار دوست بنانے کیلئے پہلے سے نافذ کئے گئے اصلاحی اقدامات پر روشنی ڈالی

حکومت مضبوط قانونی ڈھانچے اور جامع امتحانی اصلاحات کے ذریعے طلبہ اور نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے پُرعزم ہے

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 10:44PM by PIB Delhi

لوک سبھا سے منظور شدہ پبلک امتحانات (غلط طور طریقوں  کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 کو آج راجیہ سبھا نے  بھی صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ بل پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن کی وزارت اور محکمۂ جوہری توانائی و خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ان ترامیم سے پبلک امتحانات میں غلط ذرائع کی روک تھام کے لئے قانونی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوگا اور طلبہ و نوجوانوں کے مفادات کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

وزیرموصوف نے کہا کہ حکومت اس بات کے لئے پُرعزم ہے کہ عوامی امتحانات شفاف، قابلِ اعتماد اور میرٹ پر مبنی ہوں تاکہ طلبہ کی دیانت دارانہ محنت کا تحفظ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون صرف سوالیہ پرچے کے افشا ہونے تک محدود نہیں، بلکہ عوامی امتحانات میں اختیار کیے جانے والے تمام ناجائز ذرائع کی روک تھام کے لیے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت سوالیہ پرچوں اور جوابی کلید کے افشا، جوابی کاپیوں اور کمپیوٹر نظام میں چھیڑ چھاڑ، امتحانی عمل میں ہیرا پھیری، جعلی ویب سائٹس اور فرضی داخلہ کارڈ تیار کرنے، نیز امتحانات میں ناجائز ذرائع کو منظم انداز میں فروغ دینے جیسے تمام جرائم کا جامع طور پر احاطہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ دفعات امتحانی بے ضابطگیوں کی مختلف صورتوں سے نمٹنے کے لیے قانون کے ہمہ گیر کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے فروتنی اور کھلے دل کے ساتھ یہ ترمیمی بل پیش کیا ہے اور قانون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ارکان کی تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی امتحانات میں ناجائز ذرائع کا مسئلہ ملک کے ہر والدین، ہر خاندان اور ہر شہری سے وابستہ ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق طلبہ کی امنگوں اور ملک کے مستقبل کے انسانی وسائل سے ہے۔

تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے طلبہ کو زیادہ تعلیمی لچک اور وسیع مواقع فراہم کرکے انقلابی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں جامعات کی تعداد 760 سے بڑھ کر 1,293 ہو گئی ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد 51,534 سے بڑھ کر 64,896 تک پہنچ گئی ہے۔

طبی تعلیم میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصو ف نے کہا کہ ایمس کی تعداد 7 سے بڑھ کر 22 ہو گئی ہے، جبکہ میڈیکل کالجوں کی تعداد 387 سے بڑھ کر 844 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ایم بی بی ایس کی نشستیں 51,300 سے بڑھ کر 1.39 لاکھ اور پوسٹ گریجویٹ طبی نشستیں 31,000 سے بڑھ کر 86,300 ہو گئی ہیں، جس سے معیاری طبی تعلیم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسانی سے دستیاب ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تعلیمی مواقع اور روزگار کے فروغ کے لیے حکومت کی مختلف پہلوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک بھر میں 400 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول قائم کیے جا چکے ہیں۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2004 سے 2014 کے دوران سرکاری تقرریوں کی تعداد 7.22 لاکھ تھی، جو 2014 سے 2024 کے عرصے میں بڑھ کر 10.96 لاکھ ہو گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے بیک لاگ کی خالی آسامیوں کو پُر کیا ہے اور سرکاری ملازمتوں میں ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی ترقیاتی مہمات بھی چلائی ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے اسٹارٹ اپ انڈیا پہل کے ذریعے نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کو بھی فروغ دیا ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اس منصوبے کے آغاز کے وقت تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس کی تعداد تقریباً 350 سے 400 تھی، جو آج بڑھ کر تقریباً 2.4 لاکھ ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام بن گیا ہے۔ انہوں نے اختراع، تحقیق اور دانشورانہ املاک کے فروغ میں نمایاں پیش رفت کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب پی ایچ ڈی کی پیداوار اور پیٹنٹ درخواستوں کے حوالے سے دنیا کے سرکردہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ عوامی امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام) ایکٹ، 2024 کے دائرۂ کار میں یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی)، ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ (آر آر بی)، انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ پرسنل سلیکشن (آئی بی پی ایس) اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سمیت اہم بھرتی اداروں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے امتحانات شامل ہیں۔ امتحانی نظام میں پہلے سے نافذ اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض سرکاری بھرتیوں میں انٹرویو کا مرحلہ ختم کر دیا گیا ہے، آن لائن درخواست کا نظام اور امیدوار دوست امتحانی طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے، عارضی جوابی کلید (پروویژنل آنسر کی) جاری کرنے سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور سائبر سکیورٹی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ انہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ اسٹاف سلیکشن کمیشن میں بھرتی کے عمل کی اوسط مدت 9 ماہ 8 دن سے کم ہو کر 8 ماہ 24 دن رہ گئی ہے۔ پرتبھا سیتو پہل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پورٹل سول سروس کے باصلاحیت امیدواروں کو ممکنہ آجر اداروں سے جوڑنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، اور اس پلیٹ فارم پر اب تک 335 نجی کمپنیاں رجسٹر ہو چکی ہیں۔

وزیر موصوف نے ایوان کو بتایا کہ عوامی امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قائم اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات پر تیزی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی 46 سفارشات میں سے 35 پر پہلے ہی عمل کیا جا چکا ہے، جن میں آدھار پر مبنی بایومیٹرک تصدیق، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تقویت یافتہ چہرے کی تصدیق، کثیر سطحی تلاشی کا نظام، سی سی ٹی وی نگرانی، سگنل جیمرز، ریاستی اور ضلعی رابطہ کمیٹیاں، شکایات کے ازالے کا نظام اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی تنظیمِ نو شامل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ عوامی امتحانات کی شفافیت اور دیانت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، والدین، طلبہ اور معاشرے کی اجتماعی شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تمام متعلقہ فریقوں سے تعمیری تجاویز حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی امتحانی نظام کو مزید مضبوط بناتی رہے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ نظام منصفانہ، شفاف، قابلِ اعتماد اور ناجائز ذرائع سے پاک رہے اور ساتھ ہی لاکھوں طلبہ اور ملازمت کے خواہش مند امیدواروں کی امنگوں کا بھی پورا خیال رکھا جائے۔

1.png

 

23.png

3.png

4.png

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO. 1201

 

 

 

 


(रिलीज़ आईडी: 2293819) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu