PIB Backgrounder
ہندوستان میں شمسی توانائی کی ترقی ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے
प्रविष्टि तिथि:
02 AUG 2026 11:55AM by PIB Delhi
پردھان منتری سوریہ سروور یوجنا (پی ایم ۔ ایس ایس وائی)کی منظوری سے ہندوستان کے شمسی توانائی کے شعبے کو نمایاں فروغ ملا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولت کے ساتھ 5,000 میگاواٹ کی تیرتی ہوئی شمسی توانائی کی صلاحیت قائم کرنا ہے۔ شمسی توانائی ہندوستان کی صاف توانائی کی منتقلی کے سفر میں ایک اہم محرک کے طور پر ابھری ہے۔ صلاحیت میں اضافہ، مینوفیکچرنگ کو فروغ اور صارفین کی جانب سے اسے اپنانے کا رجحان اس بات کا عکاس ہے کہ کس طرح مربوط پالیسی معاونت ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو توانائی کے شعبے کے مرکزی دھارے میں شامل کر سکتی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف توانائی کی سلامتی کو مستحکم کرتا ہے بلکہ اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دیتا ہے، موسمیاتی اقدامات کو تقویت دیتا ہے اور ہندوستان کو عالمی سطح پر قابل تجدید توانائی کے ایک اہم رہنما کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔
ہندوستان میں شمسی توانائی کا عروج
ایک دہائی قبل ہندوستان کے بجلی کے مجموعی نظام میں شمسی توانائی کا حصہ نہایت معمولی تھا۔ آج یہ ملک کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کا سب سے بڑا جزو بن چکی ہے۔ سال 2014 میں تقریباً 3 گیگاواٹ کی نصب شدہ صلاحیت سے شروع ہونے والا یہ شعبہ پچاس گنا سے زیادہ بڑھ چکا ہےاور 30 جون 2026 تک بڑھ کر 162.15 گیگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔
یہ نمایاں تبدیلی مضبوط پالیسی اقدامات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، شمسی آلات و سازوسامان کی ملکی تیاری میں توسیع اور عوامی شراکت داری کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ سولر پارکس، چھتوں پر نصب شمسی نظام اور شمسی توانائی سے چلنے والے زرعی پمپ جیسے اقدامات نے ملک بھر میں شمسی توانائی کے فروغ کو رفتار دی ہے۔ شمسی توانائی کی ترقی کے لیے تازہ ترین اہم قدم حال ہی میں منظور شدہ پردھان منتری سوریہ سروور یوجنا (پی ایم-ایس ایس وائی) ہے۔
مرکزی حکومت نے پردھان منتری سوریہ سروور یوجنا (پی ایم-ایس ایس وائی) کو 31 جولائی 2026 کو منظوری دی۔ اس اسکیم کا مقصد توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (ای ایس ایس) کے ساتھ 5,000 میگاواٹ کی تیرتی ہوئی شمسی فوٹو وولٹک (ایف ایس پی وی) منصوبوں کو معاونت فراہم کرنا ہے۔ کم از کم دو گھنٹے کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت (10,000 میگاواٹ گھنٹہ) کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام ریاستوں کو زیادہ طلب کے اوقات میں بجلی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
موجودہ آبی ذخائر اور صنعتی تالابوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ اسکیم محدود زمینی وسائل پر دباؤ کم کرے گی۔ اس کے علاوہ مربوط توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے ذریعے بجلی کے گرڈ کی قابلِ اعتماد کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ 5,070 کروڑ روپے کے تخمینی بجٹ کے ساتھ اس اسکیم کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک نافذ کیا جائے گا۔
یہ اسکیم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سولر انرجی (این آئی ایس ای) کے جائزے پر مبنی ہے۔ جائزے کے مطابق ہندوستان کے پاس آبی ذخائر اوردیگر موزوں اندرونِ ملک آبی ذخائر میں تقریباً 102.18 گیگاواٹ پیک (جی ڈبلیو پی) تیرتی ہوئی شمسی توانائی کی صلاحیت موجود ہے۔ اس اسکیم کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 1 کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او₂) کے اخراج میں کمی متوقع ہے۔
اس اقدام سے 16,000 سے 17,000 کل وقتی روزگار کے مساوی مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ فلوٹیشن سسٹمز، شمسی فوٹو وولٹک سیلز، ماڈیولز اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی گھریلو تیاری کو بھی فروغ ملے گا۔ ملک کی تمام ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہوں گے۔
یہ پہل ہندوستان کی تیرتی ہوئی شمسی توانائی کی صلاحیت کو موجودہ تقریباً 700 میگاواٹ سے بڑھا کر 5,000 میگاواٹ تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گی اور ملک کی صاف توانائی کی منتقلی کو مزید مضبوط بنائے گی۔
اس مربوط حکمت عملی نے واضح نتائج برآمد کیے ہیں۔ ہندوستان نے سال 2025 میں 37 گیگاواٹ شمسی توانائی کی صلاحیت کا اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں سالانہ ترقی کی شرح کے اعتبار سے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہندوستان دنیا کی دوسری بڑی شمسی توانائی کی منڈی بن کر ابھرا ہے، جو عالمی سطح پر صاف توانائی کی منتقلی میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔
شمسی توسیع کی دہائی
ہندوستان میں شمسی توانائی کی توسیع ایک مضبوط پالیسی فریم ورک کی بنیاد پر استوار ہے۔ اہم اقدامات میں قومی شمسی مشن (2010)، سولر پارک اسکیم، گرین انرجی کوریڈور پروگرام اور مسابقتی بولی کا نظام شامل ہیں۔ ان اقدامات نے مل کر بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبوں کے نفاذ کو تیز کیا ہے۔
ہندوستان بھر میں شمسی توانائی کی صلاحیت
شمسی توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد ہندوستان کے مختلف جغرافیائی اور موسمی خطوں میں پھیلا ہوا ہے۔ راجستھان، گجرات، کرناٹک، تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں نصب شدہ شمسی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ موجود ہے۔
بڑے پیمانے پر قائم شمسی منصوبے مجموعی طور پر 118.79 گیگاواٹ کی نصب شدہ صلاحیت میں حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں بھڈلا سولر پارک (راجستھان)، پاواگڈا سولر پارک (کرناٹک) اور ریوا الٹرا میگا سولر پارک (مدھیہ پردیش) جیسے نمایاں منصوبے شامل ہیں۔
بجلی کے گرڈ سے منسلک چھتوں پر نصب شمسی نظام مزید 27.88 گیگاواٹ کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ باقی صلاحیت ہائبرڈ شمسی منصوبوں اور آف گرڈ شمسی نظام سے حاصل ہوتی ہے۔
ہائبرڈ شمسی منصوبے شمسی توانائی کو بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام یا توانائی کے دیگر ذرائع کے ساتھ مربوط کرتے ہیں، جبکہ آف گرڈ شمسی نظام ایسے علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں جو روایتی بجلی کے گرڈ سے منسلک نہیں ہیں۔
مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ ترقی
مالی سال 2025-26 ہندوستان کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کے لیے ایک تاریخی سال ثابت ہوا، جس میں شمسی توانائی اور غیر جیواشم ایندھن پر مبنی توانائی کی صلاحیت میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا۔
- ہندوستان نے 44.61 گیگاواٹ شمسی توانائی کی صلاحیت کا اضافہ کیا، جو مالی سال 2024-25 میں شامل کی گئی 23.83 گیگاواٹ صلاحیت سے تقریباً دوگنا ہے۔
- شمسی ماڈیولز کی تیاری کی صلاحیت سال 2014 میں 2.3 گیگاواٹ سے بڑھ کر 31 مارچ 2026 تک تقریباً 172 گیگاواٹ ہو گئی۔
- غیر جیواشم ایندھن پر مبنی توانائی کی مجموعی صلاحیت 283.46 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جس میں 274.68 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت شامل ہے۔
- غیر جیواشم ایندھن پر مبنی توانائی کی صلاحیت میں 55.29 گیگاواٹ کا اب تک کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- 29 جولائی 2025 کو قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع نے ہندوستان کی بجلی کی طلب کا 51.5 فیصد پورا کیا، جو اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ ماہانہ حصہ ہے۔
شمسی توانائی کی توسیع کے لیے پالیسی فریم ورک
ایک مستحکم پالیسی فریم ورک، مسابقتی بولی لگانے کے طریقہ کار اور طویل مدتی اہداف نے بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ باہمی طور پر ایک دوسرے کو تقویت دینے والے متعدد اقدامات نے ہندوستان کی شمسی توانائی کی توسیع کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ ان اقدامات کو وسیع طور پر پانچ اہم ستونوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. وژن کی تشکیل: موسمیاتی عہد اور طویل مدتی اہداف
گلاسگو میں منعقدہ کوپ-26 (COP26) سربراہی اجلاس میں ہندوستان نے پنچ امرت اہداف کا اعلان کیا، جن میں سال 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر جیواشم ایندھن پر مبنی توانائی کی صلاحیت حاصل کرنا اور سال 2070 تک خالص صفر اخراج کا ہدف شامل ہے۔ یہ وعدے پیرس معاہدے کے تحت ہندوستان کی تازہ ترین قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی) میں بھی شامل ہیں۔
ان کوششوں کو مزید تقویت دیتے ہوئے مشن لائف (ایل آئی ایف ای ) (ماحول کے لیے طرزِ زندگی) پائیدار کھپت کو فروغ دیتا ہے اور شہریوں کو ماحول دوست طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
2. طلب میں اضافہ: قومی مشن اور قابلِ تجدید توانائی کی خریداری کی ذمہ داریاں
ہندوستان کی شمسی ترقی کے مرکز میں مضبوط اور مسلسل طلب کا کردار رہا ہے۔ قومی شمسی مشن نے طویل مدتی صلاحیت کے اہداف مقرر کیے اور شمسی توانائی کے فروغ کے لیے ابتدائی محرک فراہم کیا۔
قابلِ تجدید توانائی کی خریداری کی ذمہ داریاں (آر پی او) بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو اپنی بجلی کا ایک مخصوص حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا پابند بناتی ہیں۔ آر پی او نظام توانائی کے منصوبہ سازوں اور سرمایہ کاروں کو طویل مدتی مارکیٹ کا اعتماد فراہم کرتا ہے اور قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے 35.95 فیصد کے ہدف کے ساتھ سال 2029-30 تک آر پی او کے اہداف کا راستہ بھی طے کر دیا گیا ہے۔
شمسی توانائی کی طلب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور بڑے توانائی منصوبہ سازوں تک محدود نہیں رہی۔ پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا گھرانوں کو چھتوں پر شمسی نظام نصب کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ اسی طرح پردھان منتری کسان توانائی تحفظ ایوام اتھان مہابھیان (پی ایم-کُسم) زرعی شعبے میں شمسی پمپوں اور فیڈروں کو شمسی توانائی سے جوڑنے کے عمل کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ اقدامات مل کر شمسی توانائی کی منڈی کو وسعت دے رہے ہیں اور صارفین، کسانوں، کاروباری اداروں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
3. لاگت میں کمی: مسابقتی بولی اور ٹیرف کا تعین
شمسی شعبے میں گزشتہ دہائی کے دوران سب سے اہم پیش رفت بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی ہے۔ یہ کمی الیکٹرانک ریورس نیلامی (ای-ریورس نیلامی)کے ذریعے مسابقتی بولی کے نظام سے ممکن ہوئی، جس میں توانائی منصوبہ ساز کم ترین نرخ پر بجلی فراہم کرنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔
سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا (ایس ای سی آئی) جیسی خریداری ایجنسیوں نے شفاف ٹیرف کے تعین کے اس طریقہ کار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ منصوبہ سازوں کی شرکت کے ساتھ شمسی توانائی کے نرخ سال 2010 میں تقریباً 18 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 2.44 روپے فی یونٹ کی ریکارڈ کم ترین سطح تک پہنچ گئے۔ یہ کامیابی سال 2017 میں بھڈلا سولر پارک کی نیلامی کے دوران حاصل ہوئی۔
اس پیش رفت نے شمسی توانائی کو زیادہ سستی بنایا اور پورے ہندوستان میں اس کے استعمال کو تیز کیا۔
کم ہوتے ہوئے نرخوں نے شمسی توانائی کو مزید قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ نتیجتاً ہندوستان دنیا کی کم ترین لاگت والی شمسی توانائی کی منڈیوں میں شامل ہو گیا ہے۔ سال 2025 میں بڑے پیمانے پر قائم شمسی فوٹو وولٹک منصوبوں کے لیے بجلی کی مساوی لاگت )ایل سی او ای(تقریباً 35 امریکی ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ متوقع ہے، جو عالمی اوسط 44 امریکی ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ سے نمایاں طور پر کم ہے۔
موثر بنیادی ڈھانچہ
حکومت نے سولر پارک اسکیم کا آغاز اس مقصد سے کیا کہ شمسی توانائی کے منصوبہ سازوں کو زمین اور ضروری معاون بنیادی ڈھانچے تک آسان اور بروقت رسائی فراہم کی جا سکے۔ اس اسکیم کا آغاز ابتدائی طور پر 20 گیگاواٹ کے ہدف کے ساتھ کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں سال 2017 میں بڑھا کر 40 گیگاواٹ کر دیا گیا۔
فروری 2026 تک ملک بھر میں 54 سولر پارکس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن کی مجموعی منظور شدہ صلاحیت 39,188 میگاواٹ ہے۔
شمسی پارکس متعدد ریاستوں میں یوٹیلیٹی پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار کے اہم مراکز کے طور پر ابھرے ہیں:
|
نمبر شمار
|
ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
پارکوں کی تعداد
|
منظور شدہ صلاحیت ( میگاواٹ)
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
5
|
4200
|
|
2
|
چھتیس گڑھ
|
1
|
100
|
|
3
|
گجرات
|
7
|
12,150
|
|
4
|
جھارکھنڈ
|
2
|
334
|
|
5
|
جھارکھنڈ اور مغربی بنگال *
|
1
|
310
|
|
6
|
کرناٹک
|
1
|
2000
|
|
7
|
کیرالہ
|
3
|
255
|
|
8
|
مدھیہ پردیش
|
9
|
4208
|
|
9
|
مہاراشٹر
|
4
|
1,105
|
|
10
|
میزورم
|
1
|
20
|
|
11
|
اوڈیشہ
|
1
|
40
|
|
12
|
راجستھان
|
11
|
10,726
|
|
13
|
اتر پردیش
|
8
|
3,740
|
|
|
کل
|
54
|
39,188
|
*اس میں جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں پھیلا ہوا ایک بین ریاستی تیرتا ہوا سولر پارک بھی شامل ہے۔
اس اسکیم نے ہندوستان کے کئی نمایاں سولر پارکس کی ترقی کو ممکن بنایا ہے۔
بھڈلا سولر پارک: صحرائی علاقے سے صاف توانائی کے مرکز تک
راجستھان کے بنجر بھڈلا علاقے میں واقع یہ سولر پارک بنجر زمین کے وسیع رقبے کو دنیا کے سب سے بڑے شمسی توانائی کےکمپلیکسز میں تبدیل کرنے کی ایک نمایاں مثال ہے۔ سولر پارک اسکیم کے تحت اس کی ترقی کا آغاز سال 2015 میں ہوا اور اسے مرحلہ وار سال 2020 تک مکمل کیا گیا۔
تقریباً 5,700 ہیکٹر (56 مربع کلومیٹر) رقبے پر پھیلے اس پارک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 2,245 میگاواٹ ہے۔ خطے میں زیادہ شمسی تابکاری، کم بارش اور کم نباتاتی کثافت جیسے عوامل اسے بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کی پیداوار کے لیے موزوں بناتے ہیں۔
بھڈلا سولر پارک محض اپنے حجم کی وجہ سے ہی اہم نہیں ہے بلکہ یہ ایک مؤثر ماڈل بھی پیش کرتا ہے۔ مشترکہ بنیادی ڈھانچے، بشمول زمین کی تیاری اور بجلی کی ترسیل کی سہولیات، نے منصوبے کی تیز رفتار ترقی کو ممکن بنایا اور نجی شعبے سے نمایاں سرمایہ کاری کو راغب کیا۔
اس پارک میں مسابقتی بولی کے عمل نے ہندوستان میں شمسی توانائی کے نرخوں کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس سے شمسی بجلی کو مزید سستی اور قابلِ رسائی بنانے میں مدد ملی۔
سولر پارک اسکیم کی معاونت کرتے ہوئے گرین انرجی کوریڈور (جی ای سی) پروگرام کا مقصد قابلِ تجدید توانائی سے مالا مال علاقوں سے بجلی کی طلب والے مراکز تک توانائی کی منتقلی کو آسان بنانا ہے۔ یہ اقدام بجلی کی ترسیلی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے اور بجلی کے گرڈ میں قابلِ تجدید توانائی کے مؤثر اور بلاتعطل انضمام میں مدد فراہم کرتا ہے۔
فروری 2026 تک اس پروگرام کے تحت ایک مضبوط ترسیلی نیٹ ورک کے ذریعے 24,567.8 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل ممکن بنائی جاچکی ہے۔ تقریباً 44 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل میں معاونت کے لیے دس ریاستوں میں گرین انرجی کوریڈور کے منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبے قومی بجلی گرڈ میں قابلِ تجدید توانائی کے انضمام کو مزید مضبوط کریں گے۔
شمسی آلات و سازوسامان کی تیاری کو فروغ دینا
حکومت نے ملکی شمسی آلات و سازوسامان کی تیاری کو مضبوط بنانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
اعلیٰ کارکردگی والے شمسی فوٹو وولٹک (پی وی) ماڈیولز کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم
سال 2021 میں 4,500 کروڑ روپے کے ابتدائی مالی اخراجات کے ساتھ شروع کی گئی اعلیٰ کارکردگی والے شمسی پی وی ماڈیولز کے لیے پی ایل آئی اسکیم کو سال 2022 میں مزید 19,500 کروڑ روپے کی اضافی رقم کے ساتھ توسیع دی گئی۔
یہ اسکیم گھریلو شمسی آلات و سازوسامان کی تیاری کو فروغ دیتی ہے، درآمدی انحصار کو کم کرتی ہے اور شمسی توانائی کی مکمل ویلیو چین میں ملکی قدر میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اکتوبر 2024 تک اس اسکیم نے تقریباً 35,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا تھا اور تقریباً 10,000 افراد کے لیے براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا کیے تھے۔
منظور شدہ ماڈلز اور مینوفیکچررز کی فہرست (اے ایل ایم ایم)
سال 2019 میں شروع کی گئی اے ایل ایم ایم شمسی فوٹو وولٹک ماڈیولز اور سیلز کے لیے معیار کی یقین دہانی کا ایک فریم ورک ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ اہل منصوبوں میں استعمال ہونے والے شمسی آلات و سازوسامان مقررہ معیار اور کارکردگی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔
منظور شدہ فہرست میں شامل صرف وہی مینوفیکچررز اور ماڈلز مخصوص سرکاری معاونت یافتہ اور مسابقتی بولی کے ذریعے منتخب کیے گئے شمسی منصوبوں کے لیے اہل ہوتے ہیں۔ یہ فریم ورک منظور شدہ مصنوعات کے استعمال کو فروغ دے کر گھریلو شمسی مینوفیکچرنگ کو بھی تقویت پہنچاتا ہے۔
پی ایل آئی اسکیم اور اے ایل ایم ایم نے مل کر ہندوستان کے گھریلو شمسی مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کیا ہے۔ ان اقدامات نے شمسی توانائی کے تیز رفتار فروغ کو ممکن بنایا ہے اور ملک کو خود انحصاری کی جانب آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔ یہ فریم ورک منظور شدہ شمسی آلات و سازوسامان کے استعمال کو یقینی بنا کر صارفین اور منصوبہ سازوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
ہر گھر اور کھیت تک شمسی توانائی کی رسائی
ہندوستان کی شمسی توانائی کی تبدیلی بڑے پیمانے پر بجلی گھروں تک محدود نہیں ہے۔ گھروں اور کسانوں کے لیے مخصوص اسکیموں کے ذریعے حکومت شمسی توانائی تک رسائی کو بہتر بنا رہی ہے، بجلی کے اخراجات کو کم کر رہی ہے اور روزگار و آمدنی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا
13 فروری 2024 کو شروع کی گئی پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا، جس کا مالی تخمینہ 75,021کروڑ روپے ہے، چھتوں پر نصب شمسی نظام کے فوائد براہِ راست ملک بھر کے گھرانوں تک پہنچانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا گھریلو چھتوں پر شمسی توانائی کا پروگرام ہے۔
اس اسکیم کے تحت اہل گھرانوں کو چھتوں پر شمسی نظام نصب کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جبکہ بغیر ضمانت قرضوں کی سہولت شمسی توانائی کو اپنانے کے عمل کو مزید آسان بناتی ہے۔ اس اسکیم کو ایک مخصوص قومی پورٹل کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جو رجسٹریشن، تنصیب اور سبسڈی کی تقسیم کے عمل کو آسان اور شفاف بناتا ہے۔
اہم کامیابیاں
- جون 2026 تک 43 لاکھ گھرانوں کو چھتوں پر شمسی نظام سے آراستہ کیا جا چکا ہے۔
- دسمبر 2025 تک مرکزی حکومت کی مالی امداد کے طور پر 14,771.82 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
- 9 دسمبر 2025 تک 7.7 لاکھ سے زیادہ گھرانوں کو بجلی کے صفرروپے کےبجلی کےبل موصول ہوئے۔
یہ اسکیم گھرانوں کو اپنی ضرورت کی بجلی خود پیدا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس سے بجلی کے بلوں میں کمی آتی ہے اور چھتوں پر شمسی نظام کے استعمال کو فروغ ملتا ہے۔
پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کو بین الاقوامی سطح پر بھی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ عالمی بینک نے ہندوستان میں رہائشی چھتوں پر شمسی توانائی کے فروغ کے لیے مالی تعاون کی منظوری دی ہے۔
بجلی کے بھاری بلوں سے شمسی بچت تک
پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد گوالیار کی جاور کالونی کے رہائشی سدھانشو دوبے نے اپنے گھر کی چھت پر شمسی توانائی کا نظام نصب کیا۔
تنصیب اور سبسڈی حاصل کرنے کا عمل آسانی سے مکمل ہوا اور سبسڈی کی رقم براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی۔ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے وہ ہر ماہ اس کے فوائد محسوس کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ان کے گھر کا بجلی کا بل اکثر 10,000 روپے سے زیادہ آتا تھا، لیکن اب یہ تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ چھت پر نصب شمسی نظام مسلسل قابلِ اعتماد انداز میں بجلی پیدا کر رہا ہے، جس سے خاندان کی بجلی کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ ماہانہ اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
سدھانشو دوبے کے لیے یہ اسکیم سورج کی روشنی کو براہِ راست بچت میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ان کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح پی ایم سوریہ گھر ملک بھر کے خاندانوں کو صاف توانائی اپنانے اور اپنی بجلی کی لاگت پر زیادہ اختیار حاصل کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔
پردھان منتری کسان اُرجا سرکشا ایوَم اُتھان مہا ابھیان (پی ایم-کُسم)
سال 2019 میں شروع کی گئی پی ایم-کُسم اسکیم کا مقصد زراعت کے شعبے میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت غیر مرکزی شمسی توانائی منصوبوں، خود مختار شمسی زرعی پمپوں اور گرڈ سے منسلک زرعی پمپوں کو شمسی توانائی سے جوڑنے کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
اس کا مقصد آبپاشی کے لیے دن کے وقت قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی، ڈیزل پر انحصار میں کمی اور کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
پی ایم-کُسم کسانوں کو آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے دونوں مقاصد کے لیے شمسی توانائی استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت کسان آبپاشی کے لیے شمسی پمپ نصب کرتے ہیں اور جہاں سہولت دستیاب ہو، اضافی بجلی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس اسکیم کا مقصد مالی سال 2026-27 تک تقریباً 34,800 میگاواٹ شمسی صلاحیت کا اضافہ کرنا ہے، جس کے لیے 34,422 کروڑ روپے کی مرکزی مالی معاونت مختص کی گئی ہے۔
اہم کامیابیاں
- زرعی استعمال کے لیے تقریباً 11.49 لاکھ خود کار شمسی پمپ(اسٹینڈ الون شمسی پمپ) نصب کیے جا چکے ہیں۔
- فیڈر سطح پر شمسی توانائی سے جوڑنے کے ذریعے 15.89 لاکھ سے زیادہ زرعی پمپوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
- کسانوں کی زمینوں پر تقریباً 1,726 میگاواٹ غیر مرکزی شمسی توانائی کی صلاحیت قائم کی گئی ہے۔
- ملک بھر میں 21.77 لاکھ سے زیادہ کسان اس اسکیم سے مستفید ہو چکے ہیں۔
یہ دونوں اسکیمیں ہندوستان کے تقسیم شدہ شمسی توانائی کے نظام کے اہم ستون کے طور پر ابھری ہیں۔
مالی سال 2025-26 میں تقسیم شدہ شمسی توانائی کے حل نے سال کے دوران شامل کی گئی 44.61 گیگاواٹ شمسی صلاحیت میں سے 16.3 گیگاواٹ یعنی تقریباً 36 فیصد کا حصہ ادا کیا۔ اس میں 7.6 گیگاواٹ صلاحیت پی ایم-کُسم اور 8.7 گیگاواٹ چھتوں پر نصب شمسی نظام سے حاصل ہوئی۔
عالمی شمسی تعاون میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی قیادت
شمسی توانائی کے میدان میں ہندوستان کی قیادت اس کی سرحدوں تک محدود نہیں ہے۔ ملک بین الاقوامی تعاون، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور صلاحیت سازی کے ذریعے عالمی سطح پر صاف توانائی کے فروغ میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔
بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے)
سال 2015 میں پیرس میں منعقدہ کوپ-21 ((سی او پی۔21) کے دوران ہندوستان اور فرانس کی مشترکہ پہل کے طور پر قائم کیا گیا بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) عالمی شمسی تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔
یہ اتحاد مالدیپ، یونان، جرمنی، اٹلی، بھوٹان، لکسمبرگ اور ارجنٹائن سمیت متعدد ممالک کو شمسی توانائی کے منصوبوں کی رفتار بڑھانے اور علم و ٹیکنالوجی کے تبادلے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ آئی ایس اے رکن ممالک کے درمیان شمسی تعاون کو فروغ دینے والا ایک اہم ادارہ بن چکا ہے۔
ون سن، ون ورلڈ ون گرڈ (ایک سورج، ایک دنیا، ایک گرڈ)۔ (او ایس او ڈبلیو او جی)
سال 2018 میں ہندوستان کی جانب سے پیش کیا گیا ایک سورج، ایک دنیا، ایک گرڈ (او ایس او ڈبلیو او جی) باہم مربوط عالمی قابلِ تجدید توانائی نیٹ ورک کا تصور پیش کرتا ہے۔
اس وژن کو آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان اور برطانیہ نے سال 2021 میں کوپ-26 کے دوران گرین گرڈز انیشی ایٹو-ون ون سن، ون ورلڈ ون گرڈ (ایک سورج، ایک دنیا، ایک گرڈ) ۔(جی جی آئی-او ایس او ڈبلیو او جی) کا آغاز کیا۔ اس اقدام کو آسٹریلیا، فرانس، امریکہ اور بین الاقوامی شمسی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
یہ پہل ایک دوسرے سے منسلک بجلی کے گرڈ کے ذریعے سرحد پار قابلِ تجدید توانائی کی تجارت کو فروغ دیتی ہے، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بناتی ہے اور صاف توانائی کی منتقلی کے عمل کو تیز کرتی ہے۔
آئی ایس اے اور دیگر بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے ہندوستان نے عالمی جنوب میں قابلِ تجدید توانائی کے تعاون کو مضبوط کیا ہے۔ اپنی جی-20 صدارت کے دوران ہندوستان نے سال 2030 تک عالمی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو تین گنا کرنے کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
آگے کا راستہ
شمسی توانائی کے شعبے میں ہندوستان کی کامیابیاں مسلسل پالیسی معاونت، بڑھتی ہوئی ملکی تیاری، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور عوامی شراکت داری کی عکاسی کرتی ہیں۔
جیسے جیسے ہندوستان اپنے پنچ امرت اہداف اور سال 2070 تک خالص صفر اخراج کے عزم کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، شمسی توانائی اس سفر کا ایک اہم ستون برقرار رہے گی اور ملک کی صاف توانائی کی منتقلی کو مسلسل رفتار فراہم کرتی رہے گی۔
حوالہ جات:
بجلی کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2240739®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2183866®=48&lang=2
https://beeindia.gov.in/show_content.php?lang=1&level=1&ls_id=119&lid=291
https://www.recregistryindia.nic.in/pdf/REC_Regulation/Renewable_Purchase_Obligation_and_Energy_Storage_Obligation_Trajectory_till_2029_30.pdf
https://aerc.assam.gov.in/information-services/renewable-purchase-obligation-rpo
نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای)
https://mnre.gov.in/en/physical-progress/
https://mnre.gov.in/en/development-of-solar-parks-and-ultra-mega-solar-power-projects/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292433®=48&lang=1
https://mnre.gov.in/en/green-energy-corridor-overview/
https://mnre.gov.in/en/document/guidelines-for-tariff-based-competitive-bidding-process-for-procurement-of-firm-and-dispatchable-power-from-grid-connected-renewable-energy-power-projects-with-energy-storage-systems-2/
https://pmkusum.mnre.gov.in/#/landing
https://pmkusum.mnre.gov.in/#/landing/read-more
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2250039®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1763712
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244667®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241551®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204466®=6&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2082901®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2042069®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2010133®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1983208®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1622459®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1489763®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2081250®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1831364®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=122567®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU2064_DoGkMO.pdf?source=pqars
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU2011_5nmHOe.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/183/AU1418_Edvm7x.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU1260_BzS52V.pdf?source=pqars
https://pmsuryaghar.gov.in/#/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1594759®=48&lang=2
https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3716e1b8c6cd17b771da77391355749f3/uploads/2024/02/202402091231907238.pdf
https://x.com/mnreindia/status/1779835768795546038
https://x.com/byadavbjp/status/2062136611501113852
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1710114&lang=2®=48
https://forumofregulators.gov.in/Data/Meetings/Minutes/98.pdf
وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1795071®=48&lang=2
پی آئی بی بیک گراؤنڈر
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2233832®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2199729&lang=1®=3
کابینہ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1861127®=48&lang=2
انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے)
https://isa.int/who-we-are
نیتی آیوگ
https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2023-02/Brochure-10-pages-op-2-print-file-20102022.pdf
حکومت گجرات
https://gpcl.gujarat.gov.in/showpage.aspx?contentid=4354
https://cmogujarat.gov.in/en/latest-news/khavda-renewable-energy-park-gujarat-green-electricity
بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (آئرینا) ۔ (آئی آر ای این اے)
https://www.irena.org/-/media/Files/IRENA/Agency/Publication/2026/Mar/IRENA_DAT_RE_capacity_highlights_2026.pdf
https://www.irena.org/-/media/Files/IRENA/Agency/Publication/2026/Jul/IRENA_TEC_RPGC_2025_Executive_summary_2026.pdf
اقوام متحدہ فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی)
https://unfccc.int/news/international-solar-energy-alliance-launched-at-cop21
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)
https://www.adb.org/projects/44426-016/main
عالمی بینک
https://www.worldbank.org/en/news/press-release/2026/07/09/world-bank-supports-india-s-solar-rooftop-program-to-boost-clean-energy-create-jobs-and-unlock-private-capital
انڈیا برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن (آئی بی ای ایف)
https://www.ibef.org/news/india-surpasses-us-in-annual-solar-capacity-additions-becomes-second-largest-solar-growth-market-in-2025
بھادلہ سولر پارک کی تصویر
https://sauryaurja.com/1000-mw-bhadla-III
پی ایم-کسم ویڈیو
https://youtu.be/9YFnxvpO89Q?si=y9PfyIRqM7KsS-TQ
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
UR-1146
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2293469)
आगंतुक पटल : 9