PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

نکسل سے پاک ہندوستان

مربوط حکمت عملیوں نے بائیں بازو کی انتہا پسندی کو شکست دی

प्रविष्टि तिथि: 01 AUG 2026 11:28AM by PIB Delhi

ہندوستان نے بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے مؤثر طور پر نجات حاصل کرتے ہوئے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے اور اب ملک کا کوئی بھی ضلع بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ اضلاع میں شامل نہیں رہا۔ یہ کامیابی ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں سکیورٹی کارروائیاں، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، ہتھیار ڈالنے والےکیڈرز ( انتہا پسندوں) کی بازآبادکاری، قبائلی فلاح و بہبود اور بہتر طرزِ حکمرانی کو یکجا کیا گیا۔ اس مربوط نقطۂ نظر نے تشدد میں نمایاں کمی کی، دور دراز علاقوں میں حکومت کی موجودگی کو بحال کیا اور جامع ترقی کو فروغ دیا، جس سے امن اور خوشحالی کی  ایک مضبوط بنیاد قائم ہوئی۔

امن و سلامتی کا نیا دور

تقریباً چھ دہائیوں تک ہندوستان بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) کے چیلنج سے دوچار رہا۔ یہ کوئی دور رس یا محض نظریاتی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ لاکھوں قبائلی خاندانوں، سڑکوں اور اسکولوں سے محروم دیہات اور جامع ترقی کے وسیع تر وژن کے لیے ایک تلخ حقیقت تھا۔ تشدد معمول بن چکا تھا اور غیر یقینی صورتِ حال روزمرہ زندگی پر حاوی تھی۔

31 مارچ 2026 کو یہ صورتحال بدل گئی۔ اس روز ہندوستان نے اپنے داخلی سلامتی کے سفر میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے مؤثر طور پر نکسل ازم سے نجات حاصل کر لی۔ مئی 2014 میں موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے وقت ریڈ کوریڈور داخلی سلامتی کے سب سے سنگین چیلنجوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس سے قبل اختیار کی جانے والی حکمت عملیاں زیادہ تر بکھری ہوئی اور واقعات تک محدود تھیں، جو مسئلے کی بنیادی وجوہات کے بجائے صرف اس کی علامات سے نمٹتی تھیں۔ بعد ازاں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع، مربوط اور کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی گئی۔

گزشتہ بارہ برسوں کے دوران یہ تبدیلی تین باہم مربوط اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والے ستونوں پر استوار رہی۔

اوّل، اعتماد کی بحالی: اس مقصد کے لیے سیکورٹی کارروائیوں کو مؤثر بنایا گیا، مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کی گئی، ہتھیار ڈالنے اور سابق عسکریت پسندوں کی منظم بازآبادکاری کے نظام کو مضبوط کیا گیا، اور مقامی برادریوں سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا گیا۔

دوم، بنیادی ڈھانچے کی توسیع: اس کے تحت جسمانی اور ڈیجیٹل رابطوں کو فروغ دیا گیا، دور افتادہ علاقوں میں حکومتی اداروں کی رسائی اور موجودگی کو مضبوط بنایا گیا، اور پائیدار اقتصادی مواقع پیدا کیے گئے۔

سوم، عوامی فلاح و بہبود: اس کا محور متاثرہ آبادی کو باوقار زندگی، جامع عوامی خدمات، ثقافتی شمولیت اور قومی ترقی کے دھارے میں مؤثر شراکت کے مواقع فراہم کرنا تھا۔

ان تینوں ستونوں نے ایک دوسرے کو مسلسل تقویت بخشی۔ امن و امان کی بہتر صورتِ حال نے ترقی کی راہ ہموار کی، ترقی نے عوام کے اعتماد کو مستحکم کیا، اور اعتماد نے فلاحی خدمات کی مؤثر اور تیز تر فراہمی کو ممکن بنایا۔ یہ محض ایک سلسلہ وار عمل نہیں تھا بلکہ ترقی کا ایک مربوط اور باہم مربوط نظام تھا۔

ریاست  پر اعتماد بحال کرنا

اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد کمزور اور دور دراز علاقوں میں ریاست کی مستقل اور مؤثر موجودگی کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنا تھا۔ اس کے لیے سیکورٹی اداروں اور انتظامی نظام کے درمیان قریبی ہم آہنگی کو فروغ دیا گیا تاکہ بروقت اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس جامع حکمتِ عملی نے مقامی برادریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان برسوں سے موجود فاصلے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

2014 سے پہلے تشدد کی بلند ترین سطح

بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) کی جڑیں 1967 میں مغربی بنگال کے نکسل باڑی علاقے میں برپا ہونے والی بغاوت سے ملتی ہیں، جو ماؤ نواز نظریے اور مسلح انقلاب کے تصور سے متاثر تھی۔ اس تحریک کا بنیادی نعرہ یہ تھا کہ "سیاسی طاقت بندوق کی نالی سے نکلتی ہے۔"

نکسلی تنظیموں کے زیرِ استعمال تقریباً 92 فیصد ہتھیار پولیس سے لوٹے گئے اسلحے پر مشتمل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مختلف انتہا پسند تنظیمیں 2004 میں انضمام کے بعد سی پی آئی (ماؤ نواز) کے پلیٹ فارم پر متحد ہو گئیں، جس کے نتیجے میں بائیں بازو کی انتہا پسندی ہندوستان کی داخلی سلامتی کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں شمار ہونے لگی۔

2004 سے 2014 تک کا عشرہ بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) کی تاریخ کے پرتشدد ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ 2010 میں تشدد اپنے عروج پر پہنچ گیا، جب ایک ہی سال کے دوران 1,936 پرتشدد واقعات پیش آئے اور 720 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس پورے دہائی  میں مجموعی طور پر 17,542 پرتشدد واقعات، سیکورٹی فورسز کے 1,913 اہلکاروں کی شہادت اور 5,019 شہریوں کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی۔

اس عرصے میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کوئی جامع اور مستقل قومی پالیسی موجود نہیں تھی، جبکہ مختلف ریاستی حکومتیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ انداز میں کارروائیاں کر رہی تھیں۔ اس کے باوجود، حکومت نے 2009 میں پہلی بار عوامی سطح پر یہ تسلیم کیا کہ نکسل ازم ہندوستان کی داخلی سلامتی کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس کا جغرافیائی دائرۂ اثر کشمیر اور شمال مشرق کے شورش زدہ علاقوں سے بھی زیادہ وسیع ہو چکا تھا۔

پالیسی میں بنیادی تبدیلی: منتشر ردِعمل سے مربوط حکمتِ عملی تک

اس سلسلے میں پہلی فیصلہ کن پیش رفت 2015 میں اس وقت ہوئی جب بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی اور ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ اس اقدام نے سابقہ غیر منظم اور وقتی حکمتِ عملی کی جگہ ایک مربوط، جامع اور پوری حکومت پر مشتمل فریم ورک متعارف کرایا۔

اس پالیسی کے تحت مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی، جبکہ سیکورٹی سے متعلق اخراجات (ایس آر ای) اسکیم، خصوصی بنیادی ڈھانچہ اسکیم (ایس آئی ایس) اور خصوصی مرکزی امداد (ایس سی اے) اسکیم کے ذریعے مالی وسائل فراہم کیے گئے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف سیکورٹی کو مضبوط بنانا تھا بلکہ بائیں بازو کی انتہا پسندی کی سماجی اور معاشی بنیادی وجوہات کا بھی مؤثر تدارک کرنا تھا۔

2017 میں خصوصی مرکزی امداد (ایس سی اے) اسکیم کے آغاز سے اب تک تقریباً 4,289.20 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

اسی طرح خصوصی بنیادی ڈھانچہ اسکیم (ایس آئی ایس) کے تحت بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں میں خصوصی فورسز، خصوصی انٹیلی جنس شاخوں، ضلعی پولیس کی استعداد کار میں اضافے اور مضبوط پولیس تھانوں کی تعمیر کے لیے 1,761 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔

مزید برآں، 2014-15 سے سیکورٹی سے متعلق اخراجات (ایس آر ای) اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 3,805.04 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ رقوم آپریشنل ضروریات، سیکورٹی فورسز کی صلاحیت سازی اور تربیت، ہتھیار ڈالنے والے بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے ارکان کی بازآبادکاری، اور شہید سیکورٹی اہلکاروں اور متاثرہ شہریوں کے اہلِ خانہ کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔

پہلی بار ہندوستان نے بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف مکالمہ، سلامتی اور ترقی پر مبنی ایک منظم، جامع اور کثیر جہتی حکمتِ عملی اختیار کی۔ اس پالیسی کے نفاذ کی نگرانی وزارتِ داخلہ کے تحت ایک زیادہ مربوط اور مرکزی نظام کے ذریعے کی گئی، جس کے نتیجے میں مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہوئی اور پالیسی پر مؤثر عمل درآمد ممکن ہو سکا۔

ہندوستان کو نکسل ازم کے خوف اور تشدد سے آزاد کرنے کا مقصد مرکوز منصوبہ بندی اور مربوط کارروائی کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ 24 اگست 2024 کو حکومتِ ہند نے 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم سے مکمل طور پر پاک کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ یہ ہدف سخت سیکورٹی کارروائیوں، مضبوط بین الادارہ جاتی ہم آہنگی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور ترقیاتی منصوبوں کے تیز رفتار نفاذ کی بدولت مقررہ مدت کے اندر کامیابی سے حاصل کر لیا گیا۔

سکیورٹی گرڈ کی تعمیر

حکومت نے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، خصوصی فورسز کی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور آپریشنل سطح پر بہتر ہم آہنگی کو فروغ دے کر نکسل ازم سے متاثرہ علاقوں میں موجود سیکورٹی خلا کو منظم انداز میں پُر کیا۔ اس مربوط حکمتِ عملی کے نتیجے میں ریڈ کوریڈور میں ریاستی اداروں کی موجودگی مزید مضبوط ہوئی، سیکورٹی فورسز کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا ہوئی، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا نظام مؤثر بنا اور انسدادِ شورش کارروائیوں کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

2014 سے قبل جہاں صرف 66 مضبوط (قلعہ بند) پولیس اسٹیشن تعمیر کیے گئے تھے، وہیں اس کے بعد 663 قلعہ بند پولیس اسٹیشن قائم کیے گئے۔ مزید برآں، گزشتہ سات برسوں کے دوران سیکورٹی گرڈ کو مزید مستحکم بنانے، علاقوں پر مؤثر کنٹرول قائم رکھنے اور دور دراز جنگلاتی خطوں میں مسلسل کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے 408 نئے سیکورٹی کیمپ قائم کیے گئے۔

اس کے علاوہ، دور افتادہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی فوری تعیناتی، اہلکاروں کی نقل و حرکت، زخمیوں کے انخلا اور فضائی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے 68 نائٹ لینڈنگ ہیلی پیڈ تعمیر کیے گئے۔ سیکورٹی فورسز کو 400 بلٹ پروف اور دھماکا مزاحم گاڑیاں فراہم کی گئیں، جبکہ ان کی فلاح و بہبود اور طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے پانچ جدید اسپتال بھی تعمیر کیے گئے۔

خصوصی فورسز کا مربوط انضمام: کوبرا، ڈی آر جی، ایس ٹی ایف اور گرے ہاؤنڈز

انسدادِ نکسل کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک کثیر سطحی اور خصوصی سیکورٹی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا، جس میں سی آر پی ایف کی کمانڈو بٹالین فار ریزولیوٹ ایکشن (کوبرا)، ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ (ڈی آر جی)، جھارکھنڈ جیگوار، چھتیس گڑھ پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اور آندھرا پردیش کی معروف گرے ہاؤنڈز فورس کو ایک مربوط نظام کے تحت یکجا کیا گیا۔

ڈی آر جی، ایس ٹی ایف، سی آر پی ایف اور کوبرا فورسز کی مشترکہ تربیت کے نتیجے میں ایک ایسی مربوط اور باہمی طور پر ہم آہنگ فورس تشکیل دی گئی، جو واضح کمانڈ ڈھانچے کے تحت مؤثر انداز میں کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ٹیکنالوجی:گیم چینجر ( فیصلہ کن تبدیلی کا ذریعہ)

2014 کے بعد مرکزی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کے ذریعے انسدادِ نکسل کارروائیوں میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں (یو اے وی/ڈرون)، سیٹلائٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیٹا تجزیے نے حقیقی وقت میں نگرانی اور انتہائی درست معلومات حاصل کرنا ممکن بنایا۔

اس کے ساتھ ساتھ جدید لوکیشن ٹریکنگ نظام، سائنسی بنیادوں پر کال لاگ کا تجزیہ، موبائل ڈیٹا اینالیٹکس اور سوشل میڈیا کی نگرانی کو بھی مؤثر انداز میں بروئے کار لایا گیا۔ وزارتِ داخلہ نے نقل و حرکت کی نگرانی، مواصلاتی سرگرمیوں کے تجزیے اور آپریشنل صلاحیت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی معلومات سے بھرپور استفادہ کیا۔

پتہ لگانے، ہدف بنانے اور غیر مؤثر بنانے  کے لیے اہم آپریشن

حکومت کی "ٹریس، ٹارگٹ، نیوٹرلائز" (سراغ لگاؤ، ہدف بناؤ، غیر مؤثر بناؤ) حکمتِ عملی نے نمایاں نتائج برآمد کیے۔ مسلسل سیکورٹی کارروائیوں اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کی بدولت حکومت نے ایسے متعدد علاقوں پر دوبارہ مؤثر کنٹرول قائم کیا جو تین دہائیوں سے زائد عرصے تک بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے اثر و رسوخ میں رہے تھے۔

آپریشن بلیک فارسٹ، آپریشن آکٹوپس، آپریشن ڈبل بُل، آپریشن تھنڈر اسٹورم، آپریشن بھیم برگ اور آپریشن چکربندھا سمیت مربوط سیکورٹی کارروائیوں کے ایک سلسلے نے ماؤنواز نیٹ ورک کو اس کے مضبوط گڑھوں میں نمایاں طور پر کمزور کر دیا۔

ان کارروائیوں میں آپریشن بلیک فارسٹ ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جس کے دوران ماؤنوازوں کے ایک بڑے محفوظ ٹھکانے کا خاتمہ کیا گیا۔ اس آپریشن میں 30 سے زائد ماؤنواز ہلاک ہوئے، جبکہ گرفتاریوں اور ہتھیار ڈالنے کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اسی طرح آپریشن ڈبل بُل کے نتیجے میں جھارکھنڈ کے گملا، لوہردگا اور لتیہار اضلاع کو نکسل ازم سے پاک قرار دیا گیا۔

مجموعی طور پر ان کارروائیوں نے طویل عرصے سے متاثرہ علاقوں میں ریاستی اداروں کی مؤثر موجودگی بحال کی، انتہا پسند تنظیموں کے اثر و رسوخ کو کمزور کیا اور بہتر امن و امان، مؤثر طرزِ حکمرانی اور تیز رفتار ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔

سپورٹ سسٹم کو ختم کرنا

مرکزی حکومت نے ایک جامع طریقۂ کار اپنایا، جس میں تمام ایجنسیوں کو شامل کیا گیا۔ اس کے تحت نہ صرف مسلح کیڈرز کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کی حمایت کرنے والے پورے ماحولیاتی نظام کو بھی ہدف بنایا گیا۔ ترقی کے شعبے میں اس کا مطلب تھا کہ پوری حکومت مل کر کام کرے، جبکہ سکیورٹی آپریشنز کے لیے تمام ایجنسیوں کے درمیان مربوط حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔

نکسلی فنڈنگ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے اندر ایک خصوصی ونگ قائم کیا گیا تھا۔ دسمبر 2025 تک، این آئی اے نے 40 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے ضبط کیے تھے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 12 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط کیے، جبکہ ریاستی ایجنسیوں نے مزید 40 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کیے۔ دسمبر 2025 تک، بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای )سے متعلق 111 مقدمات کی تحقیقات کی گئیں اور 98 چارج شیٹس داخل کی گئیں۔ جون 2026 تک، این آئی اے کے زیرِ تفتیش مقدمات کی مجموعی تعداد 112 تک پہنچ گئی تھی، جن میں 100 چارج شیٹس داخل کی جا چکی تھیں۔

ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے نئی زندگی کا موقع

حکومت کی سخت سیکورٹی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایک مؤثر بحالی اور بازآبادکاری کی پالیسی بھی اختیار کی گئی، جس کا واضح پیغام تھا:

"جو ہتھیار ڈالے، اس کے لیے خوش آمدید کے دروازے کھلے ہیں۔"

اس پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے اعلیٰ درجے کے ماؤنواز کیڈروں کو 5 لاکھ روپے اور دیگر ارکان کو 2.5 لاکھ روپے کی فوری مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں 36 ماہ تک 10 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی کا آغاز کر سکیں۔

مزید برآں، ہتھیار ڈالنے پر 50 ہزار روپے کی اضافی ترغیبی رقم بھی دی جاتی ہے، جبکہ ہتھیار جمع کرانے پر الگ سے مالی مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر کسی گروہ کی جانب سے اجتماعی طور پر ہتھیار ڈالے جائیں تو یہ ترغیبی رقم دوگنی کر دی جاتی ہے۔

حکومت کی بحالی اور بازآبادکاری کی پالیسی نے ہتھیار ڈالنے والے ماؤنواز کارکنوں کی تعداد میں مسلسل اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صرف 2025 کے دوران 2,337 نکسلیوں نے ہتھیار ڈالے، جبکہ 2024 سے مارچ 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 3,927 کارکنوں نے خودسپردگی اختیار کی۔

ان اقدامات کی کامیابی میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، صحافیوں، مقامی کمیونٹی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی مسلسل کوششوں سے بحالی کے عمل پر اعتماد میں اضافہ ہوا اور متاثرہ افراد کو قومی دھارے میں دوبارہ شامل ہونے کی ترغیب ملی۔

حالیہ پیش رفتوں نے سخت سیکورٹی کارروائیوں اور مؤثر بحالی کی پالیسی پر مبنی اس مشترکہ حکمتِ عملی کی کامیابی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

28 جولائی 2026 کو "نئی دشا، نئی پہل" نکسل مخالف مہم کے تحت کولہان اور لتیہار علاقوں سے تعلق رکھنے والے 16 سرگرم ماؤنوازوں نے رانچی میں ہتھیار ڈال دیے۔

ہتھیار ڈالنے والوں میں ایک علاقائی کمانڈر، تین زونل کمانڈر، تین سب زونل کمانڈر، چھ ایریا کمانڈر اور تین عام کیڈر شامل تھے۔ ان افراد نے 11 جدید آتشیں اسلحہ، 38 میگزین اور 1,562 راؤنڈ گولہ بارود سیکورٹی فورسز کے حوالے کیا۔

اس کے اگلے ہی روز، 29 جولائی 2026 کو 49 لاکھ روپے کے مجموعی انعامی اعلان کے حامل مزید آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جو بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف جاری مہم کی ایک اور اہم کامیابی ثابت ہوئی۔

اسی روز سیکورٹی فورسز نے دھنباد-گریڈیہہ سرحدی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ماؤنواز تنظیم کے ایک سینئر رہنما اور پولیٹ بیورو کے رکن کو گرفتار کیا، جس پر ایک کروڑ روپے کا انعام مقرر تھا۔

اسی انٹیلی جنس پر مبنی مشترکہ کارروائی کے دوران علاقائی کمیٹی کے ایک رکن کو بھی گرفتار کیا گیا، جس پر 15 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ اس کے علاوہ ایک ماؤنواز کیڈر اور دو دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔

یہ سیکورٹی کامیابیاں صرف امن و امان کی بحالی تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے طویل المدتی ترقی کی مضبوط بنیاد بھی فراہم کی۔

ہر نیا قلعہ بند پولیس اسٹیشن، ہر سی اے پی ایف سیکورٹی کیمپ اور ہر ہتھیار ڈالنے والا ماؤنواز کیڈر ان علاقوں تک ریاستی نظم و نسق اور حکومتی خدمات کی رسائی میں اضافے کا ذریعہ بنا، جو ماضی میں انتظامی نظام کی پہنچ سے باہر تھے۔

امن و استحکام کے قیام نے قبائلی علاقوں تک سڑکوں، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولتوں، بینکاری خدمات اور ڈیجیٹل رابطوں کی توسیع کی راہ ہموار کی۔ یوں امن، استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی نے بعد میں آنے والی وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔

نئے مستقبل کی تعمیر: بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ کاری

نکسل ازم کے خاتمے کا مقصد صرف مسلح انتہا پسندوں کا قلع قمع کرنا نہیں تھا، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی تھا کہ ملک کے بڑے شہروں میں دستیاب ترقیاتی سہولتیں دور دراز علاقوں میں رہنے والی قبائلی برادریوں تک بھی پہنچیں، تاکہ ان کے بچوں کو بھی روشن اور باوقار مستقبل میسر آ سکے۔

اسی مقصد کے تحت اس مرحلے میں دور افتادہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، رابطہ کاری میں توسیع اور حکومتی خدمات کی رسائی کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے نتیجے میں بنیادی سہولتوں، سڑکوں، مواصلاتی ذرائع اور ڈیجیٹل نیٹ ورک تک عوام کی رسائی بہتر ہوئی، جبکہ پہلے سے محروم اور غیر محفوظ علاقوں کو قومی ترقی اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے دھارے سے جوڑنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔

سڑک کے رابطے:

بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کے رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے دو خصوصی اسکیموںروڈ ریکوائرمنٹ پلان (آر آر پی) اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کے لیے روڈ کنیکٹیویٹی پروجیکٹ (آر سی پی ایل ڈبلیو ای اے)کے تحت مجموعی طور پر 15,189 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں، جس سے دور دراز علاقوں کو بہتر آمد و رفت اور ترقیاتی سرگرمیوں سے جوڑنے میں مدد ملی۔

ڈیجیٹل اور موبائل رابطے کی توسیع:

آج کے دور میں ٹیلی مواصلاتی سہولتیں سماجی و اقتصادی ترقی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں، جبکہ دیہی اور قبائلی علاقوں میں ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی سہولتیں ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے، تعلیم اور صحت کی خدمات تک رسائی آسان بنانے اور روزگار و معاشی مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

اسی مقصد کے تحت 9,497 موبائل ٹاورز قائم کیے گئے۔ نتیجتاً، بائیں بازو کی انتہا پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے 96 فیصد دیہات یعنی 46,592 میں سے 44,728 دیہات اب موبائل رابطے سے مستفید ہو رہے ہیں، جس سے آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل خدمات اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

مالی شمولیت کا فروغ:

گزشتہ بارہ برسوں کے دوران مرکزی حکومت نے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع میں مالی شمولیت کو نمایاں طور پر وسعت دی۔ اپریل 2015 سے مارچ 2026 کے درمیان:

  • 1,804 نئی بینک شاخیں قائم کی گئیں۔
  • 1,321 اے ٹی ایم نصب کیے گئے۔
  • 74,720 بینکنگ نامہ نگار تعینات کیے گئے۔
  • 6,025 ڈاک خانے قائم کیے گئے۔

ان اقدامات نے بینکاری خدمات کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے اور مقامی آبادی کو رسمی مالیاتی نظام سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی:

قبائلی نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے گزشتہ بارہ برسوں میں حکومتِ ہند نے 259 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) کی منظوری دی، جن میں سے 179 اسکول فعال ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ان علاقوں میں 47 صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئی) اور 49 ہنرمندی کے فروغ کے مراکز (ایس ڈی سی) قائم کیے گئے، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔

ان اداروں نے قبائلی نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے ذریعے دور دراز علاقوں کو قومی معیشت سے جوڑنے میں مدد ملی۔ اب تک 90 ہزار سے زائد نوجوانوں اور خواتین کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔

قبائلی نوجوانوں کے تبادلہ پروگرام (ٹی وائی ای پی) کے تحت سابقہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کے قبائلی نوجوانوں کو ملک کے مختلف حصوں کے مطالعاتی اور تعارفی دوروں پر بھیجا جاتا ہے، تاکہ ان میں قومی یکجہتی، ثقافتی شعور اور ترقیاتی عمل سے آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔

2014 سے اب تک 37,655 قبائلی نوجوان اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں۔

سِوک ایکشن پروگرام

سِوک ایکشن پروگرام کے تحت حکومتِ ہند مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کو ان کے تعیناتی والے علاقوں میں عوامی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

ان سرگرمیوں میں طبی کیمپوں کا انعقاد، کھیلوں کے مقابلے، اور مقامی آبادی میں ضروری اشیائے ضرورت کی تقسیم شامل ہے۔

2014 سے اب تک اس پروگرام کے تحت 221.88 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور سیکورٹی فورسز کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا اور دونوں کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے میں مدد ملی۔

ان علاقوں میں تعمیر ہونے والی سڑکیں، قائم کیے گئے موبائل ٹاورز، بینکاری سہولتوں کی توسیع اور تعلیمی اداروں کے قیام نے عوامی فلاح و بہبود پر براہِ راست مثبت اثرات مرتب کیے۔ ان اقدامات نے ایک ایسا مضبوط جسمانی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کیا جس کی بنیاد پر عوامی بہبود، باوقار زندگی، سماجی شمولیت اور قبائلی معاشرے کی ثقافتی ترقی کو فروغ دینا ممکن ہوا۔

متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی مجموعی ترقی نے علاقائی یکجہتی کو مزید مضبوط کیا، بہتر رابطہ کاری نے اقتصادی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کو فروغ دیا، جبکہ طویل مدتی سرمایہ کاری نے پائیدار، جامع اور متوازن ترقی کی راہ ہموار کی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

فی الحال، ہندوستان میں 37 اضلاع کو "وراثتی" اور "توجہ طلب" اضلاع کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے، جہاں سیکورٹی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے مسلسل تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ ایک ضلع کو "ضلعِ تشویش" کے طور پر نامزد کیا گیا ہے تاکہ مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور حاصل شدہ کامیابیوں کو برقرار رکھتے ہوئے مزید پیش رفت کو فروغ دیا جا سکے۔

عوامی فلاح و بہبود اور وقار

حکمتِ عملی کے اس آخری ستون کا مقصد عوامی فلاح و بہبود کو عزتِ نفس، شمولیت اور مساوات کے ساتھ یقینی بنانا ہے۔ اس کے تحت محروم طبقات تک آخری مرحلے تک خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط کیا گیا ہے، تاکہ ضروری عوامی سہولتوں تک سبھی کی مساوی رسائی ممکن ہو سکے۔

قبائلی روزگار اور معاشی استحکام کو فروغ

قبائلی فلاح و بہبود پر مسلسل توجہ نے ترقی کے عمل کو تیز کرنے، مواقع تک رسائی بہتر بنانے اور قبائلی برادریوں اور جمہوری اداروں کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیکورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ترقیاتی فوائد دور دراز قبائلی علاقوں تک پہنچیں، جن میں بہتر تعلیم، بنیادی ڈھانچہ، صحت کی سہولتیں، رہائش اور روزگار کے مواقع شامل ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے ماؤنواز کارکنوں کے لیے بحالی کے جامع نظام کے تحت ہنرمندی کی تربیت، روزگار سے متعلق معاونت، پردھان منتری آواس یوجنا کے ذریعے رہائشی سہولت اور خود روزگار کے لیے مالی مدد فراہم کی گئی، تاکہ انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں دوبارہ شامل ہونے میں مدد مل سکے۔

ان دیہاتوں کو ترقیاتی گرانٹ فراہم کی گئیں جنہوں نے نکسل اثر و رسوخ سے نجات حاصل کی اور جمہوری طور پر منتخب پنچایتوں کا قیام عمل میں لایا۔ ہتھیار ڈالنے والے کیڈروں کے بچوں کو بارہویں جماعت تک مفت تعلیم فراہم کی گئی، جس سے ان خاندانوں کو محفوظ اور بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد ملی۔

متعدد خصوصی اقدامات نے اس تبدیلی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا۔ قومی پالیسی اور ایکشن پلان نے سیکورٹی، ترقی اور کمیونٹی کے حقوق کے تحفظ کو ایک مربوط فریم ورک میں یکجا کیا۔ خصوصی مرکزی امداد (ایس سی اے)کے ذریعے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں اہم عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو فروغ دیا گیا۔

امنگوں والے اضلاع کے پروگرام نے صحت، تعلیم، مالی شمولیت اور رابطہ کاری جیسے شعبوں میں بہتری کے لیے مختلف فلاحی اسکیموں کو مربوط انداز میں نافذ کیا۔

تعلیم تبدیلی کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھری۔ ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس)کے لیے بہتر تعاون نے درج فہرست قبائل کے بچوں، بالخصوص بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے طلبہ، کو معیاری رہائشی تعلیم تک رسائی فراہم کی۔

پی ایم جن من (پی ایم ۔ جے اے این ایم اے این ) پہل کے ذریعے خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں (پی وی ٹی جیز )پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی، جس کے تحت رہائش، صاف پینے کے پانی، تعلیم، صحت کی سہولتوں اور ضروری رابطہ کاری تک رسائی بہتر بنانے کے اقدامات کیے گئے۔ اس سے محروم طبقات کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملی۔

دھرتی آبا جنجاتیہ گرام اتکرش ابھیان کے آغاز سے قبائلی دیہاتوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کو دور کرنے اور ترقیاتی رفتار کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کو تقویت ملی۔

مختلف وزارتوں کی مشترکہ اور مربوط کوششوں کے ذریعے ان پروگراموں کا مقصد معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، معاشی مواقع کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قبائلی برادریاں ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں مکمل اور مؤثر شراکت دار بن سکیں۔

کیس اسٹڈی: چھتیس گڑھ کا نکسل ازم سے ترقی تک کا سفر

کئی دہائیوں تک چھتیس گڑھ کا بستر علاقہ ملک کے سب سے زیادہ نکسل متاثرہ خطوں میں شمار ہوتا رہا۔ محدود رابطہ کاری، کمزور انتظامی موجودگی اور دشوار گزار جغرافیائی حالات نے انتہا پسند تنظیموں کو یہاں مضبوط بنیادیں قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔

گزشتہ بارہ برسوں کے دوران سیکورٹی، ترقی اور قبائلی شراکت داری پر مبنی مربوط حکمتِ عملی نے اس خطے کے حالات میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔

سال 2017 میں بستریہ بٹالین کا قیام ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس بٹالین میں 1,143 اہلکار شامل کیے گئے، جن میں بیجاپور، سکما اور دنتے واڑہ اضلاع کے تقریباً 400 مقامی نوجوان بھی شامل تھے۔

مقامی نوجوانوں کی شمولیت نے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کیا، سیکورٹی فورسز اور قبائلی برادریوں کے درمیان اعتماد میں اضافہ کیا اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔

جیسے جیسے سیکورٹی کی صورتِ حال میں بہتری آئی، ترقیاتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی۔ بستر کے پورے خطے، جس میں بستر، بیجاپور، دنتے واڑہ، سکما، نارائن پور، کانکیر اور کونڈا گاؤں اضلاع شامل ہیں، میں 3,240 کلومیٹر سے زائد سڑکیں تعمیر کی گئیں۔

اس کے علاوہ ڈیجیٹل رابطے کو فروغ دینے کے لیے 889 موبائل ٹاورز نصب کیے گئے۔ وہ گاؤں جو کبھی جغرافیائی اور انتظامی طور پر الگ تھلگ سمجھے جاتے تھے، اب بازاروں، اسکولوں، صحت کی سہولتوں، بینکاری خدمات اور مختلف سرکاری اسکیموں سے منسلک ہو چکے ہیں۔

حکومت نے ہتھیار ڈالنے والے کارکنوں کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام پر بھی خصوصی توجہ دی۔ تقریباً 3,000 ہتھیار ڈالنے والے کیڈروں کے لیے ایک خصوصی منصوبہ تیار کیا گیا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ اس منصوبے کے تحت ہنرمندی کی ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی، تاکہ تشدد کے راستے کو معاشی خود کفالت اور باوقار زندگی کے مواقع سے تبدیل کیا جا سکے۔

مئی 2026 میں سیکورٹی کامیابیوں کو دیرپا ترقی میں تبدیل کرنے کے مقصد سے شہید ویر گنڈا دھور سیوا ڈیرہ پہل کا آغاز کیا گیا۔ اس کے تحت تقریباً 70 سی اے پی ایف کیمپوں کو ایسے خدمت مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں سرکاری اسکیموں، صحت کی سہولتوں، بینکاری خدمات، زرعی معاونت، ہنرمندی کے فروغ اور دیگر شہری سہولتوں تک رسائی فراہم کی جا سکے گی۔

ویر گنڈا دھور کی جائے پیدائش نیتانار میں کامن سروس سینٹر کا قیام ان علاقوں میں حکمرانی اور عوامی خدمات کی واپسی کی علامت ہے، جو طویل عرصے تک انتہا پسندی سے متاثر رہے۔

بنیادی ڈھانچے اور فلاحی اقدامات کے ساتھ ساتھ بستر پنڈم اور بستر اولمپکس جیسے ثقافتی پروگراموں نے کمیونٹی کی شمولیت اور قبائلی شناخت کو مزید مضبوط کیا۔ ان پلیٹ فارموں نے لاکھوں قبائلی نوجوانوں اور فنکاروں کو ایک ساتھ آنے کا موقع فراہم کیا، سماجی اتحاد کو فروغ دیا اور قیادت و شرکت کے نئے امکانات پیدا کیے۔

بستر کی تبدیلی اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار امن صرف سیکورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ ترقی، فلاحی خدمات کی مؤثر فراہمی اور مقامی برادریوں کو بااختیار بنانے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ چھتیس گڑھ کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلسل حکومتی موجودگی، مقامی شراکت داری اور جامع ترقی کس طرح تنازعات سے متاثرہ علاقوں کو امن، ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کر سکتی ہے۔

تبدیلی کی دہائی کے نتائج

بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ اضلاع کی تعداد 2014 میں 126 تھی، جو کم ہو کر مارچ-اپریل 2026 تک صفر رہ گئی۔ اسی طرح سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کی تعداد بھی 35 سے کم ہو کر صفر ہو گئی، جو ملک کے سیکورٹی منظرنامے میں ایک تاریخی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

اس تبدیلی کے اثرات تشدد کے تمام اہم اشاریوں میں نمایاں طور پر دیکھے گئے۔ سال 2010 نکسل ازم کی تاریخ کے سب سے زیادہ مہلک ادوار میں شمار ہوتا ہے، جب 1,936 نکسلی واقعات اور 1,005 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اس کے بعد مسلسل سیکورٹی کارروائیوں، ترقیاتی اقدامات اور بہتر حکمرانی کے نتیجے میں بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کا نیٹ ورک نمایاں طور پر کمزور ہوا۔ نکسلی واقعات کی تعداد 2014 میں 870 سے کم ہو کر 2026 میں صرف 33 رہ گئی (29 جولائی 2026 تک)۔ اسی مدت کے دوران اموات کی تعداد 310 سے کم ہو کر 11 رہ گئی۔

تشدد میں یہ مسلسل کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نکسل تنظیموں کی آپریشنل صلاحیت کمزور ہوئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی، رابطہ کاری اور عوامی اعتماد بتدریج بحال ہوا ہے۔

یہ رجحان مجموعی طور پر سیکورٹی ماحول میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ علاقے جو کبھی بار بار تشدد کا شکار رہتے تھے، اب امن، استحکام اور عوامی تحفظ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ہندوستان کی سلامتی اور ترقی کی کہانی کا ایک اہم باب

نکسل ازم سے پاک ہندوستان کی جانب پیش رفت ملک کی آزاد تاریخ میں داخلی سلامتی کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ یہ مضبوط قیادت، مستقل پالیسی پر عمل درآمد اور ایسی کثیر جہتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے جس میں سیکورٹی، ترقی اور بحالی کو یکجا کیا گیا۔

گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان نے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے اپنے طریقۂ کار کو محض ردِعمل پر مبنی حکمتِ عملی سے تبدیل کرکے فعال اور فیصلہ کن خاتمے کی پالیسی میں بدل دیا ہے۔

اب ایک نئے سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔ نکسل سے پاک ہندوستان کا حصول صرف ایک شورش کے خاتمے کی داستان نہیں، بلکہ ملک کی سب سے زیادہ کمزور اور محروم برادریوں کے لیے امن، شمولیت اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

حوالہ جات:

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

***

 

UR-1097

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2293066) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati