بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں اور اندرون ملک اقتصادی راہداریاں

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 3:41PM by PIB Delhi

حکومت بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) اور دیگر متعلقہ وزارتوں و محکموں پر مشتمل ادارہ جاتی نظام کے ذریعے عالمی بحری تجارت اور لاجسٹکس پر جغرافیائی سیاسی پیش رفت کے اثرات کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔وزارت تجارت کے تحت تشکیل دی گئی ایک بین وزارتی کمیٹی(آئی ایم جی)—جس میں وزارت خارجہ(ایم ای اے)، وزارت پورٹس، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں(ایم او پی ایس اینڈ ڈبلیو)، وزارت شہری ہوا بازی(ایم او سی اے)، وزارت پٹرولیم اینڈ نیچرل گیس(ایم او پی این جی) ، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، سینٹرل بورڈ آف انڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز(سی بی آئی سی)، ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن آف انڈیا(ای سی جی سی)، ڈپارٹمنٹ فار پروموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ(ڈی پی آئی آئی ٹی)، ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(اے پی ای ڈی اے)  ڈپارٹمنٹ آف فنانشل سروسز(ڈی ایف ایس) اور کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا(سی او این سی او آر) شامل ہیں—جوبدلتے ہوئے حالات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہے، بحری تجارت اور سپلائی چینز پر اس کے اثرات کا اندازہ لگاتی ہے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نپٹنے کے لیے مربوط اقدامات میں سہولت فراہم کرتی ہے۔

جائزہ لینے کے اس طریقہ کار میں بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں، برآمد و درآمدی سامان کی نقل و حرکت، بندرگاہوں کے آپریشنز، لاجسٹکس، مال برداری اور بیمہ کے اخراجات، نیز بحری تجارت پر منحصر مختلف شعبوں میں سپلائی چینز کے تسلسل سے متعلق امور شامل ہیں۔ان جائزوں کی بنیاد پر حکومت نے سامان کی بلاتعطل نقل و حرکت کو آسان بنانے اور سپلائی چین کی مضبوطی میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد مربوط اقدامات کیے ہیں، جن میں بڑی بندرگاہوں پر آپریشنل تعاون، گراؤنڈ رینٹ اور ڈیمرج چارجز سے چھوٹ، ریل رابطے کے ذریعے کنٹینروں کی نکاسی میں سہولت، تجارت کو آسان بنانے کے اقدامات، اور متعلقہ وزارتوں، اداروں اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے لاجسٹکس اخراجات کو کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات ضمیمہ میں منسلک ہیں۔

ضمیمہ

سامان کی بلاتعطل نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے حکومت ہند کی جانب سے کیے گئے اقدامات:

محکمہ تجارت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے ایکسپورٹ پروموشن کیپیٹل گڈز (ای پی سی جی) اور ایڈوانس اتھارائزیشن اسکیموں کے لیے برآمد کی ذمہ داری کی مدت میں توسیع کی، جو یکم مارچ 2026 سے 31 مئی 2026 کے درمیان ختم ہو رہی تھی۔ اس مدت کو بڑھا کر 31 اگست 2026 تک کر دیا گیا، جس کے تحت 1,017 ای پی سی جی اور 7,400 ایڈوانس اتھارائزیشن شامل ہیں۔ڈی جی ایف ٹی نے آر او ڈی ٹی ای پی کی شرحوں کو بحال کیا؛ ایک خصوصی مہم کے ذریعے 21,370 ای پی سی جی اور ایڈوانس اتھارائزیشن کی برآمدی ذمہ داریاں مکمل کیں، جس کے نتیجے میں زیر التوا بینک گارنٹیوں میں پھنسے ہوئے فنڈز جاری ہو سکے۔زرعی اور پراسیس شدہ غذائی مصنوعات برآمدی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے برآمد کنندگان کے لیے ہیلپ لائن چلائی؛ حکومت نے خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) اور فری ٹریڈ ویئر ہاؤسنگ زونز (ایف ٹی ڈبلیو زیڈز) میں جواہرات اور زیورات کی درآمد اور ذخیرہ کاری کی اجازت دی۔

مرکزی بورڈ برائے بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز (سی بی آئی سی) نے واپس کیے گئے اور روٹ تبدیل کیے گئے کارگو سے متعلق وضاحتیں جاری کیں اور فیس میں چھوٹ اور کارگو ہینڈلنگ میں سہولت کو 30 جون 2026 تک بڑھا دیا۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) / محکمہ مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس) نے برآمدی قرض کی مدت کو 270 دن سے بڑھا کر 450 دن کرنے کی سہولت کو 5 جون 2026 تک جاری رکھا اور ایم ایس ایم ایز کے لیے نقدی کی دستیابی کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) 5.0 متعارف کی۔

بڑی بندرگاہوں نے گراؤنڈ رینٹ اور ڈیمرج چارجز(کارگو/کنٹینر رکھنے کا کرایہ اور تاخیر کے اضافی اخراجات) پر 100 فیصد چھوٹ اور ریفر چارجز پر 80 فیصد چھوٹ دی۔ کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا (کونکر) اور ریلوے نے رکاوٹوں کی وجہ سے رکے ہوئے کنٹینروں پر چارجز معاف کیے اور بندرگاہوں پر تقریباً 10,000 کنٹینروں کی کلیئرنس میں سہولت فراہم کرنے کے لیےمال برداری کے لیے خصوصی کوریڈور پر ڈبل اسٹیک(دوہری تہہ والی کنٹینر مال برداری خدمات) خدمات شروع کیں۔

کابینہ نے ایک گھریلو بحری بیمہ پول کے لیے تقریباً 1.5 بلین امریکی ڈالر کی خودمختار ضمانت کی منظوری دی، جس سے برآمدات کے لیے مال برداری اور بیمہ کے اخراجات میں کمی آئے گی۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت (ایم او پی این جی) نے ایک ہنگامی سیل کو فعال کیا اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر اور قدرتی گیس سپلائی ریگولیشن آرڈر جاری کیا۔

محکمہ محصولات نے 15 جولائی 2026 تک 40 اہم پیٹرو کیمیکل مصنوعات پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی کو کم کر کے صفر کر دیا۔

یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

***

ش ح۔م ع ن۔ ت ع

U- 1054


(रिलीज़ आईडी: 2292666) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी