جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل سنچئے جن بھاگیداری: کیچ دی رین کے تحت وجیانگرم میں عوامی شراکت داری سے زیر زمین پانی کی بحالی

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 5:57PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے من کی بات کے 135ویں ایڈیشن میں ‘‘کیچ دی رین’’  کی رفتار کو برقرار رکھنے کی اپیل سے متاثر ہو کر، ملک بھر میں برادریوں نے جل سنچئے جن بھاگیداری: کیچ دی رین (جے ایس جے بی : سی ٹی آر) مہم کے تحت اپنی کوششوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ آندھرا پردیش کے وجیانگرم ضلع نے اس بات کی ایک نمایاں مثال پیش کی ہے کہ کس طرح جن بھاگیداری (عوامی شراکت داری)، سائنسی آبی انتظام اور سرکاری پروگراموں کے باہمی اشتراک سے زیرِ زمین پانی کی بحالی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے اور طویل مدتی آبی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

جل دھارا جلا ہارتی پروگرام کے تحت، جسے مختلف سرکاری پروگراموں کے اشتراک سے نافذ کیا گیا، ضلع نے روایتی چھوٹے آبپاشی تالابوں اور ان سے منسلک پانی کی رسائی والی نالیوں کی بحالی کا کام کیا۔ اس کا مقصد صرف سطحی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا نہیں تھا بلکہ قدرتی پانی کے دوبارہ زمین میں جذب ہونے کے نظام کو بحال کرنا بھی تھا، جو زیرِ زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ضلع نے پانی کے تحفظ کے 8,973 کام مکمل کیے، جن میں 6,424 چھوٹے آبپاشی تالابوں اور 2,549 پانی کی رسائی والی نالیوں کی بحالی شامل ہے۔ ان کاموں کے ذریعے 1.28 کروڑ انسانی روزگار کے دن پیدا ہوئے، جبکہ زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کے لیے پائیدار اثاثے بھی تیار کیے گئے۔

بڑے پیمانے پر مٹی نکالنے اور بحالی کے کاموں کے نتیجے میں تقریباً 109.9 لاکھ مکعب میٹر مٹی ہٹائی گئی، 82.48 لاکھ مربع میٹر رقبے سے نباتات صاف کی گئیں اور 2,090 کلومیٹر سے زیادہ پانی کی رسائی والی نالیوں کو بحال کیا گیا، جس سے بارش کا پانی بہہ کر ضائع ہونے کے بجائے آزادانہ طور پر تالابوں اور پانی کے دوبارہ جذب ہونے والے علاقوں تک پہنچنے لگا۔

ان اقدامات سے ضلع بھر میں زیرِ زمین پانی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔ بحال کیے گئے تالابوں کے نظام سے 0.70 ٹی ایم سی اضافی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہونے کا امکان ہے، جبکہ بحال شدہ پانی کی رسائی والی نالیوں اور تالابوں کے مشترکہ اثر سے تقریباً 0.60 ٹی ایم سی زیرِ زمین پانی کی بحالی میں مدد ملنے کی توقع ہے، جس سے آبی ذخائر کی دوبارہ بھرائی میں اضافہ ہوگا اور مقامی آبی وسائل کو بار بار آنے والی خشک سالی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا جا سکے گا۔

زیرِ زمین پانی کے انتظام کیلئے مقررہ کردہ ہدف کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، ضلع نے 193 زیرِ زمین پانی کی کمی والے دیہاتوں کو ترجیح دی، جہاں بحالی کے کاموں کے تحت 596 پانی کی رسائی والی نالیوں اور 1,767 چھوٹے آبپاشی تالابوں کا احاطہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، 94 کاسکیڈ تالاب نظام کو بحال کیا گیا تاکہ آبی ذخائر کے درمیان قدرتی ہائیڈرولوجیکل رابطے کو دوبارہ قائم کیا جا سکے، جس سے پورے آبی علاقوں  میں پانی کے زمین میں جذب ہونے اور زیرِ زمین پانی کی بحالی میں بہتری آئی۔

وجیانگرم کی کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار زیرِ زمین پانی کا انتظام صرف انجینئرنگ اقدامات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے لیے عوامی فعال شراکت بھی ضروری ہے۔ کسانوں، گرام پنچایتوں، مقامی برادریوں، فرنٹ لائن کارکنوں اور ضلعی انتظامیہ نے مل کر ان روایتی آبی ذخائر کو دوبارہ زندہ کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی پانی کو دوبارہ جذب کرنے کی صلاحیت کھو چکے تھے۔ ان کی شمولیت جن بھاگیداری کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے، جس نے پانی کے تحفظ کو ایک عوامی قیادت والی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔

جیسے جیسے بھارت جل سنچئے جن بھاگیداری: کیچ دی رین مہم کو آگے بڑھا رہا ہے، وجیانگرم اس بات کی ایک متاثر کن مثال کے طور پر سامنے آیا ہے کہ کس طرح روایتی آبی ذخائر کی بحالی زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھر سکتی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک کو بہتر بنا سکتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے آبی وسائل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔

وزیر اعظم کے پیغام ‘‘جہاں بارش ہو، جب بارش ہو، اسے محفوظ کریں’’  کی عکاسی کرتے ہوئے ضلع نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ہر بحال شدہ تالاب، ہر تجدید شدہ پانی کی رسائی والی نالی اور ہر شریک شہری پانی کے تحفظ سے بھرپور اور محفوظ بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 

jal shakti 1.png

jal shakti 2.png

 

***

ش ح۔ ع و۔ م الف

U. No- 1057


(रिलीज़ आईडी: 2292662) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी