دیہی ترقیات کی وزارت
وی بی-جی رام جی کے تحت روزگار کی ضمانت اور ذریعۂ معاش میں معاونت
प्रविष्टि तिथि:
31 JUL 2026 5:15PM by PIB Delhi
وکست بھارت-گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن ( گرامین) (وی بی-جی رام جی) ایکٹ، 2025 یکم جولائی 2026 سے نافذ ہو گیا ہے۔ اس کا مقصد مضبوط قانونی فریم ورک کے ذریعے دیہی گھرانوں کے ذریعۂ معاش کے تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے تحت 125 دنوں کے یقینی اجرتی روزگار کی فراہمی، پائیدار اور پیداواری دیہی اثاثوں کی تعمیر، پائیدار ذریعۂ معاش کو فروغ دینا اور دیہی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
یہ ایکٹ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی دیگر اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے حکومت کے تمام شعبوں پر مشتمل حکمتِ عملی (ہول آف گورنمنٹ اپروچ) کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس میں پانی سے متعلق کاموں، بنیادی دیہی ڈھانچے، ذریعۂ معاش سے متعلق بنیادی سہولیات اور شدید موسمی حالات کے اثرات کو کم کرنے والے کاموں پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی منصوبہ بندی، عمل درآمد، نگرانی اور شفافیت کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
ایکٹ کی دفعہ 22 کی ذیلی دفعہ (2) کے مطابق، مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے درمیان فنڈ کی شراکت کا تناسب شمال مشرقی ریاستوں، ہمالیائی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر) کے لیے 90:10 ہوگا، جبکہ قانون ساز اسمبلی رکھنے والی دیگر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے یہ تناسب 60:40 ہوگا۔
موجودہ مالی سال 27-2026 کے لیے اس اسکیم کے لیے مرکزی حصے کے طور پر 95,692.31 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے، جو بجٹ تخمینے کے مرحلے پر دیہی روزگار کے لیے اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ ریاستی حصے کی متوقع شمولیت کے ساتھ، اس پروگرام کا مجموعی بجٹ 1.51 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جس سے دیہی علاقوں میں تبدیلی کے عمل، بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور آمدنی میں اضافے کو نمایاں طور پر تیز کرنے کی توقع ہے۔
وی بی-جی رام جی ایکٹ، 2025 کے تحت ہر ایسے دیہی گھرانے کے لیے مالی سال میں یقینی روزگار کی مدت کو 100 دن سے بڑھا کر 125 دن کر دیا گیا ہے، جس کے بالغ افراد غیر ہنرمند دستی کام کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہوں۔ یہ ایکٹ روزگار فراہم کرنے والے کارکنوں کے قانونی حقوق کو مزید مضبوط بناتا ہے، جس کے تحت مقررہ مدت میں روزگار فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں بے روزگاری الاؤنس اور اجرت کی ادائیگی میں تاخیر پر معاوضے کی واضح فراہمی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، رجسٹریشن اور روزگار کے مطالبے کے لیے آسان طریقۂ کار بھی فراہم کیا گیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت اجرت کی ادائیگی ڈی بی ٹی-اسپرش پلیٹ فارم کے ذریعے کی جاتی ہے، تاکہ کارکنوں کے بینک کھاتوں میں اجرت کی بروقت، شفاف اور جواب دہ منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، اسکیم کے نفاذ میں گرام پنچایت اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔
وی بی-جی رام جی ایکٹ، 2025 اسکیم کے مؤثر نفاذ اور اہل دیہی گھرانوں، بشمول کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکنوں تک بروقت فوائد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی، جائزہ اور شکایات کے ازالے کا ایک جامع ادارہ جاتی نظام فراہم کرتا ہے۔اس اسکیم کے نفاذ کی نگرانی ٹیکنالوجی پر مبنی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس)، مختلف سطحوں پر باقاعدہ جائزہ اجلاسوں، سماجی آڈٹ، معائنوں اور ایکٹ کے تحت مقرر کردہ دیگر نگرانی کے طریقۂ کار کے ذریعے کی جاتی ہے۔ایکٹ میں بلاک اور ضلع سطح پر شکایات وصول کرنے اور ان کے ازالے کے لیے پابندوقت اور متعدد سطحوں پر مشتمل شکایتی ازالہ نظام بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت وقتاً فوقتاً ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی معاونت، صلاحیت سازی اور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔یہ تمام اقدامات شفافیت، جواب دہی، مؤثر خدمات کی فراہمی اور وی بی-جی رام جی ایکٹ، 2025 کی دفعات کے مطابق اسکیم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے مقصد سے کیے گئے ہیں۔
یہ معلومات دیہی ترقی کے وزیر مملکت جناب کملیش پاسوان نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
********
ش ح۔ م م۔ ش ب ن
U-NO-1059
(रिलीज़ आईडी: 2292645)
आगंतुक पटल : 8