قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے جمع کنندگان/ارکان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیمی) ایکٹ اینڈرولز، 2023 کے ذریعے مختلف اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 1:28PM by PIB Delhi

کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز (ایم ایس سی ایس) ایکٹ، 2002 کے تحت رجسٹرڈ کوآپریٹو سوسائٹیاں خود مختار کوآپریٹو اداروں کے طور پر کام کرتی ہیں اور اپنے اراکین کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں۔

ایم ایس سی ایس ایکٹ، 2002 میں تحقیقات، معائنہ، سوسائٹیوں کو ختم کرنے، لیکویڈیٹرز کی تقرری، جرائم، سزاؤں اور جرائم کا نوٹس لینے سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ جب بھی کسی شکایت سے قابل دست اندازی جرم، جیسے دھوکہ دہی، فریب دہی یا امانت میں خیانت وغیرہ کے ارتکاب کا انکشاف ہوتا ہے، تو معاملہ متعلقہ ریاستی پولیس، اقتصادی جرائم شعبہ (ای او ڈبلیو)، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) یا دیگر مجاز تفتیشی اداروں کو، حسبِ ضرورت، قانون کے مطابق تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

لیکویڈیشن کے تحت موجود سوسائٹیوں کے اثاثوں کی وصولی اور واجبات کی ادائیگی کا عمل ایم ایس سی ایس ایکٹ، 2002 اور متعلقہ رولز کے مطابق لیکویڈیٹر کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ مجرمانہ معاملات میں تحقیقات اور قانونی کارروائی متعلقہ فوجداری قوانین کے تحت مجاز تفتیشی اداروں اور عدالتوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مرکزی رجسٹرار کا دفتر تفتیشی اداروں یا عدالتوں کی جانب سے طلب کیے جانے پر ریکارڈ، دستاویزات اور دیگر معلومات فراہم کرکے ضروری تعاون کرتا ہے۔

کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے جمع کنندگان/ارکان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیمی) ایکٹ  اینڈرولز، 2023 کے ذریعے متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  1. اراکین کی شکایات کے ازالے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے کوآپریٹو محتسب مقرر کیا گیا ہے، جبکہ شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کی جانب سے اطلاعاتی افسر مقرر کیے گئے ہیں۔
  2. بیک وقت آڈٹ (کنکرنٹ آڈٹ) کے آغاز، یکساں اکاؤنٹنگ اور آڈٹ معیارات کے تعین اور اعلیٰ سطح کی کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کی آڈٹ رپورٹس کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے ذریعے آڈٹ اور حساب کتاب کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔
  • III. حکمرانی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں سالانہ رپورٹس میں بورڈ کے غیر متفقہ فیصلوں کا انکشاف، ڈائریکٹروں کی نااہلی کے لیے اضافی بنیادیں اور ایسے معاملات میں ڈائریکٹروں کی شرکت پر پابندی شامل ہے جہاں ان کا یا ان کے رشتہ داروں کا مفادات کا ٹکراؤ موجود ہو۔
  1. بچت اور قرض کے کاروبار سے وابستہ کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے احتیاطی ضوابط (لیکویڈیٹی، ایکسپوژر وغیرہ) طے کیے گئے ہیں اور زیادہ محفوظ سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق دفعات کو ازسرنو مرتب کیا گیا ہے۔
  2. دھوکہ دہی یا غیر قانونی طریقے سے کام کرنے والی سوسائٹیوں کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے مرکزی رجسٹرار کو اختیارات دے کر ضابطہ جاتی نگرانی کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
  3. ایسی سوسائٹیوں کو ختم کرنے (وائنڈنگ اپ) کے لیے بھی انتظام کیا گیا ہے، جنہوں نے دھوکہ دہی یا غلط بیانی کے ذریعے رجسٹریشن حاصل کی ہو، تاہم اس کے لیے مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
  4. سوسائٹیوں کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں خارج کیے گئے اراکین کے اخراج کی کم از کم مدت کو ایک سال سے بڑھا کر تین سال کرنا شامل ہے۔

یہ معلومات وزارتِ قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارتِ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

********

ش ح۔  م م۔ ش ب ن

U-NO-1051


(रिलीज़ आईडी: 2292615) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil