خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم بچوں میں صنفی تناسب  اور لڑکیوں و خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کے حل میں معاون  ہے


یہ اسکیم بنیادی طور پر ملک بھر میں بچیوں کے بارے میں سوچ اور رویّے میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے سماجی اور طرزعمل کی تبدیلی پر توجہ مرکوز کرتی ہے

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 2:08PM by PIB Delhi

بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) بچوں میں صنفی تناسب (سی ایس آر) اور لڑکیوں و خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کے حل میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ اسکیم مختلف فریقوں کو معلومات فراہم کر کے، متاثر کر کے، ترغیب دے کر، شامل کر کے اور بااختیار بنا کر بچیوں کے بارے میں سوچ اور رویّے میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ 15ویں مالیاتی کمیشن کے دورانیے میں مشن شکتی کے سمبل  ورٹیکل کے تحت ایک جزو کے طور پر بی بی بی پی کو وسعت دی گئی ہے تاکہ ملک کے تمام اضلاع کا احاطہ کیا جا سکے اور کثیر شعبہ جاتی اقدامات کے ذریعے ان سرگرمیوں پر زیادہ اخراجات کی حوصلہ افزائی کی جا سکے جن کے زمینی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ بی بی بی پی نے مختلف فریقوں، جن میں سرکاری ادارے، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام عوام شامل ہیں، کو متحرک کر کے ایک پالیسی اقدام سے قومی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔

بی بی بی پی بنیادی طور پر ملک بھر میں بچیوں کے بارے میں تصور اور رویّے میں سماجی اور طرزِ عمل کی تبدیلی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ بی بی بی پی کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کے مستفید ہونے والوں کی تعداد کو ناپا نہیں جا سکتا۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، قومی سطح پر پیدائش کے وقت صنفی تناسب(ایس آر بی) سال 2014-15  میں 918 سے بڑھ کر سال 2025-26 (عارضی) میں 929 ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مرکز کے زیر انتظام خطہ دہلی میں پیدائش کے وقت صنفی تناسب میں بہتری کا رجحان دیکھا گیا ہے، جو 2014-15  میں 901 سے بڑھ کر 2025-26 (عارضی) میں 915 ہو گیا ہے۔ وزارت تعلیم کے یو ڈی آئی ایس ای اعداد و شمار کے مطابق، قومی سطح پر ثانوی سطح کے اسکولوں میں لڑکیوں کے مجموعی داخلہ تناسب  میں اضافہ ہوا ہے، جو 2014-15  میں 75.51 فیصد سے بڑھ کر 2025-26 میں 83.4 فیصد ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مرکز کے زیر انتظام خطہ دہلی میں ثانوی سطح کے اسکولوں میں لڑکیوں کا مجموعی داخلہ تناسب 2014-15 میں 99.13 فیصد سے بڑھ کر 2025-26 میں 108.3 فیصد ہو گیا ہے۔

یہ معلومات وزیر مملکت برائے خواتین و اطفال کی ترقی، محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

 

***

ش ح۔ ع و۔ م الف

U. No- 1036


(रिलीज़ आईडी: 2292583) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil